منٹو اور اس کے جانشین

شیراز چوہان سوزتحریر: شیراز چوہان سوزؔ

ادب شناس لوگوں کے قریب منٹو لقب دینے کے لیے اولین شرائط میں سے ایک یہ بھی ہے کہ امیدوار اچھے سے اچھا فحش گو ہو اور عامیانہ لہجہ اپنا سکتا ہو۔ تاکہ لطف لیا جائے اور انگریزی لفظ 'Proxy' کا استعمال کم سے کم کر سکیں۔ منٹو کو سمجھنا اور اس کو پڑھنا آخری شرائط میں سے بھی نہیں ہے۔ منٹو اول منٹو دوم کہہ دینا انہی شرائط میں سے ہے۔ اگر منٹو ثانی کے مداحین شوق و ذوق کو یکطرف کر کے ایک بار سعادت حسن کو پڑھ لیں تو یقین واثق ہے کہ منٹو تسلیم ہو گا۔

سعادت حسن منٹو وہ نام ہے جس کے متعلق سنا تو بہت تھا مگر پڑھنے سے ہمیشہ قاصر رہا۔ وجہ یہ رہی کہ پہلی بار ہی واقفیت کو ”ایسے“ افسانے پڑھنے کو میسر آئے کہ جذباتی رویے کی بنیادوں پر فوری طور یکطرف کر دیا مگر ایک جملہ -- بس ایک جملہ جو ہمیشہ سماعتوں سے ٹکراتا رہا جو ہمیشہ یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیسے کس طرح سے ایسے ممکن ہے کہ ایک شخص کے متعلق اکثریت یہ کہے

”آئینہ دکھاتا ہے اس لیے تم لوگ ناپسند کرتے ہو“

یہ جملہ بیسیوں مرتبہ بیسیوں لوگوں سے سن چکا تھا سو سوچا بہت ہوا وہ افسانہ اگر ویسا تھا تو کوئی دوسرا افسانہ شاید اس کی فضولیات و لغویات کو سمجھنے میں مدد کر دے ، یکے بعد دیگرے اس کے افسانے پڑھتا رہا، کڑوی دوائی سمجھ کر پڑھتا رہا اس کی باتیں سمجھنے کی کوشش کرنے لگا پھر ایک دن آیا کہ سعادت حسن منٹو اُس سے اُن میں بدل گئے۔ ان کی ادبی صلاحیتوں کا قائل ہونے لگا ، ان کے حالات زندگی کے بارے میں پڑھا۔ سعادت حسن منٹو آہستہ آہستہ بتانے لگا کہ منٹو کیوں زندہ ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ان کے الفاظ مبنی بر حقیقت ہیں، تخیل کی پرواز ہے، فصاحت و بلاغت کی کمی نہیں۔ کبھی جو اختصار سے کام لیا چند جملے آپ کے لیے کافی ہو گئے -- ان کے خیالات سے اگر آپ اختلاف رکھتے ہیں اور یہ سوچتے ہیں کہ وہ فحش گو تھا !! حافظ صفوان صاحب کی بات سے بات آگے بڑھاتے ہیں کہ ''سعادت حسن سچا فنکار تھا کہ مرد طوائف کو بھی Paint کر گیا'' فحش نگار تو وہ تب ہوتا جب صرف عورتوں کی جنسیت زدگی دکھاتا کیونکہ فحش کام تو صرف عورت کرتی ہے، مرد بے چارہ کیا جانے کہ فحاشی کیا ہوتی ہے ۔۔ ہم جانتے ہیں کہ منٹو نے کچھ چھپایا نہیں سب ہی بیان کر دیا ہے ، آپ کے راز اب راز نہیں رہے -- جو گناہ آپ دروازہ بند کر کے کر رہے تھے پارسائ کے دعویدار تھے مگر تھے !! منٹو نے صرف پردے ہٹا کر سب کو اندر کے احوال سے آگاہ کیا -- اکثر ان کا انداز بہت عجیب سا لگتا ہے جو بوڑھا ہوچکا ہے، جو باقی ماندہ زمانے سے پہلے سب گورکھ دھندے سمجھ چکا ہے -- جو فنا کی نہج پر ہے ، مگر فنا نہیں ہوگا -- وہ زندہ رہے گا -- ہمیشہ کے لیے -- منٹو کیسے مر سکتا ہے

یہ بھی پڑھیں:   تمہیں تعجب ہوا ہے شاید - ابن انشا

کرشن چندر فرماتے ہیں --

منٹو کو لوگوں نے اکثر ہنتے ہوئے شراپ پیتے ہوئے ، اپنے احباب کا مذاق اڑاتے ہوئے ،تسلیم شدہ حقیقتوں اور سچائیوں کو طنزیہ انداز میں جھٹلاتے ہوئے دیکھا ہے لیکن میں نے منٹو کو روتے ہوئے بھی دیکھا ہے وہ دنیا کے دکھوں پر نہیں روتا ،وہ اپنے دکھوں پر نہیں روتا ، اسے عشق نہیں ہوا تھا ،اسے کسی خطرناک بیماری کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا وہ اپنے ڈیڑھ سالہ بچے کی موت پر رو رہا تھا جس وقت مجھے خبر ملی میں جلدی سے اُس کے گھر دوڑا دوڑا گیا ، منٹو نے اس طرح اپنی لال لال آنکھوں سے مجھے گھور کر دیکھا ،گویا کہہ رہا ہو اور تم اب آئے ہو ۔۔۔۔جب کہ وہ مر چکا ہے جب کہ ہم اسے دفنانے کے لیے جارہے ہیں ۔اس سے پہلے تم کہاں تھے تم پہلے آتے تو شاید میرا بچہ بچ جاتا ۔اس کا گلا رندھا ہوا تھا اس کے پپوٹےسوجھے ہوئے تھے اور اس نے مجھ سے کہا ۔کرشن میں موت سے نہیں ڈرتا کسی کی موت سے متاثر نہیں ہوتا ۔لیکن یہ بچہ ۔اس لیے نہیں کہتا ہوں کہ یہ میرا بچہ ہے ،اس لیے کہتا ہوں تم اسے دیکھتے ہو نا اس وقت بھی کتنا معصوم ،کتنا نیا ، کتنا پیار ا معلوم ہوتا ہے ۔میں سوچتا ہوں کہ جب کوئی نیا خیال اپنے اختتام تک پہنچنے سے پہلےٹوٹ جاتا ہے ،اس وقت کتنا بڑا سانحہ ہوتا ہے ۔ہر نیا بچہ ایک نیا خیال ہے ،یہ کیوں ٹوٹ گیا ؟؟میں مر جاؤں تم مر جاؤ۔بڈھے جوان ،ادھیڑ عمر کے لوگ مر جائیں ،مرتے رہتے ہیں لیکن یہ بچہ ۔فطرت کو کسی نئے خیال کو اتنی جلدی نہ توڑنا چاہیئے اور پھر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا ۔اس کے قنوطی خول کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے تھے اس کے بعد میں نے اسے روتے ہوئے نہیں دیکھا ۔لیکن ان آنسوؤں نے مجھے منٹو کے اندر اس گہرے سمندر میں پہونچا دیا ۔جہاں اس کے ادب کی تخلیق ہوتی ہے ۔اس سمندر کا رنگ گہرا سبز و سنہرا ہے ۔اس کا پانی کھاری ہے اور شارک مچھلیاں اور اکٹوپس اور دوسرے خطرناک سمندری جانور بھی اس کی تہہ میں چھپے ہوئے ہیں ۔لیکن یہاں رنگا رنگ دل کی شاداب چٹانیں بھی ہیں جن کے مخملیں سبزوں پر سیپ کے موتی آرام کر رہے ہیں ،اس عجیب و غریب منظر کو میں نے صرف ایک بار دیکھا ہے ۔آپ نے وہ موتی دیکھے ہیں جو منٹو ایک غواص بن کر اپنے دل کی گہرائیوں سے نکال کر لاتا ہے ۔یہ اس کے خون کی جمی ہوئی بوندیں ہیں ۔جن پر وہ اپنے طنز اور قنوط سے جلا کر ایک استہزائیہ انداز میں آپ کے سامنے پیش کرتا ہے آپ اس کے انداز پر نہ جائیے۔ یہ سچے موتی ہیں یہ ہمارے ملک کی بدقسمتی ہے کہ ہم ان کی قدر نہیں کرتے۔

شمس الرحمٰن فاروقی صاحب لکھتے ہیں کہ
اپنے فن کے بارے میں اعتماد ، اپنی فکر و تخیل کی صداقت اور بلندی پر پورا یقین ،مردانگی نہیں تو اور کیا ہے ؟یہ ایسی مردانگی ہے ،جس میں عورت مرد کا امتیاز مٹ جاتا ہے ؟یہ مردانگی نہ ہو تو تخلیقی فن کاری کا بازار بند ہو جائے -دیکھنا صرف یہ ہے کہ منٹو اگر خودبین اور خود نما تھے تو کیا اُن کے تخلیقی کارنامے بھی اتنے بلند درجہ ہیں کہ وہ اس بلندی کے سبب وہ خود بین و خود نما ہونے کا حق رکھتے تھے ؟یعنی ان کی خود بینی اور خود نمائی برجاسے تھی ، بے جا نہیں تھی ؟میرا جواب ہے کہ ہاں ، بالکل برجاسے تھی -انھیں اردو افسانے کی دنیا میں گردن اٹھا کر چلنے کا پورا استحقاق تھا -اردو ادب میں میر کے سوا اگر کوئی شخص ہے جس کے یہاں زندگی کی رنگارنگیاں ، دکھ درد ، وجد و شوق ، غم اور مسرت ، انسانی وجود کا احترام اور اس کی کمزوریوں کا احساس ،یہ سب باتیں تخلیقی سطح پر بیان ہوئی ہیں تو وہ سعادت حسن منٹو ہے --

یہ بھی پڑھیں:   آرزو کا پُتلا - سالگرہ کے موقع پر

مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ میر کا یہ قول منٹو پر بھی صادق آتا ہے --
اشعار میرپر ہے اب ہائے وائے ہر سو
کچھ سحر تو نہیں ہے لیکن ہوا تو دیکھو ،،

عصمت چغتائی کے ہاں منٹو --

محبت کے مسئلہ پر کتنی جھڑپیں ہوئیں مگر کسی فیصلہ پر نہ پہنچ سکے - وہ یہی کہتا
محبت کیا ہوتی ہے ؟ مجھے اپنے زری کے جوتے سے محبت ہے -رفیق کو اپنی پانچویں بیوی سے محبت ہے
میرا مطلب اس سے عشق ہے جو ایک نوجوان کو ایک دوشیزہ سے ہو جاتا ہے
”ہاں،،، میں سمجھ گیا “

