لاہور کی سیر

گذشتہ دنوں کالج کی طالبات کے ساتھ بطور نگران لاہور کی ایک روزہ سیر کا اتفاق ہوا۔ علامہ گوگل کی مدد سے متوقع وزٹ کی جانے والی جگہوں کا نقشہ بنایا۔ سامان ضرورت ساتھ رکھا اور صبح چار بجے روانہ ہو گئے۔ راستے میں ہمارا قافلہ نماز وغیرہ کی غرض سے رکتا رہا۔ ہم دس بجے لاہور پہنچ گئے۔راستے میں دریائے چنا ب نیم خشک جبکہ راوی مکمل خشک حالت میں ہمیں دکھائی دیا۔ ہمارا پہلا پوائنٹ بادشاہی مسجد تھا۔ مسجد کے باہر علامہ اقبال کی قبر تھی جس کی طرف شاید سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے داخلہ بند کر دیا گیا تھا۔ ہم اقبال کی قبر کو دور سے ہی دیکھ سکے۔ یوں تو کئی دفعہ لاہور آنے اور سیر کرنے کا اتفاق ہوا لیکن جب بھی بادشاہی مسجد آمد ہوئی ایک عجیب سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔
بادشاہی مسجد مغل فن تعمیر کا شاہکار ہے۔ اس کے حال اور برآمدوں کے اندر پانچ ہزار نمازیوں کی گنجائش ہے۔ جبکہ صحن وغیرہ کو شامل کرکے پچانوے ہزار افراد نماز ادا کر سکتے ہیں۔ یہ مسجد تین سو تیرہ سال تک دنیا کی سب سے بڑی مسجد رہی ہے۔ اس کا صحن اب بھی دنیا کی تمام مساجد سے بڑا ہے۔ لیکن یہ شاید عید کے موقع پر ہی مکمل بھرتا ہو گا۔ اس کی تعمیر کے وقت برصغیر اور دنیا میں مسلمان ابھی ایک قوت تھے۔ بادشاہی مسجد سے اگر مینار پاکستان کی طرف دیکھیں تو صدیوں کی تاریخ دکھائی دیتی ہے۔ گھٹاٹوپ اندھیرا، زوال، جدوجہد اور پھر یہ مختصر سا آزاد خطہ ایک پوری داستان نظر آتی ہے۔ یعنی ایک وقت تھا کہ پورا برصغیر ہمارا تھا۔ اور پھر ایسا زوال آیا کہ سب کچھ چھن گیا۔ اور پھر لاکھوں قربانیوں کے بعد ایک چھوٹی سی جگہ پاکستان حاصل کرنے میں کامیابی ہوئی۔بادشاہی مسجد ہماری عظمت کا نشان ہے تو مینار پاکستان اسی عظمت کو دوبارہ حاصل کرنے کی طرف محض ایک قدم۔
بادشاہی مسجد میں خواتین کی نماز کے لیے بھی جگہ مختص ہے۔ یہ سہولت مجھے فیصل مسجد اسلام آباد اورایک آدھ دیگر جگہوں پر ہی نظرآئی۔ وگرنہ بڑی بڑی مساجد میں خواتین کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ نہ ان کے لیے الگ سے کوئی وضو گاہ بنائی جاتی ہے جہاں وہ پردے کا خیال رکھتے ہوئے وضو اور پھر نماز ادا کر سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ سفر میں خواتین کا نماز ادا کرنا ایک معرکہ سر کرنے سے کم نہیں ہوتا۔اور بہت کم لوگ ہی ایسا کر پاتے ہیں۔ وگرنہ پکی نمازی خواتین بھی دل میں حسرت لے کر اپنی نمازیں ضائع کر دیتی ہیں۔ ہمارے ساتھ موجود خواتین کو بھی انہی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔بادشاہی مسجد کے بعد ہم شاہی قلعہ جا پہنچے۔ شاہی قلعے میں ہمیں مغلوں کے زوال کے اسباب نظر آنا شروع ہو گئے۔ حد سے زیادہ آسائش اور پروٹوکول۔ اور حفاظت کے لیے قلعوں کی تعمیر۔ ہر جگہ مستعد گارڈز۔ قلعے کی تعمیر سے صاف نظر آتا تھا کہ انہوں نے میدانوں کو چھوڑ کر قلعوں میں اپنی حفاظت کا بندوبست کیا تھا۔ لیکن وہ شاید بھول گئے تھے کہ قومیں میدانوں میں زندہ رہتی ہیں قلعوں میں نہیں۔
مینار پاکستان پر ہم نے کھانے کا پروگرام بنایا لیکن ہماری سپلائی یونٹ ٹریفک میں پھنس جانے کی وجہ سے ہمیں دیر ہو گئی۔ مینار پاکستان کو بھی باڑ لگا کر بند کر دیا گیا تھا۔ چنانچہ ہم کچھ بھوک میں اور کچھ مینار پاکستان بند ہونے کے غصے میں شالیمار باغ جا پہنچے۔ کچھ سکون کا احساس ہوا لیکن خالی سکون سے بھوک نہیں مٹتی۔ اب تو ہماری سپلائی یونٹ کے کمانڈر صاحب نے فون اٹینڈ کرنا بھی بند کر دیا تھا۔ تین بجے ہم نے ہر صورت واہگہ بارڈر پر پہنچنا تھا۔ اس لیے مزید انتظار کیے بغیر گاڑیوں کا رخ کیا۔ کھانا گاڑی میں ہی کھایا اور واہگہ جا پہنچے۔یہاں بھی سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے کافی چیکنگ وغیرہ کا سلسلہ تھا۔ کئی ناکوں سے گزرنے کے بعد آخر کار ہم گیٹ پر پہنچ گئے۔ بے انتہا رش تھا، تل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔ لیکن تھوڑی بہت جدوجہد کرکے ہم نے بھی پریڈ دیکھنے کی جگہ بنا ہی لی۔ نہایت جوش و خروش کا منظر تھا۔ تکبیر کے نعرے گونج رہے تھے۔ ہم نے بھی نعرے لگائے لیکن ہمارے نعرے کھوکھلے تھے۔ مجھے تو بار بار ان سوکھے دریاﺅں کی تصویریں دکھائی دے رہی تھیں۔ اور اسی پرجوش پریڈ سے چند قدم کے فاصلے پر باب تجارت منہ چڑا رہا تھا۔ وہ بھارت جو پاکستان کا پانی روک کر بنجر بنا رہا تھا۔ اور پوری قوم نہایت جذباتی ہو کر جس کے سامنے سینہ تان کر کھڑی تھی۔ ہمارے حکمران انہی سے تجارت کی پینگیں بڑھا رہے تھے۔ مجھے تو ان تجارتی ٹرکوں کے نیچے لاکھوں شہداءکا خون رسوا ہوتا دکھائی دیا۔ کشمیر کا حصول تو دور کی چیز خود پاکستان کی بقا کو بھول کر حکمران ٹماٹر پیاز کے پیچھے پڑ گئے ہیں۔
اس ذہنی کشمکش کے اندر ہی ہم جلو پارک آئے لیکن وہ بند ہو چکا تھا۔ ہمیں رات کے اندھیرے کی وجہ سے اجازت نہ مل سکی۔ اب ہم فورٹریس سٹیڈیم جانا چاہتے تھے لیکن راستے میں ایک جگہ رک گئے۔ کافی دیر انتظار کے بعد پتہ چلا کہ پرنسپل صاحب ایئر پورٹ کے اندر جانے کی اجازت حاصل کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ آخر کار ان کی محنت رنگ لائی اور ہمیں داخلے کی اجازت مل گئی۔ ہم نے مختصر وقت میں ایئر پورٹ کی سیر بھی کی اور پھر بھاگم بھاگ فورٹریس جوائے لینڈ پہنچ گئے۔ بچوں نے خوبصورت جھولوں میں خوب انجوائے کیا۔ نصف رات کو کھانا کھایا اور واپسی کا سفر شروع ہو گیا۔

یہ بھی پڑھیں:   شاعری یا شعر کی تعریف

(117 مرتبہ دیکھا گیا)

یاسر غنی

یاسر غنی

یاسر غنی صاحب سائنس کے شعبے نباتیات میں ماسٹرز ہیں۔ فی الحال ایک کالج کے پرنسپل ہیں اشاعت و بلاغت میں سر گرم ہونے کے ساتھ مطالعے کو اپنا مشغلہ رکھتے ہیں۔ اور لوکل اخبارات میں "نشانِ منزل" کے عنوان سے کالم بھی لکھتے رہتے ہیں۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں