قرآن اور جدید سائنس کی پیش رفت

انسان کی ممکنہ علمی اور تکنیکی ترقی کی ایک اور جھلک قرآن بتاتا ہے۔

یہ محض کوئی دیومالائی قصہ نہیں بلکہ انسان میں موجود نادیدہ قوتوں کی طرف اشارہ ہے کہ انسان یہ سب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، خواہ  طبیعیات کے ذریعے کرے یا روحانیت کی قوت سے کرے! یہ اُس نادیدہ سپر سائنس کی برتری کا ایک اور مظاہرہ ہے۔

قرآن : (سورۃ۲۷ ،آیت۴۰)

”جس شخص کے پاس کتاب کا ایک علم تھا وہ بولا

’میں آپ کی پلک جھپکنے سے پہلے اسے لائے دیتا ہوں ’’جونہی سلیمان نے

وہ تخت اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا، وہ پکار اْٹھا  یہ میرے ربّ کا فضل ہے۔“

یہاں کتاب کے ایک علم  Knowledge   One کا نہایت واضح اشارہ صاف ظاہر کر رہا ہے کہ میٹا فزکس میں ایسے اجنبی علوم موجود ہیں جو موجودہ طبیعیّاتی سائنس سے بہت زیادہ ترقی یافتہ ہیں لیکن ہمارے شعور سے اوجھل ہیں۔ موجودہ دور میں ذہنی سائنس  Mind Sciences کے شعبے انسان کے دماغ کی انہی چھپی قوتوں پر تحقیق کر رہے ہیں۔

جدید سائنس ابھی روشنی کو مادے میں طبیعی طور پہ تبدیل کرنے کی ابتدائی منزل پر ہے۔ ُملاحظہ کریں!

یہ بھی پڑھیں:   انسانی عقل اور دین کا دائرہ

Scientists discover how to turn light into matter after 80-year quest

Professor Steve Rose from the Department of Physics at Imperial College London said: "Despite all physicists accepting the theory to be true, when Breit and Wheeler first proposed the theory, they said that they never expected it be shown in the laboratory. Today, nearly 80 years later, we prove them wrong. What was so surprising to us was the discovery of how we can create matter directly from light using the technology that we have today in the UK. As we are theorists we are now talking to others who can use our ideas to undertake this landmark experiment."

http://www3.imperial.ac.uk/newsandeventspggrp/imperialcollege/newssummary/news_16-5-2014-15-32-44#

امپیریل کالج لندن کے  فزکس ڈپارٹمنٹ کے پروفیسر اسٹیو روز کا کہنا ہے کہ سائنسدانوں نے اسّی سال کی کوششوں کے بعد روشنی کو مادے میں تبدیل کرنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب بریٹ اور ویلر نے اسّی برس قبل یہ تھیوری پیش کی تھی تو ان کو یقین نہیں تھا کہ یہ کبھی لیبارٹری میں تجربے میں دکھائی جا سکے گی۔  لیکن آج اسّی سال بعد ہم نے انہیں غلط ثابت کردیا۔ جس چیز نے ہمیں حیران کیا وہ دریافت تھی کہ ہم برطانیہ میں موجود ٹکنالوجی سے کس طرح روشنی کو مادے میں تبدیل کرسکتے ہیں۔  اب ہم بات کر رہے ہیں ان لوگوں سے جو ہمارے ان نظریات کو استعمال کر کے سنگِ میل تجربات کر سکتے ہوں۔

یہ بھی پڑھیں:   شخصیت

قرآن میں جس عمل کو کتاب کا علم قرار دیا گیا وہ غالباً ایک انسان کو حاصل مخصوص ذہنی اور تخیل کی قوت تھی جو کسی نامعلوم روحانی پیرائے میں حاصل کی گئی تھی جس میں مادے کو روشنی میں تبدیل کرکے غالباً روشنی کی رفتار سے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرکے دوبارہ مادے میں تبدیل کرنے کی صلاحیت تھی۔ یہاں پر اس تذکرے کا مقصد یہ باور کرانا ہے کہ سائنسدان علوم کے جس خمار میں غلطاں ہیں اُن سے کہیں زیادہ تاثیر والے علوم روحانیت یا مابعدالطبیعیات  Metaphysics میں موجود ہیں ورنہ کسی انہونی کا تذکرہ آسمانی صحیفے میں نہیں ہوتا۔ مذکورہ بالا سائنسی دریافت قرآن میں مذکور قوت اور صلاحیت کی شہادت ہے۔ اس سے ہماری یہ بات مزید ثابت ہوتی ہے کہ ہمارے شعور سے اوجھل ایک برتر اور بہت ترقی یافتہ متوازی نظام انسان کو گھیرے ہوئے ہے جس کی گرفت میں ہر چیز ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   زبان کی آفات

بارے مصنف کے:

مجیب الحق حقیجناب مجیب الحق حقّی پی آئی اے کے سابقہ آفیسر ہیں۔ اسلام، جدید سائنس اور الحاد کے موضوع پر ان کی کتاب ”خدائی سرگوشیاں“ حال ہی میں انگریزی زبان میں شائع ہوئی ہے جس کا اردو ورژن بھی طباعت کے مراحل میں ہے۔

(308 مرتبہ دیکھا گیا)

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں