مسز صدیقی کا گھرانہ

مسز صدیقی کا چھوٹا ساگھرانہ۔۔

دو بیٹے ایک بیٹی۔

سکول چلاتی ہیں۔ خاوند کی ٹرانسفر نہیں ہو سکی۔ ساس دو گلیاں چھوڑ کرنند کے ہاں رہتی ہیں اور میکہ دو چار گھنٹے کی مسافت پر۔ آج کل امی کی طبعیت بہت خراب تھی۔ چھوٹی بھابھی اور بہن سنبھالتیں باقی سب بھائی بیگموں کے ساتھ سیر سپاٹے پر۔۔

دور دراز شہروں اور بیرون ملک۔۔۔ دل کڑھ کر رہ جاتا۔ اب کر بھی کیا سکتی تھیں؟

سب خرچہ بھیج دیتے۔

بھلا پیسے محبت کا متبادل ہو سکتے ہیں؟؟

کبھی بھولے سے عید پر ہی کوئی بھائی اور کبھی سارا خاندان اکھٹا ہو جاتا۔

آج امی کی طبعیت دیکھ کر خون کر آنسو روئیں۔

یہ بھی پڑھیں:   ایک شعر جو اپنے خالق کو پیچھے چھوڑ گیا۔

وہ خود بھی ان کے پاس زیادہ عرصہ نہیں رہ سکتی تھیں۔

بچوں کی پڑھائی۔۔دل ڈوب کر رہ گیا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"ہاں جی! ہم ہی چبتے ہیں۔خود اپنی ساس کی تو خدمت نصیب نہیں ہوئی۔ ساتھ گلی میں رہتی ہیں۔۔کبھی لے آئیں ناں اپنے ہاں" مسز انور اپنی دیورانی سے فون پر بات کر رہی تھیں۔ ابھی مسز صدیقی کا فون آیا تھا۔ نندیں لگائی بجھائی سے کب باز آتی ہیں؟؟

"اچھا اب ایسا بھی کیا؟؟۔۔ ہمارے بھی بچوں کی پڑھائی ہے اور ساس امی یہاں رہنے پر راضی نہیں ہوتیں۔" فون بند کیا تو بھائی کا فون آ گیا۔۔

"شعیب کب لیکر جا رہے ہو امی کو؟ انور صاحب بھی کل پوچھ رہے تھے کہ امی کب جائیں گی؟ اب خود بھی کچھ عقل کر لو۔۔کیا ہے تین توبچے ہیں بھابھی کے۔سارا دن کام کیا ہوتا ہے؟؟ ایک ساس نہیں سنبھال سکتی؟؟ اکلوتا بیٹا ہے۔۔ماں نہیں سنبھالے گا تو کیا کرے گا؟؟"

یہ بھی پڑھیں:   سوشل میڈیا اور بلاگنگ

وہ آج خوب بھری بیٹھی تھیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مسز شعیب نے تلخی سے چولہا بند کیا

"کیا آسائشیں ہیں باجی کے پاس۔۔اور میں؟ تین چھوٹے چھوٹے بچے اور اوپر سے بیمار ساس۔۔تھک کر چور ہو جاؤں گی۔باجی کیوں نہیں امی جی سنبھال لیتیں؟؟سب بچے بڑے ہیں۔ دیکھ بھال آرام سے کر لیں گے۔دل تو میرا بھی بہت کرتا ہے کہ ساس امی کو سنبھالوں پر ہمت ہی نہیں۔ آئے دن بیمار رہتی ہوں۔ اور میری بھابھیاں۔کس چیز کی کمی ہے اور اماں کا کوئی حال نہیں۔ اس عمر میں بھی خود کام کرنے ہیں۔۔ہائے۔۔میری ساس تو عیش میں ہیں۔پکی پکائی ملتی ہے پھر بھی نالاں رہتی ہیں۔"

یہ بھی پڑھیں:   اسمائے حسنی (منظوم)

تحریر: اُختِ ولید

(78 مرتبہ دیکھا گیا)

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں