عورت - ظالم بھی مظلوم بھی (دوسری قسط)

علامہ اقبال نے سونے سے لکھنے قابل بات کہی تھی کہ ”وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ“

افسوس ہوتا ہے ان لوگوں پر جو انسانی شکل و وجود رکھنے کے باوجود صفتِ درندگی کے حامل ہیں۔ جو بولتے بھی ہیں اور سوچتے بھی مگر عورت کو صرف ہوس کی پیاس بھجانے کا زریعہ سمجھتے ہیں یا کام کرنے والی مشین۔
میں کس کس بات کا رونا روؤں
نسل در نسل داستانیں رقم ہیں۔

عورت بہن بنی تو بھائی کے پاؤں تلے روندی گئی۔ بیوی بنی تو شوھر کے مظالم سہے۔ اور عورت جب ماں بنی تو اولاد کا دکھ لے بیٹھی۔ ہر طرف سے دبتی آئی اس مخلوق کی مظلومیت پر کچھ لکھتے قلم لرز اٹھتا ہے۔

اسلام سے پہلے عورت کا مقام کیا تھا یہ سن سن کر دل اکتا چکا۔
زندہ دفنانے سے لے کر قتل ہونے تک کے واقعات موجود ہیں جن سے سب ہی واقف ہیں۔

آج پندرہ سو سال گزر جانے کے باوجود اگر عورت زندہ دفنائی نہیں گئی تو اپنائی بھی نہیں گئی۔
ضروری نہیں من مٹّی تلے دبایا جائے۔ یہ تو تب ہی درگور ہوجاتی ہے جب ناجائز ظلم تلے آتی ہے۔

ایک اور اہم مسئلے کی طرف توجہ بھی نہایت ضروری ہے۔ وہ ہے ”وراثت“۔

یہ بھی پڑھیں:   خدا اور ملحد

نوّے فیصد خواتین آج بھی حصّۂ وراثت سے محروم ہیں۔ جسکی بے شمار مثالیں ہیں۔
اور اس گھٹیا رواج کا اثر ہمارے گاؤں دیہاتوں میں زیادہ ہے۔ جبکہ پڑھے لکھے شہروں میں بسنے والے سمجھدار افراد بھی خود کو بے وجہ عذاب کا مستحق بنائے ہوئے ہیں۔
عورت حسبِ روایت دبا دی جاتی ہے، وراثت سے محروم کر دی جاتی ہے اگر غلطی سے آواز اٹھا بھی دے تو اگلے ظلم کے لئے تیار ہونا پڑتا ہے جس کو سہنے سے وہ قاصر ہوتی ہے۔
اور پھر اچھے خاصے سلجھے ہوئے سمجھدار افراد اس گھٹیا رواج کو روا رکھتے ہیں۔

کیا عورت کا حق نہیں یا اسلام میں دیا نہیں گیا۔؟

اسلام نے مرد کا مکمل جبکہ عورت کا نصف حصّہ مقرر کیا۔ اس نصف سے بھی اسے محروم کر نا خود کو خدا کی رحمت سے محروم کرنے کے سوا کچھ نہیں۔
عورت کا وراثت سے محرومی کا معاملہ اتنی شدّت پکڑتا جا رہا ہے کہ اندازہ مشکل ہے۔
یہ صرف ظلم کا حصّہ نہیں گناہ کبیرہ ہے اور سخت عذاب کی وعید بھی۔

چند پیسوں کی خاطر اپنے پیٹ میں جھنم کی آگ بھرنا اور اپنی آخرت تباہ کرنا مسلمان کا شیوہ نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   دعا سیریز 1: (کھانا کھانے سے پہلے کی دعا)

کیوں ہم اتنے غافل بنے پھرتے ہیں؟
کیوں اللہ کے عزاب کو دعوت دے رہے ہیں؟
کیوں اس فانی دنیا کے سکون کے لئے ابدی حیات کو خراب کرنے پر تلے ہیں؟

کیوں ہم اس بات کو نہیں سمجھتے کہ یہ عورت بیٹی ہے تو رحمت۔ بیوی ہے تو دکھ سکھ کا ساتھی۔
خدا کی قسم عورت کے بغیر ہر طرح سے ہر شخص ناقص و نا مکمل ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایسا کیوں ہے۔ !
کیا اس کے ذمہ دار معاشرے کے وہ لوگ تو نہیں جو اختیارات رکھتے ہوئے بھی اس لیے خاموش ہوجاتے ہیں کہ اس میں ہمارا کوئی تعلق نہیں۔ جبکہ ایسا ہونا نہیں چاہیے۔
معاشرہ ایک فرد کا نام نہیں بلکہ یہ اجتماعی گروہ کا نام ہے۔ ان کے رہن سہن، طور طریقے، سب آپس میں ملتے ہیں۔

یہاں یہ بھی ایک المیہ ہے کہ عورت پر جب ظلم و جبر کے پہاڑ توڑے جائیں تو بجائے مجرم کو سزا دینے کے عورت ہی کو دبا دیا جاتا ہے صرف اس بات کے پیشِ نظر کہ بدنامی کا سامنا ہوگا یا پھر یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ ہمارے ہاں عورت کو سامنے نہیں لایا جاتا۔
اس دقیانوسی سوچ کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ظالم اپنے ظلم میں مزید اضافہ کرتا چلا جاتا ہے !!

یہ بھی پڑھیں:   خواتین کے لیے متوازن غذا

ہم کسی قانون و آئین کی بات نہیں کرتے اور اس معاملے میں قانون آئین کے سہارے کی ضرورت نہیں۔ ہم اپنے مذہب کی بات کرتے ہیں اپنے نبیؑ کی بات کرتے ہیں۔ آج سے چودہ سو سال قبل تفصیلی ہدایات مل چکیں۔ جس میں کسی غلطی کا گمان کرنا کفر ہے۔ قرآن و حدیث سے لے کر ہر سمجھدار عام و خاص مصنفین کی کتب میں تفصیلاََ درج ہیں۔
یہاں ذکر کرنا سمندر کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف ہے۔

جاری ہے

تحریر: محمد عرفان السعید

تمام قسطیں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

(47 مرتبہ دیکھا گیا)

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں