مدیر با الجبر

موصوف پہلے اخبار سے وابستہ تھے۔۔ بعد ازاں دورِ جدید کے بدلتے تیور دیکھتے ہوئے اخبار کو خیر باد کہہ کر رنگین ڈبے پر نشر ہونے والے چینل سے وابستہ ہوگئے۔ کام کے لحاظ سے فطری کام کرتے ہیں۔۔ بچپن سے ہی دوسروں کے کام میں مین میخ نکالنا اور کیڑے ڈالنا محبوب مشغلہ رہا ہے، سو بڑے ہو کر ایڈیٹر بننے کا فیصلہ کیا۔ جوبہرحال طبیعت سے لگا کھانا کار دارد ہے۔ سو ایک کامیاب کیڑے باز۔ مطلب مدیر بن گئے۔

آج بھی ڈیوٹی کو ڈیوٹی نہیں سمجھتے شوق سے دوسروں کے کام میں کیڑے نکالنے کی کھاتے ہیں۔۔ اور رات رات بھر دل جمعی سے کیڑے بازی کرتے پائے جاتے ہیں۔ موصوف کو اللہ نے روزی کی صورت ایسا کام دلایا کہ گھر والے بشمول گھر والی کے سکھ کا سانس لیتے ہیں۔ اور اپنی جان بخشی کا روز جشن مناتے ہیں۔ صبح تلک تھکے ماندے گھر کو لوٹتے ہیں تو اپنی مین میخ نکالنے کا کوٹہ پورا کر چکے ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   والدین اور اولاد میں فرق

شکل صورت و وضع قطع سے بھلے مانس دکھتے ہیں، جس کے دھوکے میں ہر دوسرا ملنے والا ان سے دوستی کرنے میں مضائقہ محسوس نہیں کرتا۔۔ یہ الگ بات کے کچھ عرصے کی رفاقت میں کانوں کو ہاتھ لگاتا خاموشی سے بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔ لے دے کے چند بچپن کے دوست، ساتھی سنگی زندگی میں رہ گئے ہیں، جنہیں ان کی کیڑے باز طبیعت سے مکمل واقفیت حاصل ہے اور علاج بھی خاطر خواہ بصورت "Antidote" جیب میں رکھتے ہیں کہ جانے کب لگانا پڑ جائے۔

بچپن سے ہی دینی ماحول کی طرف طبیعت کا رجحان رہا ہے، اور روزی کارپوریٹ کلچر کی ملی۔ بعینہ اس تضاد کے کارن طبیعت میں اکثر و بیشتر ایک بھونچال کی سی کیفیت بن جاتی ہے جو اکیلے کمرے میں آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر دشمنوں کو مغلظات بکنے کی صورت رفع ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   فتوی بازی کا الزام

ویسے قبلہ ہر کس و ناکس کو منہ لگانا پسند نہیں فرماتے ماسوائے ان کے جو ان کو منہ لگانا پسند کریں۔
کھانے میں میٹھا اورصحبت میں خواتین کی محفل پسند فرماتے ہیں، مگر اظہار کرتے ہوئے گھبرا جاتے ہیں کہ وضع قطع پر کوئی حروف نا آجائے یا اگلا چار حروف نہ بھیج دے۔

دوستوں کے دوست ہیں، خوش رہنے کی پرزور کوشش کرتے ہیں اور اکثر اس میں کامیاب ہو بھی جاتے ہیں۔
شاعری کے بے حد شوقین ہیں، اقبال رح کے چند اشعار زبانی یاد کر رکھے ہیں، اور بے موقع سنانے سے کبھی نہیں چوکتے۔ پڑھنے لکھنے کے شوقین مگر تعلیم کا پوچھنے پر جیسے کنواری دوشیزہ عمر بتاتے شرماتی ہے، اسی طرح صاحب کنی کترا کر نکل جاتے ہیں۔ اکثر موج میں ہوں تو نام لے لے کر اپنے دشمنوں کی برائی کرتے ہیں۔ اور کوسنے دیتے ہیں۔۔ مگر ہوش میں آتے ہی تائب ہو جاتے ہیں۔۔ کہ یہی ایمان والوں کی نشانی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   تمباکو نوشی کے فوائد

تحریر: نعمان حسن

(55 مرتبہ دیکھا گیا)

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں