وتظنون باللہ الظنونا

مایوسی جب آتی ہے تو ماں کی طرح ہوتی ہے.

اس کی ممتا میں وہ جان اور شدت ہوتی ہے کہ یہ آپ کی ہڈیوں کو بھی تھپکی دے سکتی ہے.
یہ دن کے آٹھوں پہر آپ کے چاروں طرف اپنے مہیب پر پھیلائے، آ پ کو اپنے حصار میں لئے ہوتی ہے.
اس کی اکساہٹ حرکت پر منوں مٹی ہنسی خوشی ڈال دیتی ہے.
یہ جیٹھ کی دھوپ ہے جو حوصلے کی تری کو چوس لیتی ہے.
یہ وہ آسیب ہے جو ڈستا بھی ہے اور ڈراتا بھی ہے.
تیرہ وتار شبوں میں ریگ حیات کے بھربھرے ٹیلوں کی اونچائی سے دھیرج کو ڈھال بنائے یہ اپنے تیز نوکیلے سیاہ دانتوں سے شہ رگ پر بکمال مہارت ہلہ بول کر نخچیر کو صیاد کے رنگ میں ایسا ڈھالتی ہے کہ احساس فنا ہونے کے سمے تک سوجاتا ہے.
مایوسی وہ سم ہلاک خیز ہے جس کا تریاق ہم اکثر اوطاق میں بھول آتے ہیں.
یہ ہنسی رہنے دیتی ہے. رعنائی پی جاتی ہے
حوصلہ رہنے دیتی ہے. فیصلہ نوچ لیتی ہے
وہم رہنے دیتی ہے. عزم چھین لے جاتی ہے
یہ ارادے کو اپنے لبادے اور امنگ کو اپنے نہنگ کے جبڑوں میں چھپادیتی ہے.
یہ وہ بیج ہے جسے آب چاہیے نہ کھاد. یہ پل بھر میں برگد کی ڈالیوں سے بھری جھالر بننے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اس کی چھاؤں میں وہ تاثیر ہے کہ اصیل گھوڑا بھی اس کی چھاؤں میں سر نیہوڑائے محو خواب عدم لطف پانے لگتا ہے.
یہ دیکھنے کے زاوئیے کو عجب ڈھنگ سے متاثر کرتی ہے. یہ آپ کو سیاہ چشمہ نہیں پہناتی. یہ آپ کی آنکھ کی پتلیوں کو بھی کچھ نہیں کہتی. یہ آپ کے ڈھیلوں کو، پلکوں کو، عدسوں کو اور بھنووں کو بھی اپنے حال پر چھوڑ دیتی ہے. لیکن یہ آپ کے دماغ کے ان خلیوں پر اثرانداز ہوتی ہے جو آپ کو بتاتی ہے کہ سفید سفید ہی ہے.
یہ سفید کو بے رنگا
گلابی کو تیز لال
اور سبز کو کالا دکھاتی ہے.
یہ وہ بلا ہے جو در کو دیوار دکھاتی ہے
جو تیزی سے تلوار یاد دلاتی ہے

یہ بھی پڑھیں:   فدائے دلبرِ رنگیں ادا ہوں

(174 مرتبہ دیکھا گیا)

شاد مردانوی

جنابِ شاد کے لیے اگر یہ کہا جائے کہ وہ چلتی پھرتی لغت ہیں تو شاید غلط نہ ہوگا۔ ان کی اردو در اصل اردو نہیں بلکہ معرب و مفرس کسی ماورائے اردو شئے کی تارید کہی جاسکتی ہے۔ علم دوست ہونے کے ساتھ ساتھ منکسر المزاج بھی ہیں اور مطالعے کو اوڑھنا بچھونا رکھتے ہیں۔ ان کی ہنر کاری ان کی تحریروں سے عیاں ہے۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

1 تبصرہ

  1. yasirajk yasirajk says:

    شاد کے بعد تحریر لکھنا بس ہے۔

تبصرہ کریں