عورت - ظالم بھی مظلوم بھی

عورت شیطان کا جال ہے۔ ہر عام و خاص مرد اس جملے کو بخوبی جانتا ہے۔
اور اس جملے کی آڑ میں نہ جانے کیا کیا کرتب دکھاتا ہے۔
عورت ایسی عجیب قوم ہے کہ اس پر جتنا لکھا جائے کم ہے۔
یہ کبھی ظالم کے روپ میں ملے گی اور کبھی مظلوم کے۔ ظالم ہو یا مظلوم مگر کمزور ضرور ہے۔ یہ بھی مشہور جملہ ہے۔ میرا نہیں ہے۔
میں چونکہ کنوارہ ہوں۔ ابھی تک قبول ہے، قبول ہے، والے میدان کارزار میں نہیں اترا.. !! ”نہ غازی ہوں نا شھید۔ نہ قابض ہوں نہ مقبوض۔ نہ جارح ہوں نا مجروح۔ مختصر یہ کہ ہر طرف سے عورت سے محفوظ ہوں۔
ہاں۔ اگر فی الحال کوئی عورت قریب ہے تو وہ ماں ہے۔ اور ماں ایک الگ مستقل موضوع ہے جس پہ پھر کبھی قلم دوڑائینگے۔
کنوارہ ہوں لیکن بینائی ٹھیک ہے۔
کمزور سہی لیکن دماغ ہے۔
ناقص سہی لیکن عقل ہے۔
زخمی سہی لیکن دل ہے۔
جس کی وجہ سے معاشرے کو ایک حد تک جانتا ہوں۔ !!
اب دو موضوع ہیں ایک مظلوم اور دوسرا ظالم۔
انتہائی کشمکش کا شکار ہونے کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ پہلے عورت کی مظلومیت پر کچھ لکھ دوں۔ پھر اگر ان لوگوں کے تیروں سے بچ نکلا جو عورت کو صرف اپنی ھوس کی تسکین کا ذریعہ سمجھتے ہیں تو اس صنفِ نازک کے ظلم سے بھی پردہ اٹھائینگے۔
عورت مظلوم ہے ماں،.بیٹی،.بہن کے روپ سے بیوی تک۔
یہ وہ ذات ہے جو ماں کے روپ میں ہو تو اولاد، بہن کے روپ میں ہو تو بھائی، بیٹی کے روپ میں والد، اور بیوی کے روپ میں ہو تو شوھر کے نیزوں سے مجروح القلب ہے۔
تمام پہلوؤں کی ایک لمبی لمبی تفصیل ہے۔ اختصار پر عمل کرتے ہوئے کوشش رہے گی کہ خاص اور ضروری باتیں گوش گزار کر ڈالوں۔
دورِ حاضر میں عورت کی مظلومیت بہو بننے کے بعد جنم لیتی ہے۔
پہلا دور تھا جب عورت بشکلِ باندی سرِبازار فروخت ہوتی۔ پیسہ دے کر خریدا جاتا اور کام لیا جاتا۔
اب وہ دور ہے کہ عورت لاکھوں کروڑوں کی مالیت بصورتِ جہیز لے کر آنے کے باوجود بھی ذلیل ہے۔
مرد جو خود سارا دن باہر بیوی کی نظروں سے اوجھل اپنے نفس کا مرید بن کر جو گل کھلائے اسکی مرضی۔
لیکن گھر میں قید عورت اگر اپنی ماں کے گھر دو گھنٹے زیادہ رک جائے تو کفر۔
شوھر جو اپنی بیوی کے سوا تمام عورتوں سے ذلیل ہونا بھی گوارہ کرے اور بیوی کے نمک تیز ہونے پر اسکے اندر شیطان جاگ اٹھے۔
عورت کے ہاتھوں پکی روٹی گول نہ ہوئی تو عیب، کھانے میں مرچ یا نمک مزاج کے مخالف ہوا تو عیب۔
مرد کب کیا کر رہا ہے یہ پوچھنے کا حق بیوی کو نہیں۔ ہاں عورت گھر میں قید ہونے کے باوجود کیا کرتی ہے شوھر پر پوچھنا واجب۔
میں اسکے خلاف نہیں کہ عورت سے پوچھ تاچھ غلط ہے۔ لیکن شوھر سے ایک حد تک پوچھ تاچھ کا حق بیوی کو کیوں نہیں۔۔۔؟؟؟
میں عورت کی آزادی کا قائل نہیں۔
میں تو اس کا قائل ہوں کہ ”عورت آزاد معاشرہ برباد“ !!
لیکن میں اس ”آزاد“ کے جملے کی آڑ میں ہوتے ظلم کے خلاف ضرور ہوں۔
کسی ظالم شوھر سے اگر کوئی کہہ دے کہ کیوں بیوی پر ظلم کرتے ہو تو اسکا جواب آتا ہے ”عورت کو آزار نہیں رکھنا“۔ واہ بھئی۔!!
بیوی کے پاؤں میں بیڑیاں ڈالنا باقی ہیں گرفتاری تو بعدِ نکاح ہی ہو چکی۔
جہیز، گاڑیاں، بنگلے کی فرمائش کرنے والے کم ظرف شوھر سے بیوی پھر بھی بس ایک مانگ کرتی ہے کہ سب لے لو مگر ”وفادار“ رہنا۔
بیوی کے پلنگ پر سونے اور بیوی کے صوفے پر ٹیک لگا کر بیٹھنے کے بعد بیوی پر ناجائز ظلم کرنے والے کو شرم سے ڈوب مرنا چاھیے۔
اسکے علاوہ ان گنت باتیں جو لکھنا مناسب نہیں۔
یہ سب باتیں ایک طرف۔
چلو ٹھیک ہے بیوی پر ظلم تنبیہ مان لیا۔
”مگر یہ بیٹی کی پیدائش پر بیویوں کو طلاق میری سمجھ میں نہیں آتی۔
میں اپنی آنکھوں سے ان زخمی خواتین کو دیکھ چکا ہوں جو بیٹی پیدا کرنے کے بعد شوھر اور سسرال کے ہاتھوں ظلم کا شکار ہوئیں۔
میں ان خواتین کو بھی جانتا ہوں جو دو بیٹیوں کی پیدائش کے بعد اپنے گھر بھیج دی گئیں۔ طلاق ہوئی، قتل ہوئی، آگ لگائی گئی، تیزاب پہینکا گیا۔ اور نہ جانے کیا کیا۔ بیاں سے قاصر ہوں۔
تف ہے عورت کے بطن سے پیدا ہو کر عورت کو حقیر سمجھنے والے پر۔
عورت کے رَحم سے آ کر عورت پر بے رحمی نہایت قابلِ افسوس و شرمناک بات ہے۔
؎
اگر حق بات کہتا ہوں مزہ الفت کا جاتا ہے
اگر خاموش رہتا ہوں کلیجہ منہ کو آتا ہے

یہ بھی پڑھیں:   تخریب میں تعمیر

جاری ہے

تحریر: محمد عرفان السعید

(277 مرتبہ دیکھا گیا)

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں