مسلم معاشرہ اور الحاد کا سبب

علماء کرام نے نقد و اصلاح کے جو اعلیٰ معیار و اسلوب متعارف کرائے ہیں، چند جذباتی اور جاہل مولوی اس معیار کو سبوتاژ کرکے عوام الناس کو علم و فضل اور دینی درسگاہوں پہ انگلیاں اٹھانے پر مجبور کرتے ہیں۔ ہم سب کو بحیثیت مسلمان دنیا کو عملاً یہ باور کرانا ہو گا کہ نفرت کی آگ بھڑکانے والوں کو علماء کہا جا سکتا ہے اور نہ ہمارے مدارسِ دینیہ اس قسم کی شرانگیزیوں کے موجب اور سرپرست ہیں۔

علماء کا لبادہ اوڑھے منبرومحراب کے ایسے فتنہ ساز اور تکفیری فتویٰ باز لوگ دراصل علماءِ سوء ہیں۔ ان دین فروش مجاوروں کی بروقت سرکوبی نہ کی گئی تو سماج میں تفرقے اور منافرت کی جہنم کو ہم تو جیسے تیسے بھگت رہے ہیں۔ مگر حالیہ صیہونی نظامِ تعلیم اور راہرو میڈیا کے زیرِ اثر پروان چڑھتی ہماری نوجوان نسل "ایسے اسلام" کو بلا تاخیر ٹھکرانے اور الحاد و بے دینی کو اپنانے میں حق بجانب ہو گی۔

یہ بھی پڑھیں:   مجھے پہچانو ، میں ہوں کون ؟

ذمہ دار کون؟ سدباب کیا ہے؟

میرے خیال میں علماء نہیں بلکہ ہم سطحی علم کے حاملین اس جھگڑے کو پھیلانے میں اپنا اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔ ہم نادانی میں ایسے متشدد عناصر کو تنبیہ کرنے اور ان سے اظہارِ برات کی بجائے کسی نہ کسی صورت ان کی حوصلہ افزائی کرتے اور انہیں اپنے تعاون کا احساس دلاتے ہیں جس نے انہیں مزید شہہ ملتی ہے۔

فساد بین المسالک کا مکروہ جھنڈا تھامنے والے اس گروہ کے ہر ہر فرد سے ہمیں کُلی بغاوت کرنی ہو گی۔ ہمیں بالآخر سمجھنا ہو گا کہ اختلافی معاملات کو حل کرنے یا برداشت کرنے کے لیے شعور کی بلوغت اور لہجے کی نفاست ازحد ضروری ہے۔ بقائے اسلام کا دردِ شقیقہ رکھنے والے اگر "میں اور میرا مسلک" کی روش ترک کر دیں تو یقیناً درد میں افاقہ ہو سکتا ہے۔ بدزبانی کے چسکوں، استہزاء کے چٹخاروں اور ہفوات کے نشوں میں ہمیں آج شاید اس حقیقت کی سمجھ نہ آئے۔ مگر مستقبل میں ہمارے اس ناجائز طرزِ عمل کے خطرناک نتائج واضح نظر آتے ہیں۔ اب تو خیر سے بدقسمتی کا ڈھول پیٹنے اور افسوس کا واویلا کرنے کا بھی فائدہ نہیں رہا۔ کیونکہ ہم احساسِ زیاں سے مکمل نابلد، عمل سے میلوں دور، اور محض باتیں بنانے کی ماہر قوم ہیں۔۔!!

یہ بھی پڑھیں:   اسلامی جماعتیں یا جماعتوں میں اسلام

محمد نعمان بخاری

(100 مرتبہ دیکھا گیا)

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں