مسئلے میں پنہاں مسائل

مصیبت کا قدوم مصیبت نہیں۔
بلکہ مصیبت کے کالے، پیلے، گورے، غرض رنگ دار اور غیر رنگ دار نسلوں کے افراد کا آپس میں یگانگت مصیبت ہے۔

ان کا اکٹھ جانگسل ہوتا ہے۔
مصیبت ہجوم نہیں لشکر ہے۔
مصیبت ہلڑ باز نہیں منصوبہ ساز ہے۔
مصیبت بے ربط کنکریاں نہیں تنظیم وترتيب وموالات وتسلسل رکھنے والی ایک لڑی ایک مالا ہے۔

مصیبت بشر کی دفاعی قوت کو دھڑلے سے ہدف بناتی ہے. اور قدیم رزم گاہ کا منظر بناتی ہوئی اپنے جری بطل کو بہ نیتِ مرگ میدانِ ذات میں اتارتی ہے. اور اسکے بعد دوسرا پھر تیسرا۔ تا بہ کے۔؟؟؟
بشر کی مگر مجبوری تھکان ہے. وہ مسلسل جنگ بھوگتا ہے. اس کا لشکری ایک ہی ہے ایک سدھی ہوئی موج کے آگے. جس کا خوش کن سا نام "حوصلہ" رکھ چھوڑا ہے. فریب کارانِ مختلقینِ حرف نے۔

یہ بھی پڑھیں:   تین اشعار پر تعمیری تنقید - شاد مردانوی

سو یہ حوصلہ شل بازو.،کند کمان، کوتاہ بھالے، دندانی تلوار.،چھید کھائے خود، بن نوک نیزے، بن کڑی کے زرہ سے مجالِ ذات میں بہ پیشِ ابطالِ فوجِ مشاکل ومصائب تنہا استادہ رہتا ہے۔
اور چار چھ کو بصد ترحم غیر متلف زک پہنچاکر طے شدہ ہاری ہوئی جنگ بادل نخواستہ جیتنے کی لا حاصل سعیِ نامسعود کرتا ہے. اور نڈھال ہو کر گر پڑتا ہے۔
یہ وہ لمحہ ہے جب ہر ایک لشکری اپنی اپنی زہرناکیاں لیکر کہ ہر لشکری کا اپنا اپنا ڈنک اور اپنی اپنی سوزش و شدّت ہوتی. اس تنہا ڈھ چکے، آدھ مرے، بے جگرے سپاہی پر پِل پڑتا ہے. تا آنکہ اسے تہ تیغ کردیتا ہے۔
پیچھے بچتا ہے تو ایک روندا ہوا بوڑھا مصرعہ
یہ خونِ خاک نشیناں تھا رزق خاک ہوا

یہ بھی پڑھیں:   مبالغہ آرائی کی حد بندی

(135 مرتبہ دیکھا گیا)

شاد مردانوی

جنابِ شاد کے لیے اگر یہ کہا جائے کہ وہ چلتی پھرتی لغت ہیں تو شاید غلط نہ ہوگا۔ ان کی اردو در اصل اردو نہیں بلکہ معرب و مفرس کسی ماورائے اردو شئے کی تارید کہی جاسکتی ہے۔ علم دوست ہونے کے ساتھ ساتھ منکسر المزاج بھی ہیں اور مطالعے کو اوڑھنا بچھونا رکھتے ہیں۔ ان کی ہنر کاری ان کی تحریروں سے عیاں ہے۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں