فلسفہ کا رد

فلسفہ کا رد کیا ہے؟ فلسفہ کیا ہوتا ہے؟ اور اس کا رد کیسے کیا جاتا ہے؟ یہ باتیں میری سمجھ سے بہت بالا ہیں۔ میں کبھی یہ طے نہیں کر پایا کہ جو لوگ اس ترکیب یعنی "فلسفہ کا رد" کو استعمال کرتے ہیں ان کے نزدیک فلسفہ آخر کیا شئے ہے؟

جب ہم عیسائیت کے رد۔ یہودیت کے رد ہندو مت یا بدھ مت کے رد۔ اسلام یا قادیانیت کے رد کی بات کرتے ہیں تو سمجھ میں آجاتا ہے کہ ہمیں ان کے نظریات سے اختلاف ہے۔ ایسے میں ہم کچھ دلائل اکھٹا کرکے مخالف کے رد میں پیش کرتے ہیں۔ چار و ناچار ان سے اپنے مقاصد بھی حاصل کرتے رہتے ہیں۔

لیکن جب آپ فلسفہ کے رد کی بات کرتے ہیں تو بات بہت مختلف ہو جاتی ہے۔ پھر پوچھا جائے گا کہ فلسفہ میں آپ کس چیز کا رد کرنا چاہتے ہیں؟ آیا آپ کو لفظ "فلسفہ" سے کوئی پریشانی ہے؟ یا پھر فلسفہ کی ہجا میں کوئی کمی بیشی رہ گئی ہے جسے آپ کے مطابق درستی کی ضرورت ہے؟

بھئی سیدھی سی بات جو مجھے سمجھ میں آئی ہے وہ یہ کہ اس کا تھوڑا کانسیپٹ بنا لینے کی ضرورت ہے کہ فلسفہ کہا کسے جاتا ہے۔ اس کے بعد فلسفے کے رد کی بات کرلیتے ہیں۔

میں بات کو الجھانا نہیں چاہتا۔ سیدھی سیدھی سی بات کروں گا جسے ہر شخص با آسانی سمجھ سکے۔

برٹینکا انسائکلو پیڈیا کے مطابق:

"(انسانوں کے) بدیہی یا اولین نظریات و اعتقادات کی بنیادوں کا تنقیدی جائزہ، اور ان اعتقادات میں موجود تصورات کی بنیادوں کا تجزیہ" فلسفہ کہلاتا ہے۔

آکسفورڈ ڈکشنری کے مطابق:

" قدرت، کائنات بشمول انسانی زندگی کے وجود کے مقصد یا غایت کا مطالعہ" فلسفہ ہے۔

یہ تو وہ ہے جو کہ اصطلاحی طور پر لفظ "فلسفہ" کی تعریف کی خاطر کہا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ لفظ فلسفہ کی غیر اصطلاحی تعریفات بھی ہیں۔ جیسے:

"ایک مخصوص نظریہ یا مجموعۂ نظریات جو حیات و کائنات کی توجیہہ کے نتیجے میں قائم کیا جائے۔"

اب فیصلہ کرنا کافی آسان ہے کہ "فلسفہ کا رد" در حقیقت کس قدر بے معنی ترکیب ہے۔ یعنی آپ یہ ترکیب استعمال کرکے آخر کس چیز کا رد کرنا چاہتے ہیں؟ کیا آپ انسان کی جستجو اور تنقیدی فطرت پر پابندی لگانا چاہتے ہیں؟ یا اس سے سوچنے کی آزادی چھیننا چاہتے ہیں؟ فلسفہ کی اصطلاحی تعریف کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو ہر چیز ہی فلسفہ ہے۔ جو لوگ سائنس اور فلسفہ کو مقابلے پر لا کر فلسفہ کو حقیریا مردہ کہہ کر سائنس کا ڈنکا بجاتے ہیں انہیں اپنی رائے پر نظرِ ثانی کی ضرورت ہے۔ اور وجہ یہ ہے کہ سائنس اپنی ذات میں کوئی مستقل بالذات نظام نہیں، بلکہ اسے فلسفہ ہی کی ایک شاخ کہا جاسکتا ہے جو قدم قدم پر فلسفہ ہی کی محتاج ہے۔ کیونکہ جہاں کہیں بھی سائنس کا بندھن فلسفیانہ موشگافیوں سے ٹوٹے گا وہیں سائنس زوال پذیری کا شکار ہوجائے گی۔ اور وجہ غیر اصولی اور غیر منطقی استدلال ہوگا۔ اب جب آپ "استدلال" کی حدود سے نہیں نکل سکتے تو پھر فلسفہ کی حدود سے کیسے نکلیں گے؟

آگے چلیے تو آخری اور غیر اصطلاحی تعریف کے مطابق فلسفہ کوئی بھی نظریہ ہو سکتا ہے۔ سطحی طور پر جو حضرات "فلسفہ کا رد" کرنے کی بات کرتے ہیں انہیں اس اصطلاحی اور غیر اصطلاحی کا فرق ملحوظِ خاطر رکھنا چاہیے۔ یعنی کوئی بھی نظریہ بجا طور پر ایک "فلسفہ" کہلا سکتا ہے۔ جیسے ڈارون کا نظریۂ ارتقا، یا آئنسٹائن کا نظریۂ اضافیت وعلی ہذا القیاس۔ اسی طرح تمام مذاہب اپنے نظریات میں ایک "فلسفہ" ہی ہوتے ہیں۔ اسلام، عیسائیت اور یہودیت اس تعریف کے مطابق بجا طور پر فلسفہ کہلا سکتے ہیں۔

یہاں آکر آپ سے یہ سوال ضرور کیا جاسکتا ہے کہ آپ فلسفے کے رد سے کیا مراد لیتے ہیں؟ آپ کونسے فلسفے کا رد کرنا چاہتے ہیں ؟ آیا آپ عقلیات کا رد کرنا چاہتے ہیں؟ اگر آپ کا مقصد یہی ہے تو یہ ممکن نہیں۔ کیونکہ اس معنی میں ابراھیم علیہ السلام بھی ایک فلسفی ہی تھے جنہوں نے سورج اور مورتیوں کی پرستش کا انکار کیا تھا۔ وہ ایک مشکک فلسفی تھے جو اپنے موجودہ خداؤں کے منکر ہوگئے تھے۔ سوچنا اور استدلال کرنا انسان کی فطرت میں پنہاں ایسی چیز ہے جسے دبایا نہیں جاسکتا۔ چنانچہ فلسفہ فی نفسہ کا رد تو ممکن نہیں۔ اب بات آتی ہے اگلی تعریف کی۔ ان "فلسفوں" (نظریات) کی جن سے آپ کو اختلاف ہے۔ تو اس کے رد میں آپ حق بجانب ہیں۔ لیکن آپ کو پہلے یہ ضرور بتانا پڑے گا کہ آپ فلسفیوں کے کن مخصوص نظریات سے خفا ہیں؟ اور آپ ان کے خلاف کیا دلائل رکھتے ہیں؟ پھر میں بارہا عرض کرتا رہا ہوں کہ صرف تردید سے کام نہیں چلتا۔ کسی بھی نظریے کی "تردیدِ محض" در حقیقت علم سے بد دیانتی ہے۔ مقصود یہ ہے کہ آپ اپنا مکمل نظامِ فکر ترتیب دیں۔ اس کی عقلی اور نقلی توجیہات اور توضیحات مرتب کریں۔ اور دنیا کو یقین دلائیں کہ آپ ایک محکم "فلسفہ" کے حامل ہیں۔

اب یہاں تک آنے پر چند نتائج اخذ کیے جاسکتے ہیں جو کہ یوں ہونگے:

  1.  فلسفہ انسانی رویوں کی سلامتی، معاشرت اور جستجوئے حیات کے لیے ایک انتہائی پختہ اور نا گزیر ہتھیار ہے۔
  2.  اصطلاحی طور پر فلسفہ کائنات اور حیاتِ انسانی کے غرض و غایت، اور فطرت کے تنقیدی جائزہ کا نام ہے۔ اس لیے فلسفہ انسان کی عقلی ضرورتوں کا ایک ناگزیر رویہ ہے جس کے رد کی بات کرنے والا در حقیقت خود اپنے مقدمے ہی کی نفی کر رہا ہوتا ہے۔
  3.  غیر اصطلاحی طور پر ہر نظریہ ایک "فلسفہ" ہی ہوتا ہے۔ اس لیے کوئی ایک یا متعدد نظریات جو کہ کسی فلسفی کی جانب سے آئے ہوں، ان کی تردید خود فلسفہ کی تردید نہیں ہوتی۔ یعنی آپ ارسطوئی مثالیت، کانٹیانہ مثالیت، یا ہرقلیطی مادیت یا پھر ہیگلی اور مارکسی مادیت پر اپنی رائے تو ضرور پیش کرسکتے ہیں، تاہم یہ فلسفہ کا رد نہیں ہوتا۔ اگر ایسا ہوتا تو سارے ہی فلسفی "فلسفہ کا رد" کرنے والوں میں گنے جاسکتے تھے۔
  4.  یہ کہنا کہ فلسفہ کسی اہمیت کی حامل چیز نہیں، ایک انتہائی سطحی سی بات ہے۔ کیونکہ آپ کے حرکات و سکنات کا ہر ہر لحظہ دنیا کے غالب فلسفوں ہی سے مرتب ہوتا ہے۔ چاہے وہ موجودہ معاشیات کے فلسفے کی صورت میں ہو، یا دنیا کے حالیہ سیاسی فلسفے کی صورت میں۔ دراصل جب آپ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ فلسفہ صرف مشکل باتیں کرنے کا نام ہے تو ایسے میں یہی نتائج نکلتے ہیں۔ حالانکہ آپ کے گھر میں استعمال ہونے والے منہ دھونے کے صابن سے لے کر گھر میں پکنے والی دال سبزی تک، آپ کے بجلی کے بل میں ساٹھ روپے ٹی وی لائسنس کی فیس سے لے کر ٹی وی میں آنے والے مارننگ شو تک ہر چیز کے پیچھے ایک مکمل فلسفے کا فعال عمل دخل ہے جسے فرد کی حیثیت سے نظر انداز ضرور کیا جاسکتا ہے، لیکن دنیا کی موجودہ صورتحال اپنی ایک ایک جنبش میں "اتفاقات" پر نہیں، بلکہ ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی پر منحصر ہے۔

(204 مرتبہ دیکھا گیا)

مزمل شیخ بسمل

سلجھا ہوا سا فرد سمجھتے ہیں مجھ کو لوگ الجھا ہوا سا مجھ میں کوئی دوسرا بھی ہے

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

4 تبصرے

  1. Qaiser Shahzad says:

    بہت سلیقے سے اور وضاحت کے ساتھ آپ نے ایک غلط فہمی کا ازالہ کیا ہے۔ اصل میں ہمارے ردی حضرات فلسفہ لطور ڈسپلن یا سرگرمی سامنے رکھنے کے بجائے اسے فلسفیانہ نظریات کے مساوی سمجھ کر بدکتے اور دوسروں کو بدکانے کی کوشش کرتے ہیں کاش یہ بات جو آپ نے سجمھانے کی کوشش کی ہے انہیں سمجھ آجائے کہ فلسفے کا انکار بھی فلسفہ ہی ہوتا ہے اور یہ سرگرمی اپنی عمومیت میں اس قدر وسیع ہے کہ جب تک انسان کی کھوپڑی میں کدو کی بجائے بھیجا ہے وہ فلسفی ہونے سے بچ نہیں سکتا

    • مزمل شیخ بسمل says:

      بہت بہت شکریہ سر۔ آپ کا یہ تبصرہ میرے لیے ایک اعزاز سے کم نہیں ہے۔ 🙂
      اور یقیناً یہ وہی بات ہے جو میرا اصل مقصود ہے، جو کہ مجھے اتنے لمبے طریقے سے بیان کرنا پڑا اور آپ نے چند سطور میں لپیٹ کر سارا مدعا بیان کر دیا۔
      سلامت رہیں سر!!! 🙂

  2. نہایت ہی عمدہ مضمون ہے۔ شیخ کی قدر ہمارے دلوں میں مزید بڑھ گئی ہے۔

  3. Abdul Sami says:

    بہت زبردست اور عمدہ ہے ۔۔۔۔۔۔

تبصرہ کریں