غزل بر زمینِ سودا از: یاس یگانہ


یاس عظیم آبادی کو کون نہیں جانتا۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ یاس کا نام سن کر اکثر لوگوں کا خون جوش مارنے لگتا ہے، دل میں ایک عجیب ہی گستاخ اور بے ادب انسان کا خاکہ بن جاتا ہے۔ مگر کوئی بات نہیں۔

 بات تو یہ ہے کہ بد نام اگر ہونگے تو کیا نام نہ ہوگا؟؟؟ یہ مثال یاس پر بالکل صادق آتی ہے۔ یاس کی بدنامی ہی انکی شہرت کا سبب ہے ورنہ شاید ہی انہیں کوئی جانتا۔ خیر بات یہ تھی کہ یاسؔ یگانہ کے باقی کمال تو اپنی جگہ ہیں ان کا ایک کمال یہ بھی ہے کہ کسی بھی استاد شاعر کی زمین کو لیکر اس میں اپنی مہارت کے جوہر دکھاتے ہیں۔ اور جوہر بھی ایسے کہ کہیں تو استاد کی ٹکر اور کہیں تو تغزل میں استاد سے بھی آگے نکل جاتے ہیں۔ چناچہ ایک جگہ یاس یگانہ خود یوں رقمطراز ہیں:

یگانہ بنے یا امام الغزل
وہ جو کچھ بنے، بنتے بنتے بنے

دیکھنے والے دیکھ سکتے ہیں کہ اس تعلی میں بھی ایک سمائی اور انکسار چھپا ہے اور یگانہ بتلا رہے ہیں کہ میں کوئی پیدائشی کامل شاعر نہیں بلکہ بنتے بنتے، یعنی مشق اور استادوں کے پیر دھو دھو کر پینے کے بعد یہ فن مجھے حاصل ہوا ہے۔ یاس یگانہ کا غزل کہنے کا انداز نہایت ہی میٹھا اور پر لطف ہے، الفاظ کا چناؤ، اور پھر ان الفاظ کو مصرعوں میں موزوں کر دینے پر یگانہ کو اتنی مہارت حاصل ہے کہ ان کے کلام میں اکثر غیر مانوس الفاظ بھی مانوس محسوس ہوتے ہیں، اور کلام میں الفاظ کی نشست بھی نہیں بگڑنے دیتے۔ کہیں کہیں ایک عام انسان کی زبان میں بات کرتے ہیں مگر مضمون ایسا ہوتا ہے کہ دل پر اثر کرتا ہے اور فوراً شہاب الدین احمد (صاحب ِ عقد الفرید) کی تعریف دماغ میں گونج جاتی ہے:

وَإِنّ اَحسَنَ بَیْتٍ انت قائلہٗ
بَیْتٌ یُقال اذا انْشَد تَّہٗ صَدَقا

ابھی کچھ دیر پہلے یگانہ کی ایسی ہی غزل نظر سے گزری تو سوچا قارئین کی نذر کردوں۔ غزل مرزا رفیع سوداؔ کی زمین میں ہے تو ساتھ ہی سودا کی غزل بھی پیشِ خدمت ہے۔ آپ حضرات پڑھینگے تو سمجھ ہی لینگے کہ یگانہ حقیقت میں ایک جدید اور قادر الکلام شاعر ہیں جس سے انکار کرنا زیادتی ہے:

غزلِ یگانہ

یکساں کبھی کسی کی نہ گزری زمانے میں
یادش بخیر، بیٹھے تھے کل آشیانے میں

صدمے دیے تو صبر کی دولت بھی دے گا وہ
کس چیز کی کمی ہے سخی کے خزانے میں

غربت کی موت بھی سببِ ذکرِ خیر ہے
گر ہم نہیں تو نام رہے گا زمانے میں

دم بھر میں اب مریض کا قصہ تمام ہے
کیوں کر کہوں، کہ رات کٹے گی فسانے میں

نکلی اب اپنی روح طلسمِ کثیف سے
ہیں جلوہ گر ہم آج اک آئینہ خانے میں

ساقی میں دیکھتا ہوں زمیں آسماں کا فرق
عرشِ بریں میں اور ترے آستانے میں

کیا مے کدے کی آب و ہوا راس آگئی
مر کر بھی دفن ہیں ہم اسی آستانے میں

دل میں بہارِ چہرۂ رنگیں کا دھیان ہے
یا جلوۂ بہشت ہے آئینہ خانے میں

اب کیا چھڑاؤ گے اس اسیرِ ہوس کو تم
زلفوں سے دل نکل کے پھر اٹکے گا شانے میں

فصلِ شباب آتے ہی دیوانے بن گئے
کیا کیا نہ سانگ لاتے ہیں لوگ اِس زمانے میں

دیواریں پھاند پھاند کے دیوانے چل بسے
خاک اڑ رہی ہے چار طرف قید خانے میں

صیاد اس اسیری٭ پہ سو جاں سے میں فدا
دل بستگی قفس کی کہاں آشیانے میں

رہ رہ کے جیسے کان میں کہتا ہے یہ کوئی
ہوں گے قفس میں کل جو ہیں آج آشیانے میں

افسردہ خاطروں کی خزاں کیا، بہار کیا
کنجِ قفس میں مر رہے یا آشیانے میں

ہم ایسے بد نصیب کے اب تک نہ مر گئے
آنکھوں کے آگے آگ لگی آشیانے میں

دیوانے بن کے ان کے گلے سے لپٹ بھی جاؤ
کام اپنا کر لو یاسؔ بہانے بہانے سے

٭ اسیری کی ی اصلی نہیں ہے لہٰذا گرانے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ میں نے یہ پابندی اپنے اوپر لازم نہیں کی ہے، نہ اساتذہ نے اس کی پابندی کی ہے۔ یاسؔ


غزلِ سودا

ناوک نے تیرے صید نہ چھوڑا زمانے میں
تڑپے ہے مرغ قبلہ نما آشیانے میں

کیونکر نہ چاک چاک گریبانِ دل کروں
دیکھوں جو تیری زلف کو میں دست شانے میں

زینت دلیل مفلسی ہے ٹک کماں کو دیکھ
نقش و نگار چھٹ نہیں کچھ اسکے خانے میں

اے مرغِ دل سمجھ کے تو چشم طمع کو کھول
تو نے سنا ہے دام جسے، ہے وہ دانے میں

چلے میں کھینچ کھینچ کیا قد کو جوں کماں
تیر مراد پر نہ بٹھایا نشانے میں

پایا ہر ایک بات میں اپنے میں یوں تجھے
معنی کو جس طرح سخن عاشقانے میں

دستِ گرہ کشا کو نہ تزئین کرے فلک
مہندی بندھی نہ دیکھی میں انگشت شانے میں

ہمسا تجھے تو ایک ہمیں تجھ سے ہیں کئی
جا دیکھ لے تو آپ کو آئینہ خانے میں

سوداؔ خدا کے واسطے کر قصہ مختصر
اپنی تو نیند اڑ گئی تیرے فسانے میں

(40 مرتبہ دیکھا گیا)

مزمل شیخ بسمل

سلجھا ہوا سا فرد سمجھتے ہیں مجھ کو لوگ الجھا ہوا سا مجھ میں کوئی دوسرا بھی ہے

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں