مری عمر بھر کی کمائی تھی

نہ خدا نہ حق میں خدائی تھی
جو ہوا اُسی میں بھلائی تھی

تھے بے جان سے مرے قہقہے
تری آنکھ بھی تو بھر آئی تھی

نہ ملن ہوا نہ جدائی تھی
مری جان پر ہی بن آئی تھی

کبھی تم بھی اہلِ وفا نہ تھے
کہیں مجھ میں بھی بے وفائی تھی

ترے اشک سے وہ عیاں ہوئی
وہ جو بات دل میں چھپائی تھی

کبھی ملتا تو مجھے راہ میں
مجھے راہ جس نے دکھائی تھی

یہ بھی پڑھیں:   علمِ عَروض سبق ۵

یہ جو خاک مجھ کو عزیز ہے
ترے راستے سے اُٹھائی تھی

وہ غزل جو تو نے سنی نہیں
مری عمر بھر کی کمائی تھی

سید فراز وارثؔ

(140 مرتبہ دیکھا گیا)

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں