منطقی محال (Paradox)

ایک عزیز نے سوال کیا:

 جو شخص یہ کہے کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں !!!
اس بیان کو سچ سمجھا جائے یا جھوٹ ؟؟؟

اس سوال یا جملے کو اکثر احباب نے سوال کی غلطی یا غیر منطقی سوال کہہ کر نظر انداز کیا ہے۔

ناقص کے نزدیک سوال بھی درست ہے اور جملہ بھی۔ یہ گرڈلی جملہ (Godel Sentence) ہے جو کہ اپنی ہی ڈومین میں رہتے ہوئے حل نہیں ہو سکتا۔ ایسے تمام Self-Referring جملے یا منطقی محال (Paradox) کسی بھی مربوط منطقی نظام (Consistent Logical System) کا لازمی نتیجہ ہوتے ہیں۔

مثلاً یہ صورتحال لیجیے:

”نائی ایک ایسا شخص ہے جو ہر اس شخص کے بال کاٹتا ہے جو اپنے بال خود نہیں کاٹتا۔
اب بتائیں نائی کے بال کون کاٹتا ہے؟“

اگر نائی ایک مجرد اسم ہو تو آپ اس مربوط منطقی نظام میں یہ کبھی نہیں بتا سکتے کہ آیا نائی کے اپنے بال کیسے کٹتے ہیں۔ اگر وہ خود کاٹتا ہے تو وہ ہر اس شخص کے بال نہیں کاٹتا جو اپنے بال خود نہیں کاٹتا۔ اور اگر وہ خود نہیں کاٹتا تو ضروری ہے کہ وہ اپنے بال خود (یعنی نائی) سے ہی کٹوائے۔

یہ ایسی پہیلیاں ہیں جو اپنے انتظامی ربط (systematic consistency) میں رہتے ہوئے حل نہیں ہو سکتیں جب تک کہ آپ اس ربط کو توڑ کر باہر نہ آجائیں۔ اور اس سسٹم کے باہر سے قضیے کا مشاہدہ کریں۔
حوالے کے لیے ملاحظہ ہوں گرڈل کے دونوں تھیورمز۔ (Godel's theorems of incompleteness.)

یہ بھی پڑھیں:   حقیقت کیا ہے ؟

اسی پر مزید یہ عرض کردوں کہ اس طرح کی بحثیں فلسفہ میں ہزارہا سال سے رائج ہیں۔

”مثلاً اگر خدا قادرِ مطلق ہے تو کیا وہ ایسا پتھر بنا سکتا ہے جو وہ خود نہ اٹھا سکتا ہو؟“
اب قادرِ مطلق ہونا بذاتِ خود ایک ربط (consistency) ہے جسے مکمل طور پر ”ثابت“ کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ اس ربط کو توڑ کر یہی کہا جاسکتا ہے کہ کچھ چیزیں خدا کے بس سے باہر ہیں۔ لیکن ایسا کرنے سے اس کا ربط ٹوٹ جائے گا جو کہ مطلوب نہیں ہے۔

”یا پھر یہ کہ اگر ہر مرغی انڈے سے نکلتی ہے، اور ہر انڈہ مرغی سے نکلتا ہے تو پہلے کون آیا؟“
انڈے کا مرغی سے نکلنا، اور مرغی کا انڈے سے نکلنا بھی ایک کنسسٹنسی ہے۔ ایسی صورت میں عام طور پر دو منطقی حل سوجھتے ہیں۔ کہ یا تو انڈے اور مرغی کے سلسلے کو لامحدود مان کر یہ کہا جائے کہ کوئی پہلا انڈہ یا کوئی پہلی مرغی نہیں تھی۔ یا پھر اس کے ربط کو توڑ کر یہ تسلیم کیا جائے کہ کوئی ایک تو تھا۔ جس سے شروعات ہوئی۔ (قطع نظر نظریۂ ارتقا کی توجیہہ کے۔)

یہ بھی پڑھیں:   نماز میں بھگدڑ

”ہر معلول علت سے ہے تو پہلی علت کیا تھی؟“
یہاں بھی وہی مسئلہ ہے۔

منطقی محال اور گرڈل (Kurt Gödel) کے تھیورمز

اسی ساری صورتحال کے پیش نظر گرڈل نے ریاضیاتی منطق کے دو شہرہ آفاق تھیورمز پیش کیے۔
گرڈل کا پہلا تھیورم اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ:

”کوئی بھی ایسا مربوط منطقی نظام (consistent logical system) جس میں بنیادی ارتھمیٹک کو مشاہدہ میں لایا جاسکے، ان میں کچھ قضیے یا جملے ضرور ایسے ہونگے جو نہ ثابت کیے جاسکیں گے نہ رد کیے جاسکیں گے۔ “

دوسرا تھیورم یوں بیان کیا جاسکتا ہے:

”کسی بھی مربوط منطقی نظام کو اسی نظام میں رہتے ہوئے مربوط ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ “

اس کا سادہ سا مطلب یہ ہے کہ جب بھی کسی منطقی نظام کے مربوط ہونے کا مشاہدہ ہوگا تو وہ لامتناہی یا ناتمام ہوگا۔ اسی وجہ سے انہیں ناتمامی کے تھیورم بھی کہتے ہیں۔
یعنی یہ کہ کوئی بھی مربوط منطقی نظام ہمیشہ نا تمام رہے گا۔ کیونکہ کوئی بھی منطقی نظام اگر مکمل ہے، اور اس کے سارے قضیے اسی نظام کے تحت حل ہوسکتے ہیں تو وہ مکمل کہلا سکتا ہے، لیکن تکمیل کی صورت میں غیر مربوط (Inconsistent) ہوجائے گا۔
اس میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ یہ تمام پیراڈاکس سچ ہوتے ہوئے بھی ناقابلِ اثبات (True but Unprovable) رہیں گے۔
گویا ایسا کوئی بھی منطقی نظام جو اپنے آپ میں ایسا کوئی منطقی محال نہ رکھتا ہو، وہ مربوط (consistent) نہیں ہو سکتا۔ اور جو بھی نظام مربوط ہوگا وہ منطقی محال سے پاک نہیں ہو سکے گا۔کوئی ایک جملہ ضرور رہے گا جس کا اثبات ممکن نہیں ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:   ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مداراتوں کے بعد

(250 مرتبہ دیکھا گیا)

مزمل شیخ بسمل

سلجھا ہوا سا فرد سمجھتے ہیں مجھ کو لوگ الجھا ہوا سا مجھ میں کوئی دوسرا بھی ہے

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

2 تبصرے

  1. umais says:

    تو اس کا جواب کیا ہوگا کہ اللہ ایسا پتھر بنا سکتا ہے جسے خود بھی نہ اٹھا سکے ۔۔۔

    • مزمل شیخ بسمل says:

      اس کا جواب یہ ہے کہ دنیا میں ہر سوال کا ہر وقت جواب نہیں دیا جاسکتا۔

تبصرہ کریں