قابل رحم خود داری

میں جب بس میں سوار ہوا۔ تب ازدحام اتنا تھا۔ کہ مجھے از خود حرکت نہیں کرنی پڑی۔ بلکہ دھکم پیل میں ہی ایک غیر مناسب جگہ پر غیر طبعی انداز میں سکڑ کر پھنس سا گیا۔

گاڑی ہچکولے لے کر پہلے ہلتی رہی۔ جسے کلینر نے گویا آواز کے دھاگے سے کافی دیر باندھے رکھا تھا۔ بالآخر "ڈبل اے" کے روح پرور نعرے کے بعد بس مخرامی سے مست خرامی اور پھر سبک خرامی پر آمادہ ہوئی۔ میں نے بڑی مضبوطی سے پانچ سالہ فیض کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا۔ مبادا بھیڑ میں کچلا نہ جائے۔

یہ تحریر بھی پڑھیں    icon-hand-o-left    والدین اور اولاد میں فرق

تیز آواز کا بھدا میوزک کئیوں کی سماعت کا امتحان تھا۔ تو دوسری طرف فیکٹری ورکرز کا جو سمندری ریلا میرے ساتھ بس کے کوزے میں سمایا تھا۔ ان میں کئی نوجوان اس چنگھاڑتے بھدے آوازوں کے ساتھ زیر لب اپنا اپنا سر تال ملانے کی سعی ناتمام میں مگن تھے۔

کسی بھی معاشرے کی درست اور حقیقی منظر کشی اس کے عام فرد کی حالت، رکھ رکھاؤ اور رویہ طے کرتا ہے۔ یہی کچھ سوچتے ہوئے میں اپنی عادت سے مجبور ایک ایک فرد کا چہرہ، لہجہ اور بدن بولی پڑھنے لگا۔

یہ بھی پڑھیں:   تمہیں تعجب ہوا ہے شاید - ابن انشا

میں ایک پکے عمر کے، ملتانی لہجے میں اپنے ساتھ بیٹھے نوجوان سے بات کرتے، سرائیکی "چچا" قسم کے کردار کے مطالعے میں غرق تھا۔

اس کے چہرے کی بشاشت اور لہجے کی تمکنت بتارہی تھی کہ آسودہ حالی اس پر مہربان رہی ہے۔ ان کی بات سے اندازہ ہورہا تھا کہ وہ کسی بڑے شہر کے لیے پیدا ہی نہیں ہوئے۔ ان کے چہرے مہرے سے وہ قدیمی دانش ٹپک رہی تھی جو اب قصبوں اور آسائشوں سے دور گوٹھوں تک محدود ہوگئی ہے۔ جدید شہری نسل کو اس لوک دانش کی ہوا بھی نہیں لگی۔

میں ابھی اس دلچسپ کردار کی ورق گردانی میں منہمک تھا کہ بس کے پیہم ہچکولوں نے دھیان بھٹکایا۔ اسٹاپ سے چند مزید سواریاں ٹھونسی بلکہ پہلے سے موجود سواریوں کی کہنیوں میں گھونپی گئیں۔

سرائیکی چچا کے ساتھ بیٹھے نوجوان نے نووارد سواریوں میں سے ایک معمر شخص کے لیے سیٹ چھوڑی۔ اور ان کو بٹھانا چاہا۔

وہ نواوارد مسافر بیٹھنے سے انکار کررہے تھے

میں دیکھتا تھا کہ ان کی عمر پینسٹھ سے اوپر ہے۔ اور وہ رعشہ کے مرض میں مبتلا تھے۔ انہوں نے بمشکل سہارے کے لیے چھت میں گاڑا گیا ڈنڈا تھام لیا تھا۔ سیٹ کا پشتا اس کے گرتے وجود کے لیے ناکافی سہارے کے طور پر استعمال ہورہا تھا۔ میں ان کے ہاتھ کو دیکھ رہا تھا۔ وہ کسی محنت کش کا ہاتھ تھا۔ جھریوں نے ابھی راج پیشے کی باقیات کو ان کے ہاتھوں سے پوری طرح مسخ نہیں کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   مولانا صاحب اور غمِ روزگار

اس معمر شخص کی مونچھوں کے بل اور نوکیں بتارہیں تھیں کہ جاتی عمروں کے کس بل کو انہوں نے بدقت تمام برقرار رکھا ہے۔

نوجوان نے ان کو دوبارہ بیٹھنے کو کہا۔ لیکن بابا جی انکار کرتے رہے۔اور یہ بات حیرت کا باعث بن رہی تھی۔ یہاں تک کہ سرائیکی چچا نے ان کے دھان پان، منحنی وجود کو زبردستی کھینچ بٹھایا۔

کچھ دیر بعد جب ان کی برابر والی سیٹ خالی ہوئی۔ تب میں نے فیض الرحمن کو گود میں بٹھاتے ہوئے ان کے قریب کھڑکی والی سیٹ سنبھالی۔ اپنی حیرت کے دفعیہ کے لیے میں نے غیر محسوس طریقے سے ان کو کھریدا۔

تو اس کھنڈر ہوچکے وجود کے دیمک سے شناسائی ہوئی۔

اس رمز سے آشنائی ہوئی۔ جس نے اس بابا کے اندر قابل رحم حد تک خود انحصاری بھر دی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:   اردو میں مستعمل اور مانوس بحور کی فہرست

ان کی تین نرینہ اولادوں نے یکے بعد دیگرے ان کو چھوڑدیا تھا۔ بچے مستحکم ہوتے گئے اور اپنے آشیانے بناتے رہیں۔

باباجی اولاد کے ڈسے ہوئے تھے۔ دنیا پر پھر کیوں تکیہ کرتے۔؟

اضطراری امور میں بھی اپنے فناشدہ حوصلے کو آواز دیتے۔ اور مدد لینے کے لیے ہاتھ بڑھانے سے زیادہ پیروں میں جان لانے کی کوشش کرتے۔ وہ خود کو حوصلہ دیتے کہ مجھ میں ہمت ہے۔ مجھے نہ اولاد کی ضرورت ہے نہ کسی کی مدد کی۔۔

یہ قابل ترحم خود انحصاری دیکھ کر میں اندر سے لرز گیا۔

اور میں نے غیر شعوری طور پر فیض الرحمن کا ہاتھ چھوڑ دیا۔

اور کڑوے حلق کے ساتھ کھڑکی سے باہر مناظر دیکھنے لگا۔

(205 مرتبہ دیکھا گیا)

شاد مردانوی

جنابِ شاد کے لیے اگر یہ کہا جائے کہ وہ چلتی پھرتی لغت ہیں تو شاید غلط نہ ہوگا۔ ان کی اردو در اصل اردو نہیں بلکہ معرب و مفرس کسی ماورائے اردو شئے کی تارید کہی جاسکتی ہے۔ علم دوست ہونے کے ساتھ ساتھ منکسر المزاج بھی ہیں اور مطالعے کو اوڑھنا بچھونا رکھتے ہیں۔ ان کی ہنر کاری ان کی تحریروں سے عیاں ہے۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں