قطعہ اور رباعی میں فرق

عام طور پر جب کوئی دو شعر ایسے ہوں کہ دونوں مقفی ہوں ، دونوں کا مضمون بھی ایک ہو تو عام قاری کے لیے یہ پہچاننا مشکل ہوجاتا ہے کہ اسے رباعی کہیں یا قطعہ؟ نیز شاعری میں جو خواص کا طبقہ ہے وہ بھی ان دونوں اصطلاحات کے بیچ بعض غلط فہمیوں کا شکار ہے ، علاوہ ازیں فنی لحاظ سے اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ ان دونوں کے درمیان جتنے بھی فرق ہیں ان سب کو مثالوں کے ساتھ واضح کیا جائے تاکہ علوم و فنون کے دیگر ابواب کی طرح یہ باب بھی تشنگی اور سوال کے ہر گوشے کو بند کرسکے۔

قطعہ اور رباعی میں عنوان ، مصرعوں کی تعداد ، بحر ، قافیہ اور مضمون کئی لحاظ سے فرق ہے۔

بندے کی تحقیق کے مطابق قطعہ اور رباعی میں کل آٹھ فرق ہیں:

(1) عنوان کے لحاظ سے فرق:

قطعے کا عنوان رکھا جاسکتا ہے اور رکھا جاتا ہے ، مگر رباعی کا عنوان نہیں رکھا جاتا۔

جیسے غالب کے اس قطعے کا نام ”شریکِ غالب“ ہے:

سیہ گلیم ہوں لازم ہے میرا نام نہ لے
جہاں میں جو کوئی فتح و ظفر کا طالب ہے

ہوا نہ غلبہ میسر کبھی کسی پہ مجھے
کہ جو شریک ہو میرا، شریکِ غالبؔ ہے

(2) تعدادِ مصارع کے لحاظ سے فرق:

رباعی میں ہمیشہ چار مصرعے ہوتے ہیں ، جبکہ قطعے میں کم از کم چار مصرعے اور زیادہ سے زیادہ کی کوئی حد نہیں ہے۔

غالب کا یہ شاہکار قطعہ ملاحظہ فرمائیے:

اے تازہ واردانِ بساطِ ہوائے دل
زنہار اگر تمہیں ہوسِ نائے و نوش ہے

دیکھو مجھے! جو دیدۂ عبرت نگاہ ہو
میری سنو! جو گوشِ نصیحت نیوش ہے

ساقی بہ جلوہ دشمنِ ایمان و آگہی
مطرب بہ نغمہ رہزنِ تمکین و ہوش ہے

یا شب کو دیکھتے تھے کہ ہر گوشۂ بساط
دامانِ باغبان و کفِ گل فروش ہے

لطفِ خرامِ ساقی و ذوقِ صدائے چنگ
یہ جنّتِ نگاہ وہ فردوسِ گوش ہے

یا صبح دم جو دیکھیے آ کر تو بزم میں
نے وہ سرور و سوز نہ جوش و خروش ہے

داغِ فراقِ صحبتِ شب کی جلی ہوئی
اک شمع رہ گئی ہے سو وہ بھی خموش ہے

(3) قافیہ و ردیف کے لحاظ سے فرق:

دوسرے اور چوتھے مصرع کا مقفی (اور اگر ردیف ہو تو مردَّف) ہونا قطعہ اور رباعی دونوں میں ضروری ہے ، مگر پہلے مصرع کا مقفی (اور اگر ردیف ہو تو مردَّف) ہونا صرف رباعی میں ضروری ہے ، قطعے میں نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   خواتین کے حقوق اور سیاست

جیسے غالب کے اس قطعے میں پہلا مصرع مقفی و مردف نہیں ہے:

سرمۂ مفتِ نظر ہوں مری قیمت یہ ہے
کہ رہے چشمِ خریدار پہ احساں میرا 

رخصتِ نالہ مجھے دے کہ مبادا ظالم
تیرے چہرے سے ہو ظاہر غمِ پنہاں میرا

(4) بحر کے لحاظ سے پہلا فرق:

رباعی بحر ہزج کی دو بحروں کے ساتھ مخصوص ہے: (1)مفعول مفاعیل مفاعیل فعَل (2) مفعول مفاعلن مفاعیل فعَل ، انھی دو میں تسکین اوسط اور آخر میں اضافۂ ساکن سے کل چوبیس اوزان حاصل ہوتے ہیں ، ایک رباعی کے چار مصرعوں کو ان میں سے کسی بھی ایک یا چار مصرعوں کے مطابق لکھا جاسکتا ہے۔ جبکہ قطعہ کے لیے کوئی بحر مخصوص نہیں ہے ، قطعہ کسی بھی مانوس بحر میں کہہ سکتے ہیں۔

جیسے کامل کا یہ خوبصورت قطعہ بحر رمل میں ہے:

ابر تھا، بارش تھی، وقتِ گُل تھا، تم تھے، میں نہ تھا
قہقہے تھے،خندۂ قُلقُل تھا، تم تھے، میں نہ تھا

اک طرف آہیں تھیں، غم تھا، رنج تھے اور اک طرف
قُمریاں تھیں، نغمۂ بُلبُل تھا، تم تھے، میں نہ تھا

(5) بحر کے لحاظ سے دوسرا فرق:

پانچواں فرق چوتھے فرق سے ملتا جلتا ہے ، مگر باریک سا فرق ہونے کی وجہ سے اسے الگ سے ذکر کیا جارہا ہے اور وہ یہ کہ رباعی کے لیے مذکورہ بالا دو بحروں میں سے کسی ایک کا ہونا ضروری ہے جبکہ قطعے میں مفعول مفاعیل مفاعیل فعَل خلاف اولیٰ ہے کیونکہ رائج مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن ہے اور مفعول مفاعلن مفاعیل فعَل درست ہی نہیں کیونکہ یہ رائج ہی نہیں۔

(6) بحر کے لحاظ سے تیسرا فرق:

رباعی میں مفعول مفاعیل مفاعیل فعَل اور مفعول مفاعلن مفاعیل فعل کو جمع کرسکتے ہیں مگر قطعے میں نہیں۔

جیسے غالب کے اس رباعی میں یہ دونوں بحریں جمع ہیں:

بعد از اِتمامِ بزمِ عیدِ اطفال
ایّامِ جوانی رہے ساغر کَش حال

آ پہنچے ہیں تا سوادِ اقلیم عدم
اے عُمرِ گُذشتہ یک قدم استقبال

اس رباعی میں پہلے ، تیسرے اور چوتھے مصرع کی بحر ایک ہے اور دوسرے مصرع کی بحر دوسری ہے۔

انجام کے آغاز کو دیکھا میں نے
ماضی کے ہر انداز کو دیکھا میں نے 

کل نام ترا لیا جو بُوئے گُل نے
تا دیر اُس آواز کو دیکھا میں نے 

جوش صاحب کی اس رباعی میں تیسرے مصرع کی بحر باقی تینوں مصرعوں کی بحر سے جدا ہے۔

قطعہ میں ان دو بحروں کا جمع کرنا درست نہیں ہے

یہ بھی پڑھیں:   آگہی کا خلا اور خدا

(7) غزل کے لحاظ سے فرق:

قطعہ کسی غزل کا بھی حصہ ہوسکتا ہے ، مگر رباعی نہیں۔

جیسے غالب کی اس غزل میں مقطع سے پہلے والے دو شعر بصورتِ قطعہ ہیں:

وہ بات چاہتے ہو کہ جو بات چاہیے
صاحب کے ہم نشیں کو کرامات چاہیے

مسجد کے زیرِ سایہ خرابات چاہیے
بھَوں پاس آنکھ قبلۂ حاجات چاہیے

عاشق ہوئے ہیں آپ بھی ایک اور شخص پر
آخر ستم کی کچھ تو مکافات چاہیے

دے داد اے فلک! دلِ حسرت پرست کی
ہاں کچھ نہ کچھ تلافیِ مافات چاہیے

سیکھے ہیں مہ رخوں کے لیے ہم مصوّری
تقریب کچھ تو بہرِ ملاقات چاہیے

مے سے غرض نشاط ہے کس رو سیاہ کو
اک گونہ بیخودی مجھے دن رات چاہیے

ہے رنگِ لالہ و گل و نسریں جدا جدا
ہر رنگ میں بہار کا اثبات چاہیے

ق

سر پائے خم پہ چاہیے ہنگامِ بے خودی
رو سوئے قبلہ وقتِ مناجات چاہیے

یعنی بہ حسبِ گردشِ پیمانۂ صفات
عارف ہمیشہ مستِ مئے ذات چاہیے

نشو و نما ہے اصل سے غالبؔ فروع کو
خاموشی ہی سے نکلے ہے جو بات چاہیے

شعراء کی عادت ہے کہ وہ جب غزل میں قطعہ بند اشعار پیش کرتے ہیں تو ان کے شروع میں "ق" لکھ دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   پیش خیمہ موت کا خوابِ گراں ہو جائے گا

(8) مضمون کے لحاظ سے فرق:

قطعے کے اشعار میں بلحاظ مضمون تسلسل ہوتا ہے ، یہی تسلسل رباعی میں بھی ہوتا ہے ، مگر رباعی کے چوتھے مصرع کا معنوی لحاظ سے سب سے زیادہ جاندار ہونا ضروری ہے ، یہاں تک کہ رباعی کے ابتدائی تینوں مصرعوں کا معنوی لحاظ سے دار و مدار چوتھے مصرع پر ہوتا ہے ، یہ قید قطعے میں ملحوظ نہیں ہوتی۔

جیسے صوفی تبسم کا یہ قطعہ ملاحظہ فرمائیے:

کتنی ہنگامہ خُو تمنّائیں
مضمحل ہو کے رہ گئیں دل میں

جیسے طوفاں کی مضطرب موجیں
سو گئی ہوں کنارِ ساحل میں

اب غالب کی اس رباعی میں غور کیجیے:

مشکل ہے زبس کلام میرا اے دل
سُن سُن کے اسے سخنورانِ کامل

آساں کہنے کی کرتے ہیں فرمائش
گویم مشکل و گر نگویم مشکل

ان دونوں کے چوتھے مصرع کی معنویت میں غور کرنے سے رباعی اور قطعہ کا یہ فرق بخوبی واضح ہوجائے گا۔

(1026 مرتبہ دیکھا گیا)

محمد اسامہ سرسری

محمد اسامہ سرسری مستند عالِمِ دین اور فقہِ اسلامی کے متخصص ہیں۔ اسامہ صاحب دینی تعلیمات کے ساتھ ادبی اور فنی سرگرمیوں کا بھی فعال حصہ ہیں۔ انتہائی محنتی اور معاون طبیعت رکھتے ہیں اور متعدد کتب کے مصنف بھی ہیں ، کتاب "آؤ شاعری سیکھیں" ان کی اب تک کی شہ کار تصنیف ہے جسے اندرون و بیرون ملک ہر جگہ خوب پذیرائی ملی ہے۔ سوشل نیٹ ورک پر سینکڑوں لوگوں کو ادب اور شاعری کی فنیات آسان انداز میں سبقاً سبقاً سکھاتے ہیں۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

1 تبصرہ

  1. ندیم مراد says:

    ایک لاجواب تحریر

تبصرہ کریں