ماموں اور خالہ ہی کیوں؟

بچے عام طور پر اپنے ماموں اور خالہ سے زیادہ پیار کرتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں پھوپھی اور چچا سے کھنچے کھنچے نظر آتے ہیں۔ ایسا بلاوجہ نہیں ہوتا۔
ماں بچوں کی شخصیت پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔ بلکہ آج کل کی عورتوں کے غلبے کے زمانے میں تو صرف وہی اثرانداز ہوتی ہے۔ چچا اور ماموں میں سے ماموں چونکہ ماں کا بھائی اور محرم ہوتا ہے اس لیے وہ گھر میں زیادہ آزادی سے آ جا سکتا ہے اور ماں اس کی آمد پر والہانہ پن کا مظاہرہ کرتی ہے۔ اس لیے بچے ماموں کو زیادہ چاہتے ہیں۔
پھوپھی اور خالہ میں والدہ کے ساتھ محرم نامحرم کا تو کوئی چکر نہیں کیوں کہ یہ سب عورتیں ہی ہوتی ہیں۔ البتہ پھوپھی سے وجہ عناد عموما یہ ہوتی ہے کہ پھوپھی اپنے میکے کو اپنا گھر تصور کرتے ہوئے بطور مالک آتی ہے۔ اور بات کسی بھی "ماں" کو ناگوار گزرتی ہے۔ پھوپھی جب اپنا اختیار میکے میں استعمال کرتی ہے تو وہ بری لگتی ہے۔
اکثر مائیں جب اپنے بچوں کی تربیت کرتے ہوئے ان نازک پہلوؤں کو ذہن میں نہیں رکھتی ہیں تو بچوں کا جھکاؤ ایک طرف ہو جاتا ہے۔ ننھیال کی طرف جھکاؤ کی دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ ننھیال میں کبھی کبھار جانا ہوتا ہے اس لیے بچے وہاں جا کر ڈانٹ ڈپٹ سے آزادی محسوس کرتے ہیں جبکہ اپنے گھر میں سب بڑے روک ٹوک کرتے ہی رہتے ہیں۔ خصوصاً چچا تو بعض اوقات باپ سے بھی سخت کردار کے طور پر سامنے آتا ہے۔
یہ تعلقات میں جھکاؤ نہ صرف بچوں کی زندگی پر اثر انداز ہوتا ہے بلکہ اس کے اثرات نسلوں تک چلتے جاتے ہیں۔ بچوں کی اچھی شخصیت سازی اور رشتوں کے احترام کے لیے ضروری ہے کہ والدین بالخصوص والدہ اپنے خاوند کے رشتہ داروں سے بچوں کو کٹنے نہ دے۔ بلکہ حدود کے اندر رہتے ہوئے چچا کا احترام سکھائے اور پھوپھی کو گھر آنے پر مکمل "پروٹوکول" دے۔ اور اسے اپنے انداز و اطوار سے یہ محسوس نہ ہونے دے کہ وہ اس گھر میں اب اپنا اختیار کھو چکی ہے۔ البتہ پھوپھی کو چاہیے کہ وہ اپنے میکے جا کر اپنی رائے اور اختیار ٹھونسنے کی کوشش نہ کرے بلکہ عزت و محبت بانٹنےکی کوشش کرے۔ وہ بھائی کے بچوں سے اسی والہانہ پن کا مظاہرہ کرے جو بچوں کی ماں اپنے بھائی کے لیے کرتی ہے۔
ایسا کرنے سے نہ صرف ہم بچوں کا جھکاؤ کسی ایک کی طرف ہونے سے بچا سکتے ہیں بلکہ اپنے گھروں سے لڑائی جھگڑے ختم کرکے گھر کو جنت کا نمونہ بنا سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   جذبات کیا ہیں ؟

(131 مرتبہ دیکھا گیا)

یاسر غنی

یاسر غنی

یاسر غنی صاحب سائنس کے شعبے نباتیات میں ماسٹرز ہیں۔ فی الحال ایک کالج کے پرنسپل ہیں اشاعت و بلاغت میں سر گرم ہونے کے ساتھ مطالعے کو اپنا مشغلہ رکھتے ہیں۔ اور لوکل اخبارات میں "نشانِ منزل" کے عنوان سے کالم بھی لکھتے رہتے ہیں۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

1 تبصرہ

  1. محمد اسامہ سرسری says:

    بہت عمدہ بات کی طرف توجہ مبذول کی ہے آپ نے ، جزاک اللہ خیرا۔

تبصرہ کریں