عورت کی آزادی

کہتے ہیں عورت کی آزادی جدید دور کی مرہونِ منت ہے۔ اب عورت کئی میدانوں میں مرد کے شانہ بشانہ کام کر رہی ہے۔

عورت ڈاکٹر بھی ہے۔ سائنس دان بھی ہے۔

سیاست دان بھی ہے اور دوسرے کاموں میں بھی آگے ہے۔

تسلیم۔۔۔۔!!

آپ کی بات سے کوئی انکار نہیں کہ جدید تہذیب کے نام پر عورت کو گھر سے باہر نکالنا تو آپ نے اپنی اولین ترجیح ہی رکھی ہے۔

لیکن اس کی تعداد کتنی ہے؟

دنیا بھر میں عورتوں کی کتنی تعداد ہے؟

اور ان میں سیاست، سائنس اور دوسرے شعبوں میں کتنی عورتیں شامل ہیں؟ اور ان دونوں اعداد کا اوسط کیا بنتا ہے؟

آپ کے جدیدیت کے اس نعرے سے آنے والی اس تبدیلی سے کوئی آنکھیں نہیں چرا رہا۔ لیکن یہ تعداد اتنی کم ہے کہ اس کا شمار چہ معنی۔؟

میں نے ایک تحریر لکھی تھی:

"جدیدیت کی آڑ میں عورت کو آزادی کا جھانسہ دے کر مرد نے جس خوبی سے استعمال کیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔
آج کی "جدید عورت" اپنے ساتھ اٹ کھیلیاں کروا کر سمجھتی ہے کہ وہ آزاد ہے۔ Independent ہے۔
کسی نے مجھ سے پوچھا کہ کیا آپ واقعی عورت کی عقل کے نقص کے قائل ہیں؟
میں نے کہا بالکل ہوں!
کہنے لگے اس کی کوئی وجہ؟
میں نے کہا دیکھو سیدھی سی بات ہے۔ ہزاروں سال سے مردوں نے خواتین کو حقوق نہیں دیے تھے اس لیے وہ آگے نہیں بڑھ سکیں، یہ بات سمجھ میں آتی ہے۔ لیکن یہ جو پچھلے ڈیڑھ صد سالوں میں تم نے آزادی کا نعرہ لگایا ہے اس کے بعد عورت میں کوئی قابلِ ذکر ایسی بات آئی ہے جو الگ ہو؟
دنیا میں آج بھی بڑے سائنس دانوں سے لے کر بڑے فلاسفہ اور علماء، صلحا اور شعرا سے لے کر انٹرپرینیرز تک اور مارک زکر برگ سے لے کر سٹیو جابز تک سب کے سب مرد ہی کیوں نظر آتے ہیں؟
کیونکہ مرد اس وقت بھی حاکم تھا۔ آج بھی حاکم ہے۔ عورت اس وقت بھی معتوب تھی اور آج بھی دل لبھانے کا ایک ایسا کھلونا ہے جسے بے وقوف بنا کر "عمومی فائدے" کے لیے یونیورسل سطح پر استعمال کیا جارہا ہے۔
ورنہ بتاؤ! تمہیں آج کی تاریخ اور ابھی کے وقت تک کسی مرد پورن سٹار کا نام معلوم ہے؟
نہیں نا؟
پورن سٹار عورتوں کے نام ضرور معلوم ہونگے۔
کبھی ٹھنڈے دماغ سے فیصلہ کرنا۔
جدیدیت کے نعرے لگا کر کوئی فائدہ نہیں ہے۔
کبھی کولہو کا بیل دیکھا ہے؟ عورت کولہو کا بیل ہی ہے۔
جو اسی دائرے میں گھومتا رہتا ہے اور نعرے لگاتا ہے کہ میں آزاد ہوں!!!"

یہ بھی پڑھیں:   انا الحق - ہمارے تکفیری رویے

اس تحریر سے بہت لوگوں کو شکوہ ہے کہ میں نے عورتوں کو ہر شعبے سے الگ کردیا۔ اور جذبات میں آکر لوگوں نے خواتین لکھاری اور مرد پورن سٹارز کے نام بتانے شروع کر دیے۔

عرض ہے کہ معاشرے کی تھوڑی نچلی سطح پر آجائیے۔ اور عورت کی آزادی کے ارضی معنی سمجھنا شروع کیجیے تو آپ کے سامنے آتا ہے کہ ایک ہزار سال پہلے عورت باپ کی، بیٹے کی، بھائی کی یا شوہر کی غلام ہوا کرتی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:   پاکستانی ڈاکٹروں کا حال

لیکن وہی عورت آج ان چار کے علاوہ سب کی غلامی کرتی ہے۔ اور اپنے آپ کو پھر آزاد کہتی ہے۔

وہ اتنی آزاد ہے کہ شوہر کے علاوہ معاشرے کے ہر فرد کے لیے سجتی ہے۔ لیکن شوہر کے ساتھ کوئی دن بغیر منہ ماری کے نہیں گزرتا۔

باس (boss) کو خوش رکھنے کے لیے کڑوے گھونٹ تک پی جاتی ہے۔ لیکن نوکری ہاتھ سے جانے نہیں دیتی۔

کبھی اِس روڈ پر اور کبھی اُس روڈ پر اپنے جسم کے خد و خال نمایاں کرکے ایک بڑے سے بل بورڈ پر "اسپغول کے چھلکے" کا ایڈ کرتی ہے۔

کبھی کسی کمپنی کی لان کی مارکیٹنگ کے لیے اُسے سیدھا لٹایا جاتا ہے اور کبھی کسی سیلولر نیٹورک سروس کے اشتہار کے لیے اُلٹا لِٹا دیا جاتا ہے۔

در اصل اُسے پچھلی صدی میں ہی یہ سمجھایا جاچکا تھا کہ جس طرح مرد کی شان اس کی مونچھ ہوتی ہے اسی طرح عورت کی شان اس کے نمایاں خال و خد میں ہیں۔

اور پھر کیا ہوا؟

آزادی کے نام پر عورت کے کپڑے چھوٹے ہی ہوتے چلے گئے۔

یہ بھی پڑھیں:   سالِ نو کے عزائم اور ہم

یہاں آکر پھر وہی گھسا پٹا طعنہ دیا جاتا ہے کہ میاں آپ کے دماغ اور آپ کی نظر میں فحاشی بھری ہوئی ہے اس لیے آپ کو سب کچھ غلط نظر آتا ہے۔

لیکن کوئی ان سے پوچھے کہ جس چیز کو تم نے نمایاں کرکے، اجاگر کرکے نمائش کے لیے بازار کا زیور بنایا ہے اس میں سوائے جنسی تناؤ پیدا کرنے کے اور کیا مصلحت پنہاں ہے؟

یہ بات البتہ کسی کوڑھ مغز کی سمجھ میں نہیں آتی کہ معاشرے کی اِس نچلی سطح پر آزادی کا مطلب نہ تو علوم و فنون کا حصول ہے، نہ ترقی کی راہ میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ اگر یہی مطلب ہوتا تو اس رویے کی مزاحمت تو کبھی کسی معقول کا کام نہیں رہا۔

آپ والی آزادی کا راز تو در حقیقت سال کے چھ بوائے فرینڈز، ماں اور باپ کو دقیانوسیت کے طعنے اور تن ڈھاپنے یا مناسب چادر سر پر لینے کی تلقین کرنے والوں کو شدت پسند کہنے میں ہی پنہاں ہے۔

(595 مرتبہ دیکھا گیا)

مزمل شیخ بسمل

سلجھا ہوا سا فرد سمجھتے ہیں مجھ کو لوگ الجھا ہوا سا مجھ میں کوئی دوسرا بھی ہے

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

8 تبصرے

  1. کوئی ہم خیال تو ملا

  2. Faheem says:

    بہت عمدہ
    اس موضوع پر مفتی تقی عثمانی صاحب مد ظلہم نے بھی اپنی کتاب ہمارے عائلی مسائل میں بہت اچھا کلام کیاہے، قابل مطالعہ ہے

  3. Azeem ul haq says:

    Bohat khob Bismil Bhai

  4. Abdullah bin shaukat says:

    bahot khub. dil khush hogaya. jiddat ke naam par jo khwateen ka istehsal ho raha hai,, uski aap ne khub manzar nigari ki hai.

تبصرہ کریں