مرد کی حساسیت

حساسیت کے حوالے سے عام طور پر سب سے زیادہ زیرِ گفتگو آنے والا موضوع خواتین کی حساسیت ہی ہوتا ہے۔ لیکن مرد کی حساسیت پر کوئی بات نہیں کی جاتی۔ اس کی کوئی ایک وجہ نہیں۔ کئی وجوہات ہیں۔ ان وجوہات میں نفسیاتی معاملات بھی اپنا مکمل عمل دخل رکھتے ہیں اور مشاہداتی بھی۔

مثلاً ہمارے یہاں مرد کا جو تصور ہے وہ ایک ایسے ہیرو کا ہے جو کبھی کسی صورت میں ہار نہیں مان سکتا۔ عورت کو اگر کوئی کاکروچ بھی دور سے سلام کر جائے تو اس پر لازم ہے کہ دل دہلا دینے والی چیخ مارے، ورنہ اس کی عورتیت پر سوال ہوگا۔
مرد اس کے برعکس اگر بیس کلو میٹر بھاگنے کے بعد ہانپتا ہوا ایک گلاس پانی بھی طلب کرلے تو اسے تسلی دی جائے گی۔ ”مرد بن یار۔ تو تو عورتوں کی طرح ٹسوے بہا رہا ہے۔“

ایک لڑکی تین گھنٹے سے تکیے میں منہ دیے آنسو بہا رہی ہے۔ بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ پاپا نے ”تھوڑی سی اونچی آواز“ میں کہہ دیا تھا کہ نیا موبائل اگلے ہفتے سے پہلے نہیں لا کر دیا جائے گا۔
ایک لڑکا محلے کے سامنے ابا جی کی لاٹھی سے مار کھا کر فارغ ہوتا ہے لیکن اُف کیے بغیر ہاتھ جھاڑتا ہوا آگے بڑھ جاتا ہے۔
یہ ہمارے ”مردانگی پرست“ معاشرے میں بکھری زندہ مثالیں ہیں جن کا سامنا سب کو گاہے بگاہے کرنا پڑتا ہے۔ اس دوران کبھی یہ طعنہ ملتا ہے کہ مرد بے حس ہوتا ہے۔ کبھی یہ کہ وہ پتھر دل ہوتا ہے۔ اور کبھی یہ کہ وہ احساسات اور جذبات سے عاری ہوتا ہے۔ لیکن یہ سارے طعنے صرف طعنوں کی حد تک ہی ہوتے ہیں۔ کیونکہ مرد حساس ہے۔ اور مرد کی حساسیت کی انتہا کیا ہوتی ہے یہ شاید کبھی طے نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ اس کا ایک تو کوئی پیمانہ نہیں ہے۔ دوسرا یہ کہ اس حساسیت کا اظہار اس درجے پر نہیں ہو پاتا جس درجے پر ایک عورت کر سکتی ہے۔ آنسو بہا کر، جیخ کر، چلّا کر۔

یہ بھی پڑھیں:   شعر کے اجزا کیا ہیں؟

مرد کی حساسیت کے کئی پہلو ہو سکتے ہیں۔ ابا جی کی ڈانٹ سے لے کر بڑے بھائیوں کی طرف سے روز روز نکمے پن کے طعنے سننا اور انہیں ڈھیٹ بن کر برداشت کرنا ایک ایسا زہر ہے جسے تقریباً ہر مرد ابتدائے زیست سے اپنے اندر اتارتا ہوا بڑا ہوتا ہے۔ اسے اپنی تمام تر گراں مایگی کے باوجود کم مایگی کا بڑی بے دردی سے احساس دلایا جاتا ہے۔ لیکن وہ خاموش رہ کر سب کچھ سہتا اور برداشت کرتا ہے۔
یہاں ایک منٹ رک کر سانس لیجیے اور سوچیے کہ جن احساسات کو اظہار کا موقع نہ ملا۔ جس تشدد کو آہ و بکا کی رُت میسر نہیں آئی۔ جس جذبے کو رد عمل کا موقع ہی نہیں مل سکا اس کے غول و غبار کی شدت کی انتہا کیا ہوگی؟ لیکن مرد کو یہ سب کچھ اپنے اندر ہی رکھ کر بڑا ہونا پڑتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ایک غزل پر تنقید و تبصرہ

دوسرا پہلو عشق اور محبت کا ہے۔ یہاں بھی مرد کا کیف و سرور عورت سے انتہائی مختلف ہے۔ مرد کے جذبات عورت کے جذبات سے اور مرد کی حساسیت عورت کی حساسیت سے کہیں زیادہ مختلف ہوتی ہے۔ عورت اپنے جذبات کو کسی مرد سے جوڑتی ہے۔ اور سب سے رشتہ توڑ کر الگ تھلگ ہو کر گزارہ کر لیتی ہے۔ وہ ستم گر بن کر بھی رہ لیتی ہے۔ کئی مردوں کو گالیاں دے کر اپنا دامن پاک رکھنا ایک عورت کے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔

لیکن مرد مختلف ہے۔ اسے ہزارہا جذبات اور احساسات کی چھلنی سے گزرنا پڑتا ہے۔ ہزاروں ماہ رخوں کی ستم ادائیوں کا روز و شب نہ صرف یہ کہ سامنا کرنا پڑتا ہے، بلکہ ان کی دلجوئی کی خاطر مناسب رویہ بھی اختیار کرنا پڑتا ہے۔
عورت معشوق ہے۔ وہ چاہے جانے کے لیے بنائی گئی ہے۔ مرد عاشق ہے۔ اسے جلنے اور سلگنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ اور پھر مرد کی حساسیت کا عالم تو یہ ہے کہ خواتین کی کسی بھی محفل میں بیٹھ گئے تو اٹھنے تلک دو چار محبتیں کرکے اٹھتے ہیں۔ اس کے باوجود اگر اسے بے حس کہا جائے تو یہ انتہائی درجے کی زیادتی ہی ہو سکتی ہے۔

پھر یہ سلسلہ شادی اور بچوں کے بعد بھی چلتا ہی رہتا ہے۔ معاش، روزگار، محنت و مشقت، پیسہ، روٹی، دھوپ، جسمانی اور دماغی تھکن۔ اور اس جیسے کتنے ہی الفاظ اور مرکبات ہیں جن کے بوجھ تلے ایک مرد کو دن میں کئی بار دبنا پڑتا ہے۔ بچوں ہی کو نہیں، اکثر معاملات میں بچوں کے ساتھ بیوی کو بھی پالنا پڑتا ہے۔ اور بچوں سے پھر اس چکر دار زائچے کا نیا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   خلافت کا قیام اور متفرق مسلم مکاتبِ فکر

اس تقسیم کو دیکھیے۔ محسوس کیجیے۔ تقسیم نہیں، تقسیم در تقسیم۔ مرد کے دل کے ہزاروں ٹکڑے جو اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہیں۔ اپنی اپنی راہ پر چل رہے ہیں۔ ایسی راہیں جو سب ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہوتی ہیں۔ مرد ایک ہی وقت میں کئی کشتیوں کا شکار ہوتا ہے۔ لیکن وہ یہ سب نا محسوس انداز میں کرتا چلا جاتا ہے۔ کیونکہ اسے خود بھی معلوم نہیں ہوتا کہ رہنما بننے کے شوق میں اس نے اپنے سر پر کتنے عذاب مسلط کر لیے ہیں۔ وہ اپنی حساسیت کو چھپاتے چھپاتے بہت ہی بھیانک روایتوں کی تشکیل کر چکا ہے۔

(538 مرتبہ دیکھا گیا)

مزمل شیخ بسمل

سلجھا ہوا سا فرد سمجھتے ہیں مجھ کو لوگ الجھا ہوا سا مجھ میں کوئی دوسرا بھی ہے

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

2 تبصرے

  1. Yasir Ghani Yasir Ghani says:

    بہت ہی دل کو چھو لینے والے الفاظ ہیں اور عین حقیقت ہیں۔

تبصرہ کریں