لبرلز اور سیکولرز کا اصل مسئلہ

میں مولویوں کو نہیں مانتا۔ یہ انسانوں کو غلام بنانے کے قائل ہیں۔ یہ عورتوں کو لونڈیاں بناتے ہیں۔ یہ انسانیت کی توہین کرتے ہیں۔ یہ غلامی کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ یہ ہمارے دیسی سیکولرز اور لبرلز اور سیکولرز کہلوانے والوں کا اعتراض ہوتا ہے۔

یہ تحریر بھی پڑھیں  icon-hand-o-left غلامی، لونڈیاں اور اسلام

ان کے اعتراض کو تحمل سے سن کر آرام سے سمجھایا جاتا ہے کہ بھائی غلامی سے کیا مراد ہے؟ اس کی ابتدا کہاں سے ہوئی؟ اسلام سے پہلے غلام لونڈیوں کے ساتھ کیا سلوک ہوتا تھا۔ اسلام نے آ کر کیا تبدیلیاں کیں۔ کن چیزوں کو ختم کیا اور کن کو برقرار رکھا اور جن کو برقرار رکھا ان کی کیا حکمت و مصلحت تھی؟ پھر ان کو تاریخی شہادت بتائی جاتی ہے کہ غلام لونڈیوں کے ساتھ سب سے زیادہ اچھا سلوک اسلام ہی کے دور میں ہوا۔ اس سے پہلے اور بعد میں اس بہترین سلوک کی مثال بھی نہیں ملتی۔ خاموشی چھا جاتی ہے۔

دوسرے دن ایک نیا اعتراض سننے کو ملتا ہے۔ یہ مولوی تو بیس بیس شادیاں کرتے ہیں۔ عورتوں کو انسان کا درجہ ہی نہیں دیتے۔ اس پر انہیں تحمل سے سنا جاتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کسی مسلمان کو چار سے زیادہ شادیوں کی اجازت نہیں ہے۔ اول تو کسی نے چار سے زائد شادیاں کی ہی نہیں ہوں گی اور اگر کسی بدبخت نے بیک وقت چار سے زیادہ شادیاں کی ہوں گی تو وہ کم از مولوی نہیں ہو گا۔ یقینا کوئی جاہل ہی ہو گا۔ اسلام کسی شخصی یا اجتماعی غلط فیصلے کی تائید نہیں کرتا۔ پھر ان کو دنیا میں انسانی آبادی کا تناسب، مردوں کی اموات و مصروفیات کا جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔ تاریخ سے مثالیں دی جاتی ہیں کہ ایک سے زائد بیویوں کی ہمیشہ ضرورت رہی ہے۔ لیکن یہ کوئی فرض عمل نہیں ہے۔ ہر شخص کی انفرادی مرضی اور حالات و واقعات پر منحصر ہے۔ اور زائد شادیوں کا مطلب مکمل ذمہ داری اٹھانا بھی ہے اور بیویوں کے درمیان عدل بھی۔ اور ایسا کرنے کی اجازت خود اللہ نے انسان کو دی ہے۔ اسلام کے نام پر خود فیصلے کرنا کسی مولوی کا اختیار ہے اور نہ ہی جرات۔ خاموشی چھا جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   دنیا چاند پر پہنچ گئی اور آپ۔۔۔؟

ایک ہفتے بعد ایک نیا اعتراض وارد ہوتا ہے۔ کہ مولوی نے بیوی پر تشدد کرنے کا قانون بنا لیا ہے۔ مولانا شیرانی کا حوالا دیا جاتا ہے کہ مولانا نے ہلکا تشدد کرنے کا لائسنس دے دیا ہے۔ ثابت ہوا کہ مولوی ظالم ہیں۔ سورہ النسا کی روشنی میں میاں بیوی کے تعلقات کی انتظامی نوعیت کی وضاحت کی جاتی ہے۔ وقتی خاموشی لیکن چند دن بعد کوئی نیا اعتراض پیدا ہو جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   نماز میں بھگدڑ

اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہ دیسی لبرلز اور سیکولرز مسلمانوں کے گھروں میں پیدا ہو گئے ہیں لیکن انہوں نے کبھی اسلام کو خود پڑھا ہی نہیں ہے۔ نہ کبھی کتاب اللہ اور نہ ہی سیرت الرسول ﷺ کا مطالعہ کیا ہے۔ اس لیے ان کے ذہن میں اسلام کے تصورات ہی واضح نہیں ہیں۔ ان کا سارا علم میڈیا اور چند بہکے ہوئے کالم نگار ہیں۔ وہ اسلام کو ایک کلی نظام کے طور پر سمجھنے کی بجائے موجودہ تہذیب کے ایک ضمیمے کے طور پر ہی اسے لینا چاہتا ہے۔

ایسے لوگوں کو یہ مخلصانہ مشورہ ہے کہ اگر وہ دل سے مسلمان ہیں اور ناسمجھی میں ایسا کر رہے ہیں تو جلد از جلد قرآن و حدیث کا خود مطالعہ کریں۔ اسلام کی تعلیمات کو مکمل طور پر سمجھیں۔ اہل علم کی شاگردی اختیار کریں۔ مستشرقین اور کفار کے پھیلائے گئے پروپیگنڈے اور ان کے دیے گئے جوابات کا تجزیہ کرکے حق تک پہنچنے کی کوشش کریں۔ قرآن و حدیث کا خود مطالعہ کیے بغیر صرف سنی سنائی باتوں کے ذریعے مزید گمراہی کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔

اور اگر جان بوجھ کر مسلمانوں میں اسلام کے متعلق بدگمانیاں پھیلانے کے لیے ایسا کر رہے ہیں جیسا کہ ان کے عمل سے ایسا لگ بھی رہا ہے تو جان رکھیں کہ مسلمان مغلوب ضرور ہیں بیوقوف نہیں۔ وہ اسلام کے خلاف ہونے والی ہر سازش کو سمجھتے ہیں۔ عوام الناس دل سے اسلام پر ایمان اور پیغمبر اسلام ﷺ سے محبت رکھتے ہیں۔ وہ ہر اس لچے لفنگے کو مسترد کر دیں گے جو نام کا تو مسلمان ہو لیکن مولوی کی آڑ لے کر اسلام کی جڑیں کاٹ رہا ہو اور پیغمبر اسلام ﷺ اور شعار اسلام کی توہین کر رہا ہو۔ ایسے میں ان دیسی انگریزوں کے لیے ایک ہی قابل عمل بات ہے کہ وہ جرات کا مظاہرہ کریں اور اسلام سے باہر نکل جائیں اور پھر کھل کر جو چاہے اعتراض کریں یا جیسے چاہیں مقابلہ کریں۔ ان شاء اللہ وہ جان لیں گے امت اب بیدار ہو رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا خدا ہر کام پر قادر ہے ؟

یاسر غنی

(117 مرتبہ دیکھا گیا)

یاسر غنی

یاسر غنی

یاسر غنی صاحب سائنس کے شعبے نباتیات میں ماسٹرز ہیں۔ فی الحال ایک کالج کے پرنسپل ہیں اشاعت و بلاغت میں سر گرم ہونے کے ساتھ مطالعے کو اپنا مشغلہ رکھتے ہیں۔ اور لوکل اخبارات میں "نشانِ منزل" کے عنوان سے کالم بھی لکھتے رہتے ہیں۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

1 تبصرہ

  1. اچھی تحریر ہے۔

    جن لوگوں کے دلوں میں بیماری ہے اُن کے لئے دعا ہی کی جا سکتی ہے۔

تبصرہ کریں