فدائے دلبرِ رنگیں ادا ہوں

غزل
(ولی دکنی)

فدائے دلبرِ رنگیں ادا ہوں
شہیدِ شاہدِ گل گوں قبا ہوں

ہر اک مہ رو کے ملنے کا نئیں ذوق
سخن کے آشنا کا آشنا ہوں

کیا ہوں ترک نرگس کا تماشا
طلب گارِ نگاہِ باحیا ہوں

نہ کر شمشاد کی تعریف مجھ پاس
کہ میں اس سرو قد کا مبتلا ہوں

کیا میں عرض اس خورشید رو سوں
تو شاہِ حسن میں تیرا گدا ہوں

قدم پر اس کے رکھتا ہوں سدا سر
ولی ہم مشربِ رنگِ حنا ہوں

یہ بحر ہزج مسدس محذوف ہے
ارکان: مفاعیلن مفاعیلن فعولن

دو مصرعے ہزج مسدس مقصور کے بھی ہیں
ارکان: مفاعیلن مفاعیلن فعولان
تقطیع کیجئے۔

(11 مرتبہ دیکھا گیا)

مزمل شیخ بسمل

سلجھا ہوا سا فرد سمجھتے ہیں مجھ کو لوگ الجھا ہوا سا مجھ میں کوئی دوسرا بھی ہے

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں