مبالغہ آرائی کی حد بندی

مبالغہ کرنا کوئی احسن صفت تصور نہیں کی جاتی۔ وجہ یہی ہے کہ مبالغہ کرتے ہوئے انسان فی الواقع حقیقت سے دور ہوجاتا ہے۔ ہر وہ بات مبالغہ ہے جو حقیقت کے بیان میں کوئی ایسا اضافہ کرے جس سے بیان کردہ واقعہ، صفت یا شخصیت کا تصور مصنوعی شدت اختیار کرجائے۔ اب ظاہر ہے یہ کوئی پسندیدہ بات نہیں۔ کوئی بھی عاقل یہ نہ چاہے گا کہ اسے بات یا واقعہ بڑھا چڑھا کر بیان کیا جائے۔

اب مسئلہ یہ ہے کہ انسانی جمالیات کی تسکین بنا مبالغہ ممکن بھی تو نہیں۔ اگر تصورات پر کمند نہ ڈالی جائے، خواب و خیال کو الفاظ کے طلسم میں نہ جکڑا جائے تو انسان حقیقت پسندی کے نام پر نرا روبوٹ بن کر رہ جاتا ہے۔ ایسا انسان جو سائنس اور ریاضی کے خشک مضامین تو بخوبی بیان کرے مگر شاعری جیسے لطیف پیرایوں سے محروم ہو۔

یہ بھی پڑھیں:   فعولُ فعلن یا مفاعلاتن۔ ایک استفسار کے جواب میں

شاعری کا فن اس حوالے سے بالخصوص بدنام ہے مگر ذرا غور کریں تو معلوم ہوگا کہ یہ مبالغہ آرائی صرف شاعروں ہی کے ہاں نہیں ہے بلکہ یہ شئے تمام جمالیاتی تصورات پر محیط ہے۔ مصور اپنی تصویر میں رنگ و نقوش سے اکثر مبالغہ کرتا ہے۔ ایک نثر نگار منظر نگاری کرتے ہوئے مبالغہ کرتا ہے۔ ایک قصہ گو کہانی سناتے ہوئے مبالغہ کرتا ہے۔ ایک محب اپنے محبوب کی توصیف میں مبالغہ کرتا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ ایک مولوی اپنی مقدس ہستیوں کی تعریف کرتے ہوئے مسجد میں مبالغہ کرتا ہے۔ گویا مبالغہ کرنا انسان کے مجموعی جمالیاتی احساس کا حصہ رہا ہے۔

سوچتا ہوں کہ مبالغہ برا تب بنتا ہے جب اس میں جھوٹ کو سچ کرکے دکھایا ہو اور سامع یا قاری بیان کردہ بات کی اصل کو سمجھنے سے محروم ہوجائے۔ مگر کیا ہو کہ اگر کسی شئے یا کیفیت کے بیان میں ایسا مبالغہ موجود ہو جو جھوٹ کو سچ کی پوشاک نہ پہنائے اور مخاطب یہ واضح تفریق کر سکے کہ بیان کا کون سا حصہ اس کی اصل ہے اور کتنا حصہ اس کی تزئین و آرائش؟ اگر یہ اسلوب ہو تو شائد دین سمیت کسی کو بھی اس پر کوئی اعتراض نہ ہو۔

یہ بھی پڑھیں:   وتظنون باللہ الظنونا

ایک مثال دیکھیں۔

رشتہ عمر میں تیرے پڑے گرہیں اتنی
بچہ گننے کو جو بیٹھے تو بوڑھا ہو جائے

اب اس شعر میں عمر کی طوالت کو بیان کرنے کے لئے ایسا مبالغہ استعمال ہوا جس کا ہونا ناممکن ہے

ایک اور مثال دیکھتے ہیں

کل رات ہجرِ یار میں رویا میں اس قدر
چوتھے فلک پہ پہنچا تھا پانی کمر کمر

یہاں شاعر نے آنسوﺅں کے لئے مبالغہ استعمال کیا ہے۔ ایسی بات بیان کی ہے جو حقیقتاً ممکن نہیں۔ مگر کیا ایسا مبالغہ قابل گرفت ہونا چاہیئے؟ ظاہر ہے یہ مبالغہ کسی درجہ میں بھی قاری کو دھوکہ نہیں دے رہا۔ بلکہ ہر عاقل یہ خوب جانتا ہے کہ یہاں فرضی تمثیل کے روپ میں شعر کو سنوارا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   جدید ذہن اور انکار آخرت

(162 مرتبہ دیکھا گیا)

عظیم الرحمن عثمانی

عظیم الرحمان عثمانی اپنے مزاج کے حوالے سے اپنی مثال آپ ہیں۔ بڑے بڑے موضوعات کو دو جمع دو چار کرکے سمجھانے میں مہارت رکھتے ہیں۔ ان کی تحریروں سے فیضیاب ہوتے رہیں۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

1 تبصرہ

  1. M. Aksam Iftikhar says:

    عظیم بھائی ، کچھ تشنگی باقی ہے ابھی . کچھ غالی مزاج مذہبی رہنماؤں کے بارے میں تحریر کریں ، کہ یہی مختلف مکاتب فکر کے علماء میں مخالفت کا ایک لازمی سبب ہے .

تبصرہ کریں