لا محدودیت اور طبیعیات کے مشترکہ عجائب

لا محدودیت اور طبیعیات

کیا آپ  فزکس کی دیو مالائی فیلڈ اسٹرنگ تھیوری سے واقف ہیں؟ اگر نہٖیں تب بھی خیر ہے کیونکہ آج کا موضوع اسٹرنگ تھیوری نہیں بلکہ ایک دلچسپ ریاضیاتی انفنیٹ نمبر سیریز ہے۔ فزکس اور ریاضی سے شغف رکھنے والے احباب مندرجہ ذیل کتاب سے ضرور واقف ہونگے جو کہ اسٹرنگ تھیوری کی چند بہترین کتب میں شمار ہوتی ہے۔

اگر آپ کے پاس یہ کتاب موجود ہے تو اس کا صفحہ 22 کھولیے اور بغور مطالعہ کیجیے، اور جن احباب کے پاس کتاب موجود نہیں ان کے لیے سنیپ شاٹ حاضر ہے، چند منٹ توجہ سے پڑھیے،

لا محدودیت اور طبیعیات

اگر پڑھ کر سخت بوریت ہوئی یا اونگھ یا  پھرنیند کا غلبہ ہوا اور ککھ سمجھ نہیں آیا تو اطمینان کر رکھیے کہ آپ بالکل نارمل انسان ہیں۔ صفحہ پڑھنے کی درخواست کا مقصد کچھ بھی سمجھانا نہیں ہے بلکہ ایک نقطے کی طرف توجہ دلانا ہے، ہو سکتا ہے بعض ریاضی کی سمجھ بوجھ رکھنے والے احباب پہلے ہی اس نقطے تک پہنچ کر سکتے میں آ کر لا حول ولا قوۃ کا ورد شروع کردیا ہوگا کہ بھائی یہ کیا مذاق ہے۔ اگر اب بھی نیند سے بیدار نھیں ہوئے تو ذرا ایکویشن (مساوات) 1.3.32 کو ایک با پھر پڑھیے؟ کچھ احساس ہوا ۔۔۔؟ شاید بعض دوست ریاضیاتی notation سے نا واقف ہوں انکی  آسانی کے لیے مزید وضاحت سے اسی ایکویشن کو  لکھے دیتا ہوں۔

Calculus میں انتہای بنیادی تربیت رکھنے والے حضرات کے لیے مندرجہ بالا ایکویشن کسی الیکٹرک شاک سے کسی صورت کم نہیں ہو سکتی ۔ وہ بارہا یہ ضرور پڑھ چکے ہونگے کہ natural اعداد کی  سیریز divergent یعنی ناقابل پیمائش ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ دل ہی دل میں ضرور سوچ رہے ہونگے جوزف پولچنسکی صاحب نے یہ ایکویشن اپنی کتاب میں لکھ کر انتہائی بھونڈا مذاق کیا ہے یا پھر لکھتے وقت اپنے حواسوں میں نہیں ہونگے یا پھر پبلشر نے غلطی سے پرنٹ کردیا ہوگا۔ اگر آپ ایسا سمجھ رہے ہیں تو اطمینان رکھیے یہ مساوات بعینہ اسی طرح اسٹرنگ تھیوری میں بار بار استعمال ہوتی ہے، نہ صرف اسٹرنگ تھیوری بلکہ کوانٹم فیلڈ تھیوری اور کسی حد تک complex analysis  میں بھی استعمال کی جاتی ہیں۔  اب سر کھجاتے ہوئے آپ ضرور سوچ رہے ہونگے یا تو یہ ایکویشن غلط ہے یا پھر یہ ساری تھیوریز۔  مگر ان میں سےکوئی بھی غلط نہیں ۔۔ مگرکیسے ؟ اگلی تحریر کا انتظار کیجے۔

یہ بھی پڑھیں:   طوطا اور مینا

وہ قارئین جو calculus سے واقفیت نہیں رکھتے انکے لیے مندرجہ بالا ایکویشن شاید اب بھی دلچسپی اور حیرت کا باعث نہ ہو پر مندرجہ ذیل وضاحت  ان کو بھی یقیناً تشویش یا حیرت زدہ کر دے گی۔

۱۔ آپ کی نظر میں دو اشیاء کی برابری کا بنیادی فطری اصول کیا ہونا چاہیے ؟ یقیناً آپ میری بات سے اتفاق کریں گے کہ یہ تب ہی ممکن ہے جب دونوں اشیا، کی نوع، جنس اور حجم یا سائز برابر ہو۔ اب اسی اصول کے تحت ذرا غور کیجیے ایکویشن کے ایک طرف تمام اعداد اور انکا مجموعہ positive (مثبت) ہے اور دوسری جانب منفی۔

۲۔ ایکویشن کے ایک جانب تمام اعداد natural (قدرتی) ہیں اور انکا مجموعہ ہے جبکہ دوسری جانب صرف ایک معصوم سا  fraction۔ یعنی کھودا natural اعداد کا پہاڑ اور نکلا معصوم سا فریکشن اور وہ بھی منفی۔

۳۔ اگر آپ اب بھی نہیں چونکے تو ایک مثال سے یہ ایکویشن سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں۔ فرض کیجے کہ آپ اپنے بینک اکاونٹ میں آج 1 روپیہ جمع کرواتے ہیں اور کل 2 روپے، پرسوں 3 روپے، چوتھے دن 4 روپے اور اسی ترتیب سے ہر آنے والے دن پچھلے دن جمع کرائی گئی  رقم سے ایک روپیہ ذیادہ جمع کرواتے ہیں اورمزید فرض کیجیے کہ آپ نے اپنے اکاؤنٹ سے کبھی بھی ایک روپیہ تک withdraw نہیں  کیا۔  پھر لامتناہی ایام کے بعد آپ کو خیال آتا ہے کہ آج ذرا اپنا بینک بیلنس تو معلوم کروں کہ اب میں کتنا دولت مند ہوچکا ہوں۔ آپ کاؤنٹر پر جا کر اپنا بیلینس دریافت کرتے ہیں ۔ کیشئر کا جواب سن کر آپ غش کھا کر گر جاتے ہیں کیوں کہ وہ آپ کو کہتا ہے ۔ " کاہے کے پیسےجناب؟ آپ بینک کے 12/1 روپیوں (تقریبا 9 پیسے) کے مقروض ہیں" یعنی اپنے اکاؤنٹ لامتناہی رقم ڈپازٹ کرنے کے بعد نتیجہ آپ کا مقروض ہونا نکلے۔  سوچیے اس صورتحال میں کیا حال ہوگا آپ کا-

کیا آٓپ ایسی تھیوری جسکے حساب میں ایسی خوفناک ایکویشن شامل ہو یقین کریں گے؟ دراصل یہ ایکویشن، اسٹرنگ یا کوانٹم فیلڈ تھیوری میں انتہائی مخصوص حالات اور انتہائی مخصوص معانی میں استعمال ہوتی ہے۔ جسکا کچھ مختصر تذکرہ اگلی تحاریر میں کروں گا۔

یہ بھی پڑھیں:   ہم جنسیت (Homosexuality)

 

اس تحریر کے دوسرے حصے کا مقصد مذکورہ بالا ایکویشن کے proof پر کلام کرنا ہے۔ Proof کے جس طریقے کی طرف جوزف صاحب نے اشارہ کیا ہے اس کے لیے ریاضی کے چند ثقیل تصورات، جیسا کہ Analytic continuation اور ہمارے دیرینہ دوست zeta function کی سمجھ ہونا ضروری ہے اور میرا ہرگز یہ موڈ نہیں کہ انکی تفصیلات میں جاکر آپ کومزید بور کروں۔ لہذا میں ایک بالکل سادہ سا 'proof'  پیش کروں، جس پر مجھ سمیت تمام اصحاب ریاضی شائد مطمئن نہ ہوں۔ اب چونکہ مقصود بات عوام کو سمجھانا ہے نہ کہ ایکویشن کا rigorous proof دینا، لہٰذا امید ہے کہ ٹیکنیکل احباب بعض خامیوں کو درگزر کریں گے۔  ایک بار پھر اس انتباہ (warning) کے ساتھ  مندرجہ ذیل 'proof' کو حتمی طور پرقابل یقین نہ سمجھیں اور نہ ہی یہ وہ proof ہے جو فزکس میں استعمال کیا جاتا ہے۔  Proof میں ایک مقام پر ذرا سی چیٹنگ کی گئی ہے (کیونکہ جہاں انفنٹ ہو وہاں چھوٹی موٹی شرارتوں کی گنجائش ھمیشہ رہتی ہے) ۔ آپ کے لیے exercise یہ ہے کہ proof میں وہ شرارت تلاش کریں۔

 

تو جناب اب ہمارا بنیادی مقصد  مندرجہ ذیل مجموعہ کی value معلوم کرنا ہے اور یہ ثابت کرنا ہے کہ یہ مجموعہ 12/1- کے برابر ہے۔

اپنی آٖسانی کے لیے ہم اس مجموعے کو ایک نامعلوم A کا نام دے دیتے ہیں اور ہم یہ ثابت کریں گے کہ A برابر ہے 12/1- کے۔

بعض اوقات اگر ایک سوال کا جواب اگر  directدینا ممکن نہ ہو تو سوال کوحصوں میں تقسیم کر کے جواب تلاش کرنے کی کوشش کرنا ایک فطری طرز عمل ہے۔ اسی اصول کے تحت ہم دو آسان اور مزیدار سی دو سیریز سے مدد حاصل کرتے ہیں۔

اب ان دونوں (بلکہ تینوں) سیریز کو ذہن نشین کر لیجیے- آیئےسیریز B سے کھیل کا آ غاز کرتے ہیں۔ پہلی نظر میں یوں محسوس ہوتا ہوگا کہ سیریز B کا کل مجموعہ زیرو ہونا چاہیے کیونکہ پہلے ایک جمع پھرایک تفریق پھر جمع پھر تفریق اور ترتیب سے کل مجموعہ زیرو ہونا چاہیے۔ مگر ایک کام کیجیے B میں پہلے 1 کو چھوڑ کر باقی تمام ٹرمز سے منفی 1 یا -1 common نکال لیجیے، تو اب B کی شکل کچھ اس طرح ہو گی۔

یہ بھی پڑھیں:   بچے کے لیے صرف ماں کا دودھ

اب ذرا غور کیجیے بریکٹسس اندر کیا موجود ہے؟ امید ہے کہ آٓپ اتفاق کریں گے کہ وہ بھی B ہی ہے لہذا ہم مندرجہ ذیل ایکویشن لکھنے میں حق بجانب ہیں،

امید ہے کہ آپ مندرجہ بالا دلیل سے مطمئن ہونگے اور نتیجہ سمجھ چکے ہونگے کہ مجوعہ B برابر ہے 1/2 کے۔ اب C کی طرف متوجہ ہوں۔ نیکسٹ اسٹیپ میں C کو C میں جمع کریں گے اور دیکھیں گے کہ یہ مجموعہ  B کے برابر آ جائگا۔ وہ کس طرح ؟ ملاحظہ ہو،

یہ بات نوٹ کی جا سکتی ہے کہ نچلے C میں ایک اضافی زیرو جمع کیا گیا ہے جسکا مجموعے پر کو فرق نہیں پڑتا۔ اب دونوں اطراف کا جمع کرلیجیے اور ذہن میں یہ رکھیے کہ B=1/2 ۔

لہٰذا

 

تو جناب اب تک کے نتائج یہ ہیں کہ B=1/2 اور C=1/4 کے۔ اب نتائج کو سامنے رکھ کر ہم اپنی اصل مطلوبہ سیریز  A کا مجموعہ حاصل کرنے کی پوزیشن میں آ چکے ہیں۔  اسکے لیے اگلا قدم A میں سے C کو تفریق کرنا ہے۔

اب آخری سیریز سے 4  factor outکر لیں اور A سیریز کو ذہن میں رکھیں تو صورتحال کچھ اسطرح ہوگی۔

یاد کیجے کہ ہم C  کی ویلیو پہلے ہی معلوم کر چکے ہیں جو کہ  1/4 ہے۔ اوپر دی گی آخری ایکویشن میں یہ ویلیو ڈالنے کے بعد ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں۔

پس ہمارا مندرجہ ذیل بنیادی دعوی درست ہے،

تو جناب کیسا رہا proof کا سفر؟ کیا آپ شرارت ڈھونڈ پاۓ؟ یہ معمہ آپ کے سوچنے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔ بات کا اختتام اس نقطے پر کہ غور کیجے کہ ان تمام سیریز میں ایک چیز مشترک ہے اور وہ ہے  سیریز کی لامحدودیت، اب جہاں جہاں لامحدودیت کے سایے ہونگے وہاں وہاں ایسی ہی پراسریت جنم لیتی رہے گی۔ اب چونکہ فزکس لامحدویت کا گڑھ ہے لہذا یہ پراسریریت کا بھی گڑھ ہے۔

(388 مرتبہ دیکھا گیا)

جاوید حسین

جاوید حسین صاحب سائنسی مضامین لکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ حال میں ریاضی میں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ ان کی تحریروں سے فائدہ اٹھائیں۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

4 تبصرے

  1. ما شا اللہ، عمدہ تحریر، ریاضیات میں تو لامحدودیت سمجھ میں آتی ہی، البتہ طبیعات میں تو یہ ad hoc roles and lack of resources محسوس ہوتے ہیں۔ مزید کا انتظا ر رہے گا۔

  2. zamzam says:

    Shock is a small word, m stunned 😀

  3. sajjad says:

    سر میں ریاضی سے بہت محبت کرنین ولا کا طالب علم اپکے مضامنں بہت دلچسپ.......اپسے باقائدہ استیفادہ کرنا چاہتا ہوں کیا اپ ہفتے مہینین مین کچھ وقت نکال سکتے ہیں مجھے Mathematical analysis .....Advance set theory .... mathematical logic بہت پسند ہے .....اپ سے رہنمائی چاہتا ہوں

تبصرہ کریں