غلامی، لونڈیاں اور اسلام

اسلام کے مخالفین کی طرف سے یہ بہت بڑا اعتراض کیا جاتا رہا ہے کہ یہ آزاد انسانوں کو غلام اور لونڈیاں بناتا ہے اور انسانیت کی تذلیل کرتا ہے۔ اس مسئلے پر بہت سے کم علم مسلمان اور مغرب پرست مفکرین بڑا معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرتے ہیں۔ اور اس کو اسلام کا سیاہ پہلو سمجھتے ہیں۔ اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں کہ غلام لونڈیاں تو کوئی وجود ہی نہیں رکھتی تھیں۔ آئیے ذرا اس مسئلے کا عام فہم انداز میں جائزہ لیتے ہیں کہ اصل کہانی کیا ہے؟

غلامی کی تاریخ اور سلوک

غلامی کے مسئلے کی ابتداء کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ ان انسانی مسائل میں سے ہے جو اسلام سے بہت پہلے دنیا میں موجود تھے۔ اسلام سے قبل یونانی تہذیب ، رومی تہذیب ، ایرانی تہذیب ، ہند ، چین اور دیگر تمام جگہوں پر انسانوں کو بطور غلام استعمال کیا جاتا تھا۔ غلام بنانے کے بھی کوئی قواعد و ضوابط نہیں تھے۔ جو بھی کمزور ہوتا غلام بنا لیا جاتا۔ غلاموں سے انتہائی برا سلوک کیا جاتا تھا۔ ان سے دن رات کام لینا، ان کو مارنا پیٹنا، ان کی صحت و خوراک کا کوئی خیال نہ رکھنا، ان کو جانوروں کی طرح مرنے دینا اور ان کی خرید و فروخت عام تھی۔ یعنی ان کو انسانی سٹیٹس ہی حاصل نہ تھا۔ بلکہ وہ تو ایک طرح سے پالتو جانوروں کی طرح تھے جن سے مفت میں کام لیا جاتا تھا۔ باقی دنیا کی طرح عرب میں بھی ایسا ہی تھا۔

اسلام کی آمد اور اصلاحات

اسلام نے آتے ہی اس غیرانسانی سلوک سے اظہار نفرت کیا۔ جس آزاد یا غلام نے اسلام قبول کیا اس کو برابر کا درجہ دیا۔ بلال حبشی ، سلمان فارسی ، زید بن حارثہ اور دیگر بیسیوں مثالیں آپ کو ملیں گی۔ یہ لوگ غلام تھے لیکن اسلام قبول کرتے ہیں ان کو یک قلم برابری کے حقوق مل گئے۔ عرب کے اہل ثروت نے اسلام پر جو اعتراض کیے ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ یہ غلاموں کا دین ہے۔ یہ آقا اور غلام کو برابر کر دیتا ہے۔ رسول اکرم ﷺ کی زندگی میں ہی غلاموں کو جو عزت ملی اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ اسلام کے پہلے مؤذن بلال ایک حبشی کالے کلوٹے غلام ہی تھے۔ جن کو حضرت عمر جیسے بااثر افراد بھی سیدنا کہہ کر پکارتے تھے۔
پھر غلاموں سے جو سلوک اسلام کے سنہرے دور میں ہوا ہے سارا دور انسانیت اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ نہ قدیم تہذیب اور نہ موجودہ جدید مغربی تہذیب ہی اس خوبصورت ماحول کا ہم پلہ ہو سکتی ہے۔ لیکن یہاں پر ایک سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر اسلام نے غلاموں کو عزت دی، ان کو آزاد کروایا، غلامی سے نفرت کی تو پھر اسلام کی جنگوں میں غلام اور لونڈیاں کیوں بنائی گئیں؟ یہ ایک نہایت اہم سوال ہے۔ یہی سے تمام مغالطے شروع ہوتے ہیں۔ اسلام سے پہلے اور موجودہ جدید غیر اسلامی تہذیب میں جب بھی کسی فاتح نے کسی قوم ، ملک و شہر کو فتح کیا تو وہاں کے لوگوں شدید ظلم و ستم کیا۔ ان کو غلام لونڈیاں بنایا۔ زمانہ جاہلیت کی طرح ان کے کسی حقوق کا خیال نہ رکھا۔ زمانہ قدیم میں ایسے غلاموں اور لونڈیوں کو شخصی تحویل میں دے دیا جاتا تھا۔ جبکہ جدید زمانے میں ایسے تمام قیدیوں کو ادارہ جاتی سطح پر ریاست کی نگرانی میں غلام بنایا جاتا ہے۔ ان پر طرح طرح کے ستم روا رکھے جاتے ہیں۔ حالیہ عراق اور افغانستان کی جنگوں میں امریکہ کا رویہ دیکھ لیں۔ ساری انسانیت پوری طرح عیاں ہو جائے گی۔
اسلام نے اس مسئلہ میں جو اصلاحات کیں وہ یہ ہیں کہ کوئی مسلمان اپنی مرضی سے کسی غیر مسلم یا کمزور کو غلام نہیں بنا سکتا۔ اس مسئلے کو ریاست ہینڈل کرے گی۔ اور ریاست بھی جس کو چاہے غلام نہیں بنا سکتی۔ جن کفار قوموں سے معاہدہ ہو گا ان میں سے کوئی لونڈی غلام نہیں بنائے جائیں گے۔ پھر جنگ کے علاوہ اغواء کرکے لوٹ مار اور غلام بنانے کا کوئی تصور نہیں ہے۔ غلام اور لونڈیاں صرف اسی قوم میں سے بنائے جائیں گے جن کو اسلام کی دعوت دی گئی لیکن قبول نہ کرنے کی صورت میں مقابلہ ہوا اور فتح ہوئی۔ کسی معاہدے کی صورت میں اطاعت قبول کرنے اور جزیہ دینے والے کفار میں سے بھی لونڈی اور غلام بنانے کی اجازت نہیں ہے۔ اسلام سے پہلے جنگ ، اغواء ، لاوارث بچے ، ظالم حکومتیں ، مقروض افراد ، کمزور قبائل اور دیگر کئی صورتوں میں غلام لونڈیاں بنائے جاتے تھے۔ اور وہ نسل در نسل غلام ہی رہتے تھے۔ اسلام نے جنگ کے سوا باقی تمام صورتوں پر پابندی لگا دی۔
جنگ کی صورت میں غلام بنانے کو اس لیے جائز رکھا کہ اگر اس پر بھی پابندی لگا دی جاتی تو مفتوح آبادی کی اتنی بڑی انسانی کھیپ کدھر جاتی؟ ادارے کی صورت میں انسانوں کو جمع رکھنا اور کنٹرول کرنا ممکن نہیں ہے۔ انسان کوئی مشین نہیں ہیں کہ جیلوں میں بند کر دیے جائیں یا قیدیوں کے کیپمپ لگا کر ان کو باقی رکھا جائے۔ بلکہ اسلام نے اس صورت کو عارضی طور پر بحال رکھ کر مخالف قوم کے انسانوں کو اپنی آبادی میں ضم کرنے کا ایک بہترین حل رکھا ہے۔ اب غلام لونڈی جس کے حصے میں آئیں گے اس کو حسن سلوک کا حکم ہے۔ خلاف ورزی پر شدید وعید ہے۔ دنیا اور آخرت دونوں میں سزا ہے۔ پھر غلام آزاد کرنے کا بڑا اجر ہے۔ تاکہ آہستہ آہستہ یہ لوگ فاتح آبادی میں گھل مل جائیں اور رفتہ رفتہ آزادی کی نعمت بھی حاصل کر لیں۔ اور اگر اس دوران اسلام کی روشنی ان کو پسند آ گئی تو بھی آزادی اور ایڈجسٹمنٹ مل جائے گی۔ اسلام نے نہ صرف نظری طور پر بلکہ عملی طور پر بھی یہ سب کرکے دکھایا۔ دنیا نے غلاموں کو جرنیل بنتے ہوئے آنکھوں سے دیکھ لیا۔

یہ بھی پڑھیں:   انسانوں کی دو قسمیں اور الحاد

دور جدید اور غلامی

اسلام کے کئی صدیوں کے بعد ابھرنے والے خود ساختہ روشن خیال اور جدید تہذیب آج بھی جاہلیت کے طریقوں پر قائم ہے۔ ماضی میں سیاہ فاموں کے ساتھ ہونے والا سلوک اور حالیہ مفتوح قوموں کے قیدیوں اور عوام سے ہونے والا سلوک قدیم جاہلیت سے بدتر اور خوفناک ہے۔ جدیدیت کا دعویٰ کرنے والے آج تک اس مسئلے کو حل نہیں کر سکے۔ محض اسلام کے خلاف پروپیگنڈا وار جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   انسانی شخصیت پر دعا کے اثرات

خلاصہ

خلاصہ کلام یہ ہے کہ جب بھی کوئی قوم دوسری قوم پر فتح یا دسترس حاصل کرے گی تو انسانی غلامی کا مسئلہ ضرور اٹھے گا۔ لیکن اس کا پائیدار حل وہی ہے جو اسلام نے پیش کیا ہے۔ اسلام پر اعتراض کرنے والوں کی خدمت میں چند سوالات ہیں۔ شاید وہ ان کے درست جواب دے سکیں۔
کیا غلامی کا مسئلہ اسلام سے پہلے دنیا میں موجود نہیں تھا؟
کیا اسلام نے غلاموں کو بہترین حقوق نہیں دیے؟
کیا اسلام نے غلاموں کو آزاد کرکے معاشرے کا باعزت شہری نہیں بنایا؟
کیا دور حاضر کی جدیدیت میں غلامی ختم ہو چکی ہے؟
امید ہے کہ ان سوالوں کے جواب تلاش کرتے ہوئے اگر معترضین سے فطرت سلیم کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا تو انہیں اسلام کے دامن پر کوئی دھبہ نظر نہیں آئے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   مجھے پہچانو ، میں ہوں کون ؟

(285 مرتبہ دیکھا گیا)

یاسر غنی

یاسر غنی

یاسر غنی صاحب سائنس کے شعبے نباتیات میں ماسٹرز ہیں۔ فی الحال ایک کالج کے پرنسپل ہیں اشاعت و بلاغت میں سر گرم ہونے کے ساتھ مطالعے کو اپنا مشغلہ رکھتے ہیں۔ اور لوکل اخبارات میں "نشانِ منزل" کے عنوان سے کالم بھی لکھتے رہتے ہیں۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں