فتوی بازی کا الزام

سورج شمال سے طلوع ہوتا ہے اور جنوب میں غروب ہوتا ہے۔

ماؤنٹ ایورسٹ صرف تین ہزار میٹر بلند ہے۔

پانی دو سو ڈگری پر ابلتا ہے۔

نیوٹن کے مطابق ہر عمل کا رد عمل مقدار میں اس سے دگنا ہوتا ہے۔

پانی پستی سے بلندی کی طرف بہتا ہے۔

پانی مادے کی ٹھوس حالت کو کہتے ہیں۔

برف کو اگر منفی دس ڈگری تک ٹھنڈا کیا جائے تو وہ نائٹروجن گیس میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

زکام کا مریض کمپیوٹر کے پاس بیٹھے تو اس میں وائرس شفٹ ہو جاتا ہے۔

سورج کی سطح اتنی ٹھنڈی ہے کہ اس پر برف جمی ہوئی ہے۔

مادے کو فنا کیا جا سکتا ہے۔

زمین کی کمیت صرف پچاس لاکھ کلو گرام ہے۔

ایک نوری سال پانچ ہزار کلومیٹر کے برابر ہوتا ہے۔

مندرجہ بالا فقرے پڑھتے ہوئے یقینا آپ کا دماغ گھوم رہا ہو گا کہ یہ کیا بکواس کی جا رہی ہے۔ یہ معلومات تو یکسر غلط ہیں۔ ان پڑھ آدمی بھی اگر پہلے سے بے وقوف نہ ہو تو وہ بھی ان بیانات کو درست تسلیم نہیں کرے گا۔ سائنس کا ایک عام طالب علم بھی جانتا ہے کہ یہ معلومات دینے والا ذہنی طور پر نارمل انسان نہیں ہے یا کم از کم اسے سائنس کی الف ب بھی نہیں آتی۔ اور اس کی درج شدہ یہ معلومات غلط ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   سوشل میڈیا اور اظہار رائے کی آزادی

ان غلط معلومات کے مقابلے میں درست معلومات درج ذیل ہیں۔

سورج مشرق سے طلوع ہوتا ہے اور مغرب میں غروب ہوتا ہے۔

ماؤنٹ ایورسٹ تقریباً پونے نو ہزار میٹر سطح سمندر سے بلند ہے۔

پانی سطح سمندر پر سو ڈگری پر ابلتا ہے۔

نیوٹن کے مطابق ہر عمل کا رد عمل مقدار میں اس کے برابر ہوتا ہے۔

پانی ہمیشہ بلندی سے پستی کی طرف بہتا ہے۔

پانی مادے کی مائع حالت ہے۔

برف کو اگر منفی دس ڈگری تک ٹھنڈا کیا جائے تو وہ پھر بھی برف ہی رہتی ہے۔

کمپیوٹر اور انسانی وائرس مختلف ہوتے ہیں۔ یہ ایک دوسرے میں ٹرانسفر نہیں ہو سکتے۔

سورج کی سطح انتہائی گرم ہے۔ اس پر برف نہیں جم سکتی۔

مادے کو پیدا یا فنا نہیں کیا جا سکتا۔

ایک نوری سال وہ فاصلہ ہے جو روشنی ایک سال میں طے کرتی ہے۔ روشنی ایک سیکنڈ میں تقریباً تین لاکھ کلومیٹر کا فاصلہ طے کر لیتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   خدا یا محض قوتِ محرکہ ؟

یہ معلومات سائنس کی دنیا میں عالمگیر سچائی کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔ صدیوں کے انسانی تجربات سے یہ معلومات ثابت ہیں۔ دنیا کا ہر مذہب ، قوم یا گروہ ان کو درست تسلیم کرتے ہیں۔

اگر کوئی ان کے مقابلے میں غلط معلومات دینے کی کوشش کرے تو ہر جاننے والا فرد اس کی بھرپور مخالفت کرے گا۔ کوئی یہ نہیں دیکھے گا کہ میں کسی یونیورسٹی کا تسلیم شدہ سائنس دان ہوں بھی یا نہیں۔ بلکہ وہ ان بنیادی امور پر آپ کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہو گا۔

اسی مثال کو سامنے رکھیں اور یہ تصور کریں کہ جب ایک سیکولر اور دین کے بارے میں معلومات نہ رکھنے والا لبرل جب اس دین کی تسلیم شدہ بنیادوں کے بارے میں سوال اٹھاتا ہے تو ہر وہ فرد جو مذہب کی بنیادی معلومات رکھتا ہے ضرور اس کو روکے گا۔ ضرور اس کی بے سروپا باتوں کو غلط قرار دے گا۔ ضرور بحث چھڑے گی۔ غلط معلومات دینے والے فرد کو ضرور پاگل قرار دیا جائے گا۔ اور اگر وہ اپنا پاگل پن تسلیم نہ کرے گا تو نوبت بحث و تکرار تک جا پہنچے گی۔

یہ بھی پڑھیں:   سوشل میڈیا اور تحریک لادینیت (دوسری قسط)

اب دونوں مثالوں کا موازنہ کیا جائے۔ پہلی مثال میں اعتراض کرنے والا سائنسدانوں اور غیرسائنسدانوں پر کوئی یہ الزام نہیں لگاتا کہ یہ فرد کی آزادی رائے پر قدغن عائد کرتے ہیں اور فتوی بازی پر اتر آئے ہیں۔ لیکن دوسری مثال میں سب سیکولر و لبرل چیخ اٹھتے ہیں کہ یہ معاشرہ مولویوں نے ہائی جیک کیا ہوا ہے۔ آزادی اظہار کا رونا رویا جاتا ہے۔

کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟؟؟

رویہ تو دونوں چیزوں کی طرف ایک سا ہونا چاہیے۔ یا تو دونوں پر خاموش رہنا چاہیے۔ یا پھر دونوں میں علم رکھنے والوں کی مداخلت پر شور نہیں کرنا چاہیے۔


تحریر: یاسر غنی

(203 مرتبہ دیکھا گیا)

یاسر غنی

یاسر غنی

یاسر غنی صاحب سائنس کے شعبے نباتیات میں ماسٹرز ہیں۔ فی الحال ایک کالج کے پرنسپل ہیں اشاعت و بلاغت میں سر گرم ہونے کے ساتھ مطالعے کو اپنا مشغلہ رکھتے ہیں۔ اور لوکل اخبارات میں "نشانِ منزل" کے عنوان سے کالم بھی لکھتے رہتے ہیں۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

1 تبصرہ

  1. Aftab says:

    This is a wrong analogy. Scientific facts are those which have been verified by experiment. While religion deals with abstract. Belief in God is basically a belief in unknown and unverifiable. Religious beliefs are basically beliefs in one person bringing a message and other believing him because they think that person is trustworthy. They do not experience it themselves. You can yourself boil water and see at what temperature it boils. But you can not talk to God yourself to verify what that person is saying is true or not.

تبصرہ کریں