منٹو نے دور ماضی کے دھندلکوں میں کچھ ٹٹول کر سوچتے ہوئے خود سے کہا ”کشمیر میں ایک چرواہی تھی “
”پھر ؟“ میں نے داستان سننے والوں کی طرح ہنکارہ دیا
"پھر کچھ نہیں" وہ ایک دوم بچاؤ کے لیے تن گیا -
”آپ مجھے اتنی گندی باتیں تو بتا دیتے ہیں اور آج آپ شرما رہے ہیں “
”کون گدھا شرما رہا ہے ؟ منٹو نے واقعی شرما کر کہا ۔۔۔۔۔ بڑی مشکل سے اس نے بتایا
” بس جب وہ مویشی ہانکنے کے لیے اپنی کلائی اوپر اٹھاتی تھی تو اس کی سفید کہنی دکھائی دے جاتی تھی -میں کچھ بیمار تھا - روز ایک کمبل لے کر پہاڑی پر جا کر لیٹ جایا کرتا تھا -اور سانس روکے اس لمحے کا انتظار کیا کرتا تھا جب وہ ہاتھ اوپر کرے تو آستین سرک جائے -اور مجھے اس کی سفید کہنی دکھائی دے جائے“
”کہنی ؟“ میں نے حیرت سے پوچھا
”ہاں ۔۔۔۔ میں نے سوائے کہنی کے اس کے جسم کا اور کوئی حصہ نہیں دیکھا- ڈھیلے ڈھالے کپڑے پہنے رہتی تھی -اس کے جسم کا کوئی خط نہیں دکھائی دیتا تھا مگر اس کے جسم کی ہر جنبش پر میری آنکھیں کہنی کی جھلک دیکھنے کے لیے لپکتی تھیں“
”پھر کیا ہوا ؟“
”پھر ایک دن میں کمبل پر لیٹا تھا وہ مجھ سے تھوڑی دیر آ کر بیٹھ گئی - وہ اپنے گریبان میں کچھ چھپانے لگی -میں نے پوچھا ، مجھے دکھاؤ تو شرم سے اس کا چہرہ گلابی ہو گیا اور بولی کچھ بھی نہیں -بس مجھے ضد ہو گئی - میں نے کہا جب تک تم دکھاؤ گی نہیں جانے نہیں دوں گا -وہ رُہانسی ہو گئی مگر میں بھی ضد پر اَڑ گیا اور آخر کو بڑی ردو کد کے بعد اس نے مٹھی کھول کر ہتھیلی میرے سامنے کر دی اور خود شرم سے گھٹنوں میں منہ دے دیا -
” کیا تھا اُس کی ہتھیلی پر ؟“ میں نے بے صبری سے پوچھا
” مصری کی ڈلی “ اُس کی گلابی ہتھیلی پر برف کی ٹکڑے کی طرح پڑی جھلملا رہی تھی “
”پھر آپ نے کیا کیا ؟“
” میں دیکھتا رہ گیا “ وہ پھر سوچ میں ڈوب گیا
پھر ؟
”پھر وہ اُٹھ کر بھاک گئی -تھوڑی دور سے پلٹ آئی اور وہ مصری کی ڈلی میری گود میں ڈال کر نظروں سے اوجھل ہو گئی - وہ مصری کی ڈلی بہت دنوں تک میری قمیض کی جیب میں پڑی رہی -پھر میں نے اسے دراز میں ڈال دیا اور کچھ دن بعد چیونٹیاں کھا گئیں “
” اور لڑکی ؟“
”کون سی لڑکی ؟ “ وہ چونکا
”وہی جس نے آپ کو مصری کی ڈلی تھما دی تھی “
”اسے پھر میں نے نہیں دیکھا “
” کس قدر پُھس پُھسا ہے آپ کا عشق“ میں نے نا امیدی سے چڑ کر کہا ” مجھے تو بڑے کسی شعلہ بد اماں قسم کے عشق کی امید تھی“
”قطعی پھس پھسا نہیں - منٹو لڑ پرا
” بالکل ردی - تھرڈ ریٹ -مرگھلا عشق -مصری کی ڈلی لے کر چلے آئے بڑا تیر مارا“
” تو اور کیا کرتا ؟اس کے ساتھ سو جاتا ؟ایک حرامی پلا اس کی گود میں چھوڑ کر آج اس کی یاد میں اپنی مردانگی کی ڈینگیں مارتا “ وہ بگڑا
” ٹھیک کہتے ہیں آپ - مصری کی ڈلی کڑ کڑا کر کھانے کی نہیں دھیرے دھیرے چوسنے کی چیز ہے“
یہ وہی منٹو تھا - فحش نگار - گندہ ذہن
جس نے ”بُو“ لکھی تھی
جس نے ”ٹھنڈا گوشت لکھا تھا“
لیکن مرزا غالب میں چودھویں بیگم مرزا غالب کی محبوبہ ہو یا نہ ہو -اس کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا مگر منٹو کے خیالوں کی لڑکی ضرور ہے جسے وہ ہاتھ نہیں لگانا چاہتا -جس کی کلائی کی جھلک دیکھنے کے لیے وہ ساری عمر بیٹھ سکتا ہے -یہ تھا وہ تضاد جو منٹو کی مختلف کہانیوں میں مختلف اوقات میں ظاہر ہوتا تھا - ایک طرف وہ ”نیا قانون“ لکھتا ہے اور دوسری طرف ”بُو“ -- دونوں میں وہ خود کو غرق کر کے لکھتا ہے -لوگوں کو ایک فحش نگار یاد رہ جاتا ہے اور واقعہ نگار کو بھول جاتے ہیں -قصداً یا سہواً؟۔۔۔۔۔ ایک ہی بات ہے۔۔

یہ بھی پڑھیں:   لسی - ہر پریشانی کا حل

(166 مرتبہ دیکھا گیا)

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

1 تبصرہ

  1. فحش کو سے اللہ سب سے زیادہ نفرت کرتے ہیں۔۔۔ اور ہمارے لئے یہ بات کافی ہے

تبصرہ کریں