لباس کا المیہ

”حسیب صاحب آپ ہی ہیں؟“
پرسنپل کی اسسٹنٹ نے مجھے اوپر سے نیچے تک دیکھا جیسے نگاہوں سے اسکیننگ کر رہی ہو۔
”جی ہاں میں ہی ہوں ۔۔۔۔۔“
کافی دیر تک وہ حیرت اور صدمے کی کیفیت میں رہی
شاید سوچ رہی ہو یہ داڑھی والا سر پہ ٹوپی جماۓ شلوار قمیص میں ملبوس اور شلوار کے پائنچے بھی ٹخنوں سے اوپر اور تو اور ظالم نے واسکٹ بھی پہن رکھی ہے۔۔۔
آخر کون ہے یہ اور یہاں کیوں آیا ہے۔۔؟
یہ کراچی کا صف ا وّل کا کیمبرج اسکول تھا جسکی منجمنٹ (zoroastrian) پارسی تھی۔۔
بادل نخواستہ موصوفہ نے مجھے اسلامیات کوآرڈینیٹر (coordinator) نعیم ابراہیم صاحب کے حوالے کیا کہ جنہوں نے مجھے سینیر کیمبرج کے سامنے لا کھڑا کیا۔
میرا موضوع ’اصولِ حدیث‘ تھا۔
اور پھر فقیر نے انگریزی میں لیکچر دیا اور نعیم ابراہیم صاحب استعجاب سے دیکھتے رہے۔
اور پھر مجھے کرمین پاریکھ صاحبہ کے سامنے لاکر بیٹھا دیا گیا کہ جو اسکول کی پرنسپل تھیں۔
”کیا آپ پینٹ شرٹ نہیں پہن سکتے ... ؟“
”دیکھئے محترمہ۔۔۔! “ میں نے گلا صاف کرتے ہوئے جواب دیا ......
”آپ کا تعلق پارسی کمیونٹی سے ہے اور جو ساڑھی آپ نے باندھ رکھی ہے وہ آپ کی مذہبی و ثقافتی روایات کی امین ہے اور مجھے یقین ہے کہ اپنے آپ کو جتنا خوبصورت آپ اس لباس میں محسوس کرتی ہیں کسی اور لباس میں نہ کرتی ہونگی .......
ایسا ہی کچھ معاملہ میرے ساتھ بھی ہے اور میں اپنے قومی لباس میں ہی روحانی (spiritual) سکون اور ذہنی یکسوئی محسوس کرتا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ آپ کو ایسا ہی مدرس درکار ہوگا کہ جو مکمل شرح صدر اور یکسوئی کے ساتھ اس معتبر درسگاہ کے معیار کو برقرار رکھتے ہوۓ یہاں کے طالب علموں کو پڑھا سکے .........“
شاید محترمہ کے پاس اس کے بعد کچھ اور کہنے کو نہ رہا تھا

یہ بھی پڑھیں:   درد ختم کرنے والی دوائیں اور ان کے اثرات

She remained silent. There was nothing left to say.

اور پھر اگلے دن سے میں سے اسکول جوائن کر لیا۔۔۔
شاید یہی ہمارا المیہ ہے کہ ہم لوگوں کو صلاحیت سے نہیں لباس سے جانچتے ہیں۔

(107 مرتبہ دیکھا گیا)

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

1 تبصرہ

  1. ignorantways says:

    Like a Boss !

    Keep shining

تبصرہ کریں