فیس بک کے بارے میں دلچسپ حقائق

قریب ڈیڑھ ارب ماہانہ فعال صارفین کے ساتھ فیس بک وہ واحد ویب سائٹ ہے جسے بلا شک و شبہ انٹرنیٹ کی سب سے بڑی سوشل نیٹ ویب سائٹ کہا جاسکتا ہے۔ فیس بک نے جہاں کمیونیکیشن اور سوشل نیٹ ورکنگ کی دنیا کو نہ صرف ایک نیا زاویہ دیا ہے بلکہ اپنے صارفین کے مشاغل اور نفسیات پر ایک شدید قسم کا انقلاب بھی برپا کردیا ہے۔

مثلاً جہاں فیس بک اجنبیوں سے آپسی ربط کو بنانے اور مضبوط کرنے کا کام کرتی ہے، وہیں آپ کو آپ کی حقیقی دنیا سے جدا بھی کرتی ہے۔ آپ اپنی گلی کے ایک سادھے سے بندے کو دیکھیے، جسے کوئی سلام کرنا تو دور، عزت کی نگاہ سے دیکھنا بھی پسند نہ کرتا ہو، اور اچانک سے آپ کو خبر ملے کہ اس کے سٹیٹس پر ہر منٹ میں چار لائک آتے ہیں تو آپ پر کیا گزرے گی؟

یا پھر آپ کو معلوم ہو کہ جس شخص کو آپ فیس بک شہسوار سمجھ کر اس کی تعظیم میں مصروف ہیں، اسے محلے میں کوئی جانتا بھی نہیں، وہ حقیقی معاشرتی معاملات میں اتنا ہی کمزور اور نا اہل ہے تو آپ پر کیا تاثر پڑے گا؟

یہ بھی پڑھیں:   غزل بر زمینِ سودا از: یاس یگانہ

لیکن یہ وہ چیزیں ہیں جنہیں نہ صرف نظر انداز کیا جاتا ہے بلکہ غیر اہم بھی سمجھا جاتا ہے۔

حالات اب یہاں تک آگئے ہیں کہ حقیقی زندگی میں ایک باعلم اور بہت اہم شخصیت اگر فیس بک پر اکاؤنٹ بنا کر کوئی بہت ہی عمدہ سٹیٹس اپڈیٹ کرے اور اس کے پاس صرف دو یا تین لائک ہوں تو آپ اس کے سٹیٹس کو بغیر دیکھے ہی آگے بڑھ جائیں گے۔ اور بہت سے معاملات میں شاید آپ اسے اپنی فرینڈ لسٹ میں ایڈ کرنا بھی گوارا نہ کریں۔ اس کے پیچھے وہ نفسیات کار فرما ہے جو فیس بک ہی کی داخلی شہرت اور مقبولیت کو دیکھ کر وجود میں آئی ہے۔

دوسری طرف نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں معمولات بھی دلچسپی کا حامل ہیں۔ مثلاً ایک اٹھارہ سال کا بچہ اپنی سولہ سالہ گرل فرینڈ کو چھیڑنے کی خاطر اگر اپنا رلیشن شپ سٹیٹس سنگل سے کسی اور کے ساتھ انگیجڈ کرتا ہے تو وہ بے چاری سولہ سالہ ہیر تین دن تک اس غم میں اپنا فیس بک سٹیٹس یا تو ڈی ایکٹیویٹ کر رکھے گی یا سیاہ ٹائم لائن کور فوٹو لگائے گی۔ یا پھر سب لڑکوں کو ماں بہن کی گالیاں دے گی۔ اس کے برعکس اگر لڑکا اپنی اصلی گرل فرینڈ کے ساتھ مجبوراً انگیجڈ ہو گیا تو دوسری آئی ڈی بنائے گا جس کا سٹیٹس سنگل ہو۔ ورنہ اس کے سارے رستے بند ہو جائیں گے۔پھر نوے فی صد لوگ فیس بک پر رلیشن شپ سٹیٹس کے ختم ہونے یا بریک اپ کے بعد ہی اپنی سابقہ گرل فرینڈ کی ٹائم لائن اور فرینڈ فالوونگ کو دیکھتے اور دلچسپی لیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   ابھی تو میں جوان ہوں!

ایک تحقیق کے مطابق ہر تین میں سے ایک فرد فیس بک کے استعمال کے بعد اپنی زندگی میں نسبتاً پہلے سے زیادہ عدم اطمینانی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اور یہ بات کوئی عجیب نہیں۔ یہ عام مشاہدے کی بات ہے کہ فیس بک ظاہری چکا چوند اچھے بھلے آدمی کو بھی احساسِ کمتری اور ایک عام سے بندے کو بھی احساسِ برتری میں مبتلا کر سکتی ہے۔ اور اس کے اثرات پھر شعوری یا لاشعوری طور پر ہر فرد پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   سوشل میڈیا اور شناخت کا مسئلہ

آپ کا فیس بک کا تجربہ کیسا رہا؟ اور آپ نے کیا کیا جانا؟ براہِ مہربانی اپنی رائے دیجیے۔

(244 مرتبہ دیکھا گیا)

مزمل شیخ بسمل

سلجھا ہوا سا فرد سمجھتے ہیں مجھ کو لوگ الجھا ہوا سا مجھ میں کوئی دوسرا بھی ہے

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

4 تبصرے

  1. محمد اسامہ سرسری says:

    فیس بک اور واٹس ایپ کے بارے میں میرا مشاہدہ ہے کہ اثمھما اکبر من نفعھما۔

  2. بہت درست باتیں کی ہیں۔ لیکن مضمون میں تشنگی رہ گئی ہے۔ صرف ایک پہلو پر بات کی ہے آپ نے

  3. میرافیس بک کا ذاتی تجربہ تو بہت برا رہا ۔۔۔دو سال کی مسلسل محنت کے بعد دو ہزار لوگ ملے ۔۔۔جن میں سے دو بھی پڑھنے کا شوق نہیں رکھتے تھے

  4. SHAHNAWAZ says:

    bohot acha tajzeya or tahkeequehain ap ki . main ap se 100/ agree ho

تبصرہ کریں