انہونیاں

اس نے پوچھا: تم نے کبھی کسی لڑکی کو خط لکھا؟
میں نے کہا: روایت ہے کہ ایک لڑکے نے ایک ایسی لڑکی کو خط لکھا جو اسکول میں پڑھاتی تھی۔۔۔ جوابی خط میں لڑکے کو اس کا اپنا خط ہی موصول ہوا جس میں املاء کی بے شمار غلطیوں کو انڈرلائن کیا گیا تھا ،،
اس نے قہقہہ لگایا: سو تمہارا مطلب کہ اس روایت کا تعلق تم سے ہے؟
میں نے کہا: کسی حد تک ہاں لیکن بہت حد تک نہیں۔۔۔۔ میں نے ایک لڑکی کو خط لکھا تھا۔۔۔لیکن اس کے بعد میں ایک ایسی خلش میں مبتلا ہوگیا جس نے تقریبا 8 سال مجھے پشیمان رکھا۔۔
اس نے حیرانی سے پوچھا: 8 سال کیوں؟اور 8 سال کے بعد کیوں نہیں؟؟
میں نے کہا: کیونکہ 8 سال بعد مجھے اس خط کا جواب ملا۔۔۔اور اس جواب نے میری خلش دور کردی۔
اس نے ایک توقف بعد کہا: وہ لڑکی کون تھی؟
میں نے کہا: وہ میری آپی کے پاس پڑھنے آتی تھی۔۔ایف ایس سی کی سٹوڈنٹ تھی
" خوبصورت تھی؟ "۔۔۔اب کی بار اس نے کچھ انداز سے پوچھا کہ مجھے ہنسی آتے آتے رہ گئی
میں نے کہا: بجائے اس کے میں یہ کہوں کہ "خوبصورت ہونا کیسا ہے؟ حسین چہرہ کسے کہتے ہیں؟؟ اور غزالی آنکھیں۔۔کیا ہوتی ہیں" میں ایک جملہ کہوں گا۔۔۔مجھے خوبصورتی کا ادراک ہے سو میں کہہ سکتا ہوں۔۔۔وہ بہت خوبصورت تھی۔لیکن۔۔۔وہ بڑا سخت پردہ کرتی تھی۔۔نقاب اوپر سے ابرووں تک اور نیچے سے زیریں پلکوں تک اوڑھے رکھتی تھی
اس نے طنزا کہا: اور تم نے اس کی خوبصورتی اس کڑے پردے کے پیچھے سے محسوس کرلی ہوگی ہے نا
اب کی بار میں ہنس دیا
نہیں۔۔۔اتفاق سے۔۔۔یا شاید حادثتا۔۔۔دراصل ہمارے گھر میں جو میرا کمرہ تھا۔۔۔وہ کچھ زیادہ کشادہ تھا۔ چونکہ دوست وغیرہ آتے تھے تو ان کے لئے میں نے ایک جانب فرش پر قالین بچھا رکھا تھا جہاں ہم بیٹھا کرتے۔۔دن کے وقت تو میں گھر میں ہوتا نہیں تھا۔۔سو آپی کے پاس جو لڑکیاں پڑھنے آتی وہ انہیں میرے کمرے میں ہی بٹھایا کرتی تھیں۔۔۔ایک دن میں اپنے کمرے میں ہی بیٹھا تھا۔۔دروازہ لاکڈ تھا۔۔دستک ہوئی۔۔۔میں نے کھولا۔۔۔اور مجھے اس لڑکی کا چہرہ نظر آیا۔۔۔اس نے یہی سمجھا ہوگا کہ کمرے میں اس کی ٹیچر ہی ہوں گی سو دروازے پر آتے ہی نقاب اتار دیا تھا۔۔۔لیکن وہ ایک پل بھر کی ساعت تھی بس۔۔۔ جیسے بجلی چمکتی ہے۔۔۔ہم دونوں اپنی اپنی جگہ سے پیچھے ہٹ گئے
اس نے تجسس سے پوچھا: پھر؟؟
میں خاموش رہ کر مسکراتا رہا
اس کی آنکھوں میں شرارت ابھری: مطلب پہلی نظر میں گھائل۔۔۔
میں نے مسکراہٹ سمیٹ کر اسے ناراضی سے گھورا
اس نے کہا: اچھا مجھے یہ بتاو کہ تم نے اسے خط کیسے دیا؟
میں نے واپس اپنی بات پر پلٹتے ہوئے کہا: جہاں وہ لڑکیاں بیٹھتی تھیں۔۔۔وہیں قالین کے نیچے میں نے خط رکھ دیا تھا۔۔اور اس نے اٹھالیا
اس کے چہرے پر پھر شرارت کے رنگ ابھرے لیکن پھر اچانک ہی جیسے اس نے چونک کر پوچھا: تم نے کہا کہ 8 سال بعد جواب ملا۔۔۔مطلب اس خط کا جواب تمہیں 8 سال بعد ملا؟۔۔۔۔ کیسے کیسے؟؟؟
میں نے کہا: کیونکہ جس دن میں نے اسے یہ خط پہنچایا۔۔۔اس کے بعد اس نے ہمارے گھر آنا چھوڑ دیا۔۔۔اور پھر وہ مجھے شہر میں بھی کہیں نظر نہیں آئی۔۔مگر 8 سال بعد۔
میں نے دیکھا۔۔۔اس کے شوہر اور ایک بیٹی کے ساتھ۔
اس نے کہا: اوہ ہ ہ۔۔۔ سو سیڈ۔۔۔ مطلب دوسرے لفظوں میں تم نے پہلی نظر کی یک طرفہ محبت کی اور ریجیکٹ کر دئیے گئے۔۔۔ ہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔
اس نے طویل قہقہہ لگایا اور اس کی ہنسی کافی دیر تک گونجتی رہی
میں خاموش رہا
جب ہنسی کو بریک لگا تو اس نے ہمدردی کم شرارت سے کہا
رائٹر صاحب۔۔۔مجھے آج پتہ پتہ چلا کہ آپ غیر حقیقی رومانٹک کہانیوں کے خلاف کیوں ہیں۔۔کیونکہ ایسی واردات آپ کے ساتھ ہوچکی
میں کہا: میں نے ایک بات کا ذکر کیا تھا لیکن تم نے اس کے بارے میں پوچھا نہیں۔۔۔ میں نے ایک خلش کا ذکر کیا تھا
اس نے چونک کر کہا: ہاں کیا تھا۔۔لیکن خلش یہی ہوگی کہ آپ ریجیکٹ کر دئیے گئے۔۔۔آپ کے لو لیٹر کا جواب نہیں ملا
میں نے کہا: میں نے کب کہا کہ میں نے اسے جو خط لکھا تھا وہ لو لیٹر تھا؟
اس آنکھیں حیرت سے پھیلتی چلی گئیں۔
اب مسکرانے کی باری میری تھی
آئس کریم کھانے چلیں؟
اس نے جھنجھلاہٹ سے کہا: مجھے نہیں کھانی۔۔اور اسوقت آئس کریم بیچ میں کہاں سے آگئی؟
میں نے کہا: بس ایسے ہی آئس کریم کی یاد آئی تو کھانے کا موڈ بن گیا۔۔۔دراصل ایک دن میں اپنے ایک بہت پیارے دوست کے ساتھ آئس کریم پارلر میں بیٹھا آئس کریم کھا رہا تھا۔۔۔جب میرے دوست نے مجھے ایک کاغذ دیا۔۔۔جس پر بال پوائنٹ سے لکھا ہوا تھا۔۔میں نے پڑھنا شروع کیا تو اندازہ ہوا۔۔۔
میرے دوست کو کسی لڑکی نے یہ لو لیٹر لکھا ہے۔۔
میں پڑھنے لگا۔۔۔وہی عام سی باتیں۔۔جو ایسے خطوط میں ہو سکتی ہیں۔۔لیکن پھر ایک جملہ نظر آیا جس نے مجھے چونکا دیا
"آج تمہارے دوست نے میرا چہرہ دیکھ لیا۔۔اس سے پوچھنا کہ میں کیسی ہوں"
میں نے حیرت سے اپنے دوست کی طرف دیکھا وہ مسکرا رہا تھا۔۔۔کہنے لگا:
" یار میرے محلے کی لڑکی ہے۔۔ماں باپ نہیں ہیں۔۔دادا کے ساتھ رہتی ہے۔۔سخت پردہ کرتے ہیں یہ لوگ۔۔۔لڑکی بھی بہت شریف ہے۔۔پورا سال لگا ہوں اس کے پیچھے اب جا کے پٹ گئی ہے۔۔۔ مجھے پتہ ہے آپی کے پاس پڑھنے آتی ہے تمہارے گھر۔۔۔تمہارے بارے میں اسے بتایا بھی ہے۔۔۔اس نے کہا تم نے اسے دیکھا ہے۔۔۔کیسی ہے وہ؟"
میں نے پوچھا: تم نے اسے دیکھا نہیں؟"
بولا: دیکھا ہے یار۔۔ویسے ہی تم سے پوچھ رہا ہوں۔۔ دیکھانا تم نے کیا خوبصورتی ہے"
میں نے کہا: ایک بات بتاو۔۔۔ کہاں تک سنجیدہ ہو؟
بولا: ارے نہیں یار۔۔۔ٹائم پاس ہے۔۔۔ ایسی لڑکیوں کے ساتھ وقت گزارا جاتا ہے۔۔۔گھر میں نہیں لایا جاتا۔۔۔یار ایک کام ہے تم سے۔۔۔ یہ میں نے ایک خط لکھا ہے یہ تم اپنے کمرے میں قالین کے نیچے رکھ دینا۔۔وہ اٹھا لے گی اور وہاں ایک اور خط رکھ دے گی وہ مجھے لادینا۔
میں نے پہلے کچھ کہنا چاہا پھر خاموشی سے اس کا خط پکڑ لیا۔
لیکن میں نے اس قالین کے نیچے جو خط رکھا وہ میرے دوست کا نہیں بلکہ میرا لکھا ہوا تھا۔۔اور اس خط کو وہ لے گئی پھر کبھی ہمارے گھر نہیں آئی
اس نے پوچھا: تم نے اس خط میں کیا لکھا تھا؟
میں نے پوچھا: تم بتاو۔۔کیا لکھنا چاہئے تھا
اس نے کچھ دیر توقف کے بعد کہا: تم نے لکھا ہوگا کہ تمہیں یہ جان کر دکھ ہوا ہے کہ تم میرے دوست کے ساتھ چکر چلارہی ہو۔۔جبکہ میں تمہارے عشق میں گوڈے گوڈے اتر چکا ہوں۔۔ہاہاہاہاہا۔۔
میں نے کہا: تمہیں واقعی ایسا لگتا ہے کہ میں نے ایسا کچھ لکھا ہوگا
اس نے نفی میں سر ہلا کر کہا: ارے نہیں مذاق تھا یہ۔۔۔ مجھے معلوم ہے تمہاری طبیعت۔۔۔تم نے ضرور کوئی بڑی "چول" ہی ماری ہوگی۔۔۔جیسا کہ۔۔۔جیسا کہ تم نے لکھا ہوگا کہ بی بی تمہارے جس بندے کا ساتھ چکر ہے
وہ کسی اور چکر میں ہے۔۔بچ کے رہو وغیرہ وغیرہ
میں نے کہا: ہاں۔۔اس بار تم نے ٹھیک کہا۔۔میں اسے جو خط لکھا اس میں اسے سمجھایا تھا کہ وہ ایک غلط راستے پر غلط انسان کے ساتھ جارہی ہے۔۔
اس خط کا اثر کیا ہوا بس یہ کہ وہ بعد میں نظر نہیں آئی۔۔۔لیکن مجھے یہ نقصان ہوا کہ میں نے اپنا اچھا دوست کھو دیا۔۔۔ میں نے اسے بتادیا تھا کہ میں نے اس لڑکی کو اس کے راستے سے ہٹا دیا ہے۔۔میرا وہ دوست ناراض ہوگیا۔۔۔ اس میں لاکھ برائیاں تھیں لیکن وہ میرے بچپن کا دوست تھا۔۔۔ اس نے جاتے جاتے کہا تھا کہ اور دوستی کیا ہوتی ہے۔۔؟ اگر تم میرا ساتھ نہیں دے سکتے۔
8 سال میں اس خلش میں رہا کہ میں نے وہ خط لکھ کر اچھا کیا یا اپنا دوست کھو کر برا کیا۔۔۔حتی کہ 8 سال بعد۔
چاند رات کو میں ایک مال میں تھا جب وہی لڑکی مجھے ملی۔۔وہ نقاب میں ہی تھی۔۔ساتھ ایک چھوٹی سی بیٹی اور ایک نوجوان لڑکا۔۔
اس لڑکی نے اپنے شوہر سے میرا تعارف یوں کروایا کہ میں چونک گیا
" یہ میرے ٹیچر ہیں۔۔۔میں نے ان سے اور ان کی آپی سے پڑھا ہے"
مختصر سی اس ملاقات میں وہ کافی خوش نظر آرہی تھی۔۔اس کا شوہر اس کا کزن تھا۔۔اور ان کی ارینج میرج تھی۔۔جو کہ شادی کے بعد لو میں تبدیل ہوچکی تھی۔۔جب ہم ایک دوسرے کو رخصت کر رہے تھے اس نے سلام کرتے ہوئے بڑی آہستگی سے کہا تھا
"تھینکس"
اور میری 8 سال کی خلش ختم ہوگئی۔۔مجھے یقین ہوگیا کہ میں نے اپنا دوست کھونے سے کہیں زیادہ۔۔۔کچھ اچھا پالیا ہے
میں خاموش ہوگیا۔۔بات ختم ہوچکی تھی۔۔۔کہانی ختم ہوچکی تھی۔۔۔رات بھی ختم ہورہی تھی۔
قریب ہی سبزے میں گھری نہر سے ٹکراکر ہمارے چہرے کو چھوتی ہوا میں صبح کی خوشبو تھی
کافی دیر خاموش رہنے کے بعد اس نے کہا:
ایک بات کہوں۔۔۔۔ میں نے اس سے زیادہ عجیب و غریب رومانٹک کہانی کبھی نہیں سنی
اور پھر ہم دونوں ایک ساتھ ہنستے چلے گئے

یہ بھی پڑھیں:   ادب اور دیواریں

طاہر عمیر
(جزیرے کی بازگشت)

(98 مرتبہ دیکھا گیا)

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں