قانونِ کائنات اور ملحدین

کیسی عقلمندانہ حرکت ہے اُن نام نہاد عاقلین کی، جنکا دعویٰ ہے کہ وہ کسی قانون کو ماننے کے پابند نہیں اور اِسی بنا پر مذہب سے باغی ہیں۔ مگر فیس بک پر اپنے گروپس میں قانون بنا رکھے ہیں۔ پھر کہتے ہیں کہ ہمارے بنائے گئے ان اصولوں کی پاسداری کرو۔ کیوں جی کس لاجک کے مطابق ہم انسانی ذہن ساختہ ضابطوں کی پیروی کریں؟

میں نے ایک بونگے ملحد کو اسکی خلافِ اسلام ہرزہ سرائیوں اور بے ہودگیوں کے عوض عرصے سے بلاک کر رکھا ہے۔ پچھلے دنوں ایک صاحب نے ملحدین کے گروپ میں مجھے وارننگ دی کہ جسے آپ نے بلاکا ہوا ہے وہ ایڈمن ہے لہذا اُسے انبلاک کرو ورنہ آپ کو گروپ سے بےدخل کر دیا جائیگا اور آخر کر دیا گیا۔ بھلا کس اصول کے تحت؟ وہی خود تراشیدہ اصول۔ حالانکہ پوسٹس Approve کرنے کے لیے کئی دیگر ایڈمنز موجود ہیں۔ اب عقل کا تقاضا کیا ہے، یہ کسی بھی عام فہم شخص کے لیے سمجھنا مشکل نہیں بشرطیکہ وہ ہٹ دھرم ملحد نہ ہو۔ یہ گروہِ ملاحدہ صرف اپنے لئے اظہار کی آزادی کا ڈھنڈورا پیٹنے کا ماہر ہے، جبکہ دوسرے کی آزادی سلب کرنے اور اسے اپنے بنائے گئے ضابطوں میں مقید رہنے پر مجبور کرنے کا انہیں مکمل اختیار ہے۔ میں اکثر کہا کرتا ہوں کہ مذہب سے فرار کے نام پر ایک اور مذہب کا نام الحاد ہے۔ اسکا نظریہ ہے تعصب اور اس مذہب کے ماننے والوں کا خدا ہے 'عقل' ، جس کی پرستش کے یہ دعویدار ہیں..!

یہ بھی پڑھیں:   فتوی بازی کا الزام

عقل کا استعمال بُرا نہیں، اگر برا ہوتا تو اللہ کریم تفکر و تدبر کی دعوت ہی کیوں دیتے؟ ہاں البتہ عقل کے دائرے کی حد بس عالمِ خلق تک ہے، اِس سے آگے عقل بےبس ہے اور محض چونکہ چنانچہ جیسی ٹامک ٹوئیوں پر گزارہ کرتی ہے۔ پھر ہر شخص کی عقل کی استعداد دوسرے سے جدا ہے۔ اگر عقل کو معیار مانا جائے تو پھر ہر ایک کا بنایا گیا ضابطہ دوسرے کے ضابطے سے الگ ہو گا۔ جب سب لوگ اپنے بنائے اور من چاہے اصولوں کی پیروی کرنے لگیں گے تو سماج افراتفری کا شکار ہو گا۔ اس لئے قانون اور اصول وہی معتبر اور اٹل ہے جو اُس خالق کا مقرر کردہ ہے جس نے عقلیں تخلیق کیں اور ان میں تفاوت رکھا۔۔!

یہ بھی پڑھیں:   عورت کی آزادی

برسرِ مطلب کہوں تو بات واقعی سمجھنے کی ہے اور اگر دل پر قفل نہ پڑے ہوں تو اپنانے کی ہے۔ مانا کہ ایک چھوٹے سے محدود گروپ کیلئے قانون بنانا ایک حقیقی ضرورت ہے جس پر پورا نہ اترنے کی غفلت میں مجرم کو سزا دی جاتی ہے۔ پھر کیا اِس کائنات کو منظم انداز میں چلانے کے لیے کسی قانون کی ضرورت نہیں؟ اگر ہے، اور واقعی ہے، کیونکہ فطرت اور مظاہرِ قدرت کا غیرجانبدارانہ مطالعہ بتاتا ہے کہ اس کی تخلیق میں نہایت عمیق ریاضیاتی ترتیب موجود ہے، تو کون ہے جس نے ایسا زیرو-ایرر (Zero Error) نظام مرتب کیا کہ صدیوں سے سورج چاند ستارے ایک طے کئے گئے وقت اور راستے پر بندھے ہوئے ہیں؟ کائنات کی طبیعی ساخت میں ایسی دلفریب یکسانیت اور ہم آہنگی ہے کہ ہم کئی روز پہلے سے بادلوں کے بننے سنورنے اور بگڑنے سے لے کر ہواؤں کے چلنے رکنے اور لہرانے تک کا بالکل صحیح تخمینہ لگائے بیٹھے ہوتے ہیں۔ کون ایسا ماہر فزیکل لاء میکر (Physical Law Maker) ہے جس نے نظامِ کائنات کی پیچیدگیوں کو یوں خوبصورتی سے سلجھا رکھا ہے اور کیا وہ اپنے بنائے گئے قانون اور کتابِ قانون (قرآن) کی پاسداری نہ کرنے پر سزا دینے کا مجاز نہیں ہے؟ فلاحِ دارین کے لیے احتیاط اور عقل کا تقاضا سوائے اس کے کیا ہو سکتا ہے کہ اُس کو پہچانا جائے اور اسکی غیرمشروط اطاعت میں سرِتسلیم خم کر دیا جائے..!

یہ بھی پڑھیں:   سیرت رسولؐ کے چند گوشے

تحریر: محمد نعمان بخاری

(127 مرتبہ دیکھا گیا)

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں