لفظوں کا گورکھ دھندا

کسی مسئلے پر ایک صحافی کی اپنی رائے ہونا بعید از قیاس نہیں مگر کھلے عام اس حقیقت کا بیان صحافیانہ اقدار کے خلاف سمجھا جاتا ہے، دن رات خبروں کے پیچھے بھاگتےبھاگتے ، خبریں تلاش کرتے کرتے اتنا اندازہ تو ہو ہی جاتا ہے کہ کون سی خبر واقعی خبر ہے اور کون سی خبر محض ” لفظوں کا گورکھ دھندا “ ہے۔

یہ تو صحافیوں کی بات ہے عام قاری بھی چار مختلف خبریں دیکھ کر بین السطور اصل خبر جان ہی لیتا ہے۔ پروپیگنڈا کرنے کے اثرات تو بہرحال ہوتے ہیں مگر یہ نہیں ممکن کہ حقیقت مکمل طور سے چھپا لی جائے۔ اس لئے عموماََ جب پروپیگنڈا کے بادلوں میں سے کہیں کہیں چھپ کر حقیقت کا سورج نمودار ہونے لگتا ہے تو پروپیگنڈا کرنے والے اسے تضحیک اور تمسخر کے دھویں میں چھپانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ”سازشی تھیوری“ کا نام دے کر کسی بھی حقیقت کو پروپیگنڈا کے گھاٹ اتار نے کی کوشش کی جاتی ہے۔ صحافیوں کی پیشہ ورانہ مجبوری ہے کہ ہمیں اپنے آپ کو غیر جانبدار ثابت کرنا پڑتا ہے اب چاہے وہ حق و باطل ہی کا معرکہ کیوں نہ ہو۔ ہمیں یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ نہ ہم حق کی طرف ہیں نہ ہی باطل کے خلاف بلکہ ہم محض صورتحال کو عوام تک پہنچارہے ہیں۔ بعض اوقات یہ صورتحال اس قدر تکلیف دہ ہوجاتی ہے کہ جی چاہتا ہے اپنی تمام زمہ داریاں پسِ پشت ڈال دیں اور چلا چلا کر کہیں لوگوں یہ جھوٹ ہے، یہ دھوکہ ہے ، یہ شخص دغاباز ہے، یہ موقف جعلسازی پر مبنی ہے ، ایسا کچھ نہیں ہے تمہیں بے وقوف بنایا جا رہا ہے ۔۔۔ مگر پھر ۔۔۔ پھر کچھ نہیں ہوتا۔۔ ہم کچھ نہیں کہتے کیونکہ ہم صحافی ہیں ہمارا کام باخبر رکھنا ہے ، ہمیں اس بات کو اہمیت نہیں دینی کہ یہ درست ہے یا نادرست ، یہ سچ ہے یا جھوٹ ۔ ہمیں فقط یہ بتانا ہے کہ ”فلاں شے ہے اور فلاں شے نہیں ہے“۔ کبھی کبھی معاملہ اس کے خلاف بھی ہوتا ہے لیکن اس وقت میں کچھ اور کہنا چاہتا ہوں۔ اس وقت میں کسی ریاست کی انتظامی مجبوری کی بات نہیں کرنا چاہتا ، اس وقت میں کسی خاص خطے کی معروضی حالات کے تحت خبروں کی اشاعت کی بات نہیں کر رہا ۔ اس وقت تو میں اس صحافیانہ مجبوری کی بات کررہا ہوں جس میں ہمیں ظالم اور مظلوم کو برابر رکھنا پڑتا ہے، ہمیں حق و باطل کی یکساں کوریج کرنی پڑتی ہے اور ہمیں اپنے جذبات کو اپنے قلم سے جدا رکھنا ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   شخصیت

صفحے پر یہ سیاہی پھیلاتے پھیلاتے انگلیاں لہولہان ہو جاتی ہیں۔ اس وقت بھی میرا دل خون کے آنسو رو رہا ہے مجھے یہ تحریر کرنا ہے کہ وہ سامراج جس نے دنیا کو خون میں لت پت کر رکھا ہے، وہ سپر پاور جس نے اپنے رعب و دبدبے کی بنیاد ہیرو شیما اور ناگاساکی کے معصوم انسانوں کے لہو پر رکھی، جس نے لاکھوں انسانوں کو اپنی حاکمیت کی بھینٹ چڑھا دیا، جو آج تک فضاؤوں سے نابینا آگ برسانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتا، جو یہ تسلیم کرتا ہے کہ اس کے ڈرون حملوں میں مرنے والوں کی بڑی تعداد ”بے گناہ“ بچوں کی ہے، جس کے درندے ملکی اور اخلاقی سرحدوں سے باہر دندناتے پھرتے ہیں۔ مجھے تحریرکرنا ہے کہ ۔۔ اس سامراج نے دنیا کو ہر ممکنہ خطرے سے بچانے کا عزم کر رکھا ہے۔ مجھے لکھنا ہے کہ امریکہ جوہری ہتھیاروں کی روک تھام چاہتا ہے اور یہ چاہتا ہے کہ کہیں یہی ہتھیار کسی دہشت گرد کے ہاتھ نہ لگ جائیں اورکہیں وہ بھی ایک نیا ہیرو شیما ایک نیا ناگاساکی برباد نہ کردیں۔

یہ بھی پڑھیں:   تقابل، موازنہ، قیاس اور ہمارے دعوے

مجھے تحریر کرنا ہے کہ دنیا کے پچاس ممالک کو اس مسئلے پر دعوتِ فکر دی گئی اور اس مسئلے کے مضمرات سے آگاہ کیا گیا۔ میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ محض ایک ڈھکوسلا ہے۔ اپنے جرائم کو دلیل فراہم کرنے کا ڈھکوسلا۔ یہ وہ دھول ہے جو وہ لوگوں کی آنکھ میں جھونک کر اپنے عزائم کو پورا کرنا چاہتا ہے۔ میں یہ نہیں کہہ سکتا مغرب کے دیوتا نے مشرق کے سینےمیں اپنا ایک ایسا خنجر گاڑ دیا ہے کہ جس کا زہر مشرق کی رگوں میں صدیوں تک دوڑے گا۔ میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ جس عفریت سے وہ دنیا کو ڈراتا ہے وہ اس نے خود ہی کھڑا کیا ہے ۔ایک ایسا عفریت جس کی پیدائش نے سامراج کو استحکام بخشا، جس کے اقدامات نے سامراج کی جڑیں گہری کردیں۔ ہر ملک کی زمین پر دہشت گرودں کے دھماکے سے پڑنے والے ہر گڑھے میں امریکہ نے اپنے عزائم کا ستون گاڑا ۔

میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس عفریت کے پنجوں کے ذریعے زمین کا تیل چوسنے والے اصل مجرم جب اپنے آہنی جبڑوں سے آگ اُگلتے ہیں تو درحقیقت وہ اس خزانے کی جگالی کرتےہیں جو وہ زمین کے سینے سے چرا کر لے گئےاور بدلے میں فساد کی ایسی فصل بو گئے ہیں جسے ہمیں اپنی رگِ جاں سے کاٹنا پڑے گا۔

میں یہ بھی نہیں کہہ سکوں گا کہ آئی اے ای اے نامی عالمی جوہری نباض جس کی لیباٹری کٹھ پتلی کی طرح کام کرتی ہے، جسے اسرائیل سے کبھی تشویش لاحق نہیں ہوئی، آج بھی اسرائیل کے معاملے پر ہاں اور نہیں کے درمیان کھڑا باقی دنیا پر مسکرا رہا ہے۔ میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ جب مستقبل میں آئی اے ای اے کا پردہ چاک ہوگا تب کون کون سے چہرے بے نقاب ہونگے۔

یہ بھی پڑھیں:   تمباکو نوشی کے فوائد

جب میں امریکی صدر کا یہ دعویٰ نقل کرونگا کہ ”امریکہ دنیا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک دیکھنا چاہتا ہے“ تب میں یہ نہیں کہہ سکوں گا کہ دنیا میں سب سے زیادہ جوہری ہتھیار رکھنے والے ملک کے صدر کا یہ دعویٰ عالمی برادری کے ساتھ ایک گھناؤنا مذاق ہے۔

مجھے تو اس سمیٹ کی خبر تحریرکرنی ہیں۔ جی ہاں میں یہ تحریر کرونگا ۔ تمام تر تفصیلات کے ساتھ تحریر کرونگا۔ درمیان میں اپنی طرف سے ایک جملہ بھی شامل نہیں کروں گا۔ پھر تمام میڈیا پر پھیلی اس کانفرس کی خبروں میں میری خبر بھی کہیں کھو جائے گی۔ اور اسکے ساتھ ہی مجھے اپنے تمام تر جذبات بھی دفن کرنے ہونگے، اور اپنے آنسؤوں کے خشک ہونے سے پیشتر کسی نئی خبر پر جگر خوں کرنا پڑے گا۔ کیونکہ میں ایک صحافی ہوں مجھے لوگوں تک غیر جانبداری سے خبر پہچانی ہے کہ ”امریکہ میں ہونے والی چوتھی جوہری دفاعی کانفرس اپنے اختتام کو پہنچی۔ تقریب کی میزبانی کرنے والے امریکی صدر بارک اوباما کا کہنا تھا کہ امریکہ دنیا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک دیکھنا چاہتا ہے “۔۔۔۔۔۔۔


تحریر: حسن علی امام

(109 مرتبہ دیکھا گیا)

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں