مولانا صاحب اور غمِ روزگار

میرے دوست مولانا عبدالوہاب صاحب ایک مسجد میں امام و خطیب کے فرائض سرانجام دیتے ہیں اور انتہائی نفیس انسان ہیں۔ اگر نفیس نہیں تو نفیس کے آس پاس ضرور ہیں۔ ان کا گزربسر مسجد سے ملنے والی تنخواہ سے ہوتا ہے مگر ایک اہم ذریعہ معاش نکاح پڑھانا ھے۔ اسے عام طور پر مولانا حضرات اوپر کی کمائی کہتے ہیں۔ مجھے بتا چکے ہیں کہ وہ ایک نکاح پڑھانے کے عام طور پر 5000 روپے لیتے ہیں۔ یہ بھی بتا چکے ہیں کہ انہوں کے آج تک سب سے مہنگا نکاح 60 ہزار روپے کا پڑھایا تھا جس میں امیر دولہا 64 سال کا جوان اور دلہن 26 سال کہ تھی۔ اور دولہے نے اپنی خوشی سے 60 ہزار روپے دئے تھے۔ البتہ انہوں نے اس افسوس کا بھی اظہار کیا کہ کاش کچھ اور روپے مانگ لیتا تو دولہا مارے خوشی کے منع نہ کرتا۔

مولانا عبدالوہاب صاحب کے علاقے کے ساتھ والے علاقے میں ایک اور مسجد ہے جہاں مولانا حق نواز صاحب اپنے فرائض سر انجام دیتے تھے۔ تھے اس لئے کہا کہ کچھ عرصے قبل مولانا حق نواز صاحب کے ایک مرید نے مولانا صاحب کو اپنے خرچے پر عمرہ کرانے کا فیصلہ کیا۔ اور حیرت انگیز طور پر انہیں عمرہ کرنے پر راضی بھی کر لیا۔ عام طور پر مولانا حضرات کو اس عمل پر راضی کرنا نہایت مشکل ہے (وجہ ابھی آپ کو سمجھ آ جائے گی)۔ مولانا حق نواز صاحب کی غیر موجودگی میں مولانا فضل الہی کو نگران امام مقرر کیا گیا۔ مولانا حق نواز کی غیر موجودگی میں مولانا فضل الہی صاحب نے سوچا کہ انہیں اپنی ڈیڑھ اینٹ کی الگ مسجد بنانے کی کیا ضرورت ہے؟ انہوں نے راتوں رات اپنی جڑیں پھیلانا شروع کر دیں اور ممبرِ مسجد پر قبضہ کر کے مولانا حق نواز صاحب کو بے روزگار کر چھوڑا۔ بقول مولانا حق نوار صاحب یہ سب ان کے خلاف سوچی سمجھی سازش تھی۔ مولانا فضل الہی صاحب ایک نوجوان شخص ہیں اور انہوں نے مسجد کا کنٹرول سنبھالتے کے ساتھ ہی مسجد کی تعمیر کو بہتر بنانے کے لئے اقدامات کئے۔ چندہ اکٹھا کرنے کے نیٹ ورک کی تشکیلِ نو کی۔ اور ساتھ ہی اپنے روزگار میں وسعت کے لئے بھی سرگرم ہو گئے۔
بہر حال۔۔۔!!
ایک دن میرے دوست مولانا عبدالوہاب صاحب تشریف لائے۔ کچھ دیر رسمی بات چیت کے بعد مجھ سے پوچھنے لگے۔ "نقوی صاحب کیا کسی تجربہ کار مولوی سے ٹکر لے کر انسان سکھ میں رہ سکتا ہے؟"
میں نے کہا:
"حضور توبہ کریں۔ دماغ خراب ہو گا کسی ایسے شخص کا۔ یا اس کے دماغ میں پھوڑا ہو گا۔ میں نے تو آج تک کسی مولوی سے ٹکر نہیں لی۔ کچھ تھوڑی محنت سے انسان خود کشی کے آسان طریقے دریافت کر سکتا ہے۔ کیا ضروری ہے کہ اس حرام کام کے لئے ایسا اذیت ناک طریقہ کار اختیار کیا جائے؟"
مولانا صاحب کچھ گھور کے مجھے دیکھنے لگے۔ اور کچھ توقف کے بعد ارشاد کیا :
"نقوی صاحب اللہ کی قسم ہے۔ اکثر آپ تکلیف دہ حد تک سچ بولنے لگتے ہیں۔ اس سے پرہیز کیا کریں۔ یہ آپ کے لئے بھی تکلیف دہ ہو سکتا ھے۔ "
ان کی اس دھمکی کے بعد میں نے فوراً گھبرا کے پوچھا :
"ہوا کیا مولانا صاحب۔۔۔۔۔۔ کچھ بتائیں تو۔۔۔۔۔۔"
فرمانے لگے :
"ارے نقوی صاحب! ہوا کچھ یوں کہ کچھ دن پہلے میں اپنے گھر سے نکلا تو کیا دیکھتا ہوں کہ میرے گھر کا سامنے کھمبے پر ایک اشتہار لگا ہے۔ اس پر لکھا ہے۔ "نکاح پڑھانے کے لئے رابطہ کریں۔ مولوی فضل الہی۔ فون نمبر :0335-87٭٭٭٭٭" ۔ میرے تو تن بدن میں جیسے آگ لگ گئی۔ میں نے فوراً اشتہار پھاڑ کر پھینک دیا۔ گلی میں تھوڑا آگے گیا تو وہاں بھی یہی اشتہار۔ اسے بھی جلدی سے اتار کے واصلِ گٹر کر دیا اور فون نمبر نوٹ کر لیا۔ یہ فضلِ الہی بھی۔ نیا نیا مولوی لونڈا۔ "
میں نے شرارت میں کہا :
" تو مولانا صاحب اس میں کون سی ایسی بری بات ہے۔۔۔۔۔ مجھے آپ کے غصے کی وجہ سمجھ نہیں آئی"
مولانا صاحب تیز ہو کے فرمانے لگے:
" واہ کیا بات ہے آپ کی۔۔۔۔۔۔ ویسے تو آپ اڑتی چڑیا کے پر گننے کو دوڑتے ہیں۔۔۔۔۔ بلکہ ساتھ اس کا شجرہ نسب۔۔۔۔ قبیلہ ۔۔۔۔ زبان ۔۔۔ نسل اور گھونسلے کا پتہ بھی بتاتے ہیں ۔۔۔۔ ان کو سن کر سر میں درد ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔ اور اب آپ ایسے معصوم بنے جاتے ہیں ۔۔۔۔۔ قربان جاؤں آپ کی معصومیت پر۔۔۔۔۔۔۔۔ "
میں نے بات کاٹتے ہوئے کہا:
" مولانا صاحب آپ میرے فضائل بیان کر کے شرمندہ نہ ہوں ۔۔۔۔۔ یہ بتائیں کہ نمبر کیوں نوٹ کیا آپ نے؟"
مولانا صاحب کچھ ہوش میں آ کر فرمانے لگے :
"ہاں ہاں ۔۔۔۔۔۔ کل میں نے اپنا نمبر تبدیل کر کے مولانا فضل الہی کو آواز بنا کے فون کیا۔ اور کہا۔ کہ مولانا صاحب آج شام فلاں ہوٹل میں نکاح پڑھانا ہے۔ کیا آپ پڑھا سکتے ہیں۔ فضل الہی نے بھی فوراً حامی بھر لی۔ میں نے کہا کہ ٖفضل الہی صاحب آ پ ٹیکسی کر کے ہوٹل پہنچ جائیں۔ ٹیکسی کا کرایہ میں دے دوں گا۔ فضل الہی نے اس پر بھی حامی بھر لی۔ شام کو میں فضل الہی کے گھر کے سامنے والی اپنے دوست کی دکان پر جا کے بیٹھ گیا۔ کیونکہ نقوی صاحب اپنے شکار کو دیکھنے کا بھی اپنا مزا ہے۔ فضل الہی شام کو اپنے مدرسے کے 3 بچوں سمیت سفید کاٹن کا صاف ستھرا سوٹ پہن کے نکلا۔ بغیر الکوھل کے امپورٹڈ اطر سے پوری گلی خوشبو میں ڈوب گئی۔ مدرسے کے بچے بھی بہت خوش تھے کہ آج قورمہ۔ بریانی اور سیخ کباب پر ہاتھ صاف کریں گے۔ سب سالم ٹیکسی لے کر ہوٹل کی طرف روانہ ہو گئے۔ ہوٹل پہنچ کر انہوں نے ریسپشن سے میرا پوچھا تو پتہ چلا کہ اس نام کے صاحب کی تو یہاں کوئی شادی نہیں۔ ٖفضل الہی نے مجھے فون کیا۔ تو میں نے کہا کہ ریسپشن والے کو کیا پتہ۔ آپ انتظار کرہں میں بس پہنچتا ہوں۔ اور فوں بند کر دیا۔۔۔۔۔۔۔ ہا ہا ہا ہا ۔۔۔ فضل الہی 4 گھنٹے انتظار کرنے کے بعد اپنے 3 مدرسے کے بچوں سمیت وہاں سے بھوکا پیاسا سوزوکی پر گھر پہنچا۔ اب اور لگا کے دیکھے میرے علاقے میں اپنے اشتہار۔ صحیح سبق ملا ۔۔۔۔۔۔ "
میں نے حیران ہو کے کہا:
"مگر مولانا صاحب یہ کوئی اچھی بات تو نہیں۔۔۔۔۔چلیں آپ کے ساتھ ان کا بھی روزگار لگ جاتا اسی علاقے میں"
فرمانے لگے:
"بس بس زیادہ تبلیغ کی ضرورت نہیں "۔۔۔۔۔۔
میں نے عرض کرنے کی کوشش کی :
"لیکن مولانا صاحب پھر بھی ۔۔۔۔۔۔۔ "
مولانا صاحب بات کاٹتے ھوئے فرمانے لگے :
"او ہو ہو۔۔۔۔۔۔۔واہ ۔۔۔۔ یعنی قورمہ بریانی والے سارے نکاح پڑھائیں وہ۔۔۔۔۔ اور چھولے کے چاول والے سارے جنازے پڑھائیں ھم۔۔۔۔۔۔ واہ ۔۔۔۔۔۔۔"

یہ بھی پڑھیں:   بحر الفصاحت از مولوی نجم الغنی خاں رام پوری

سید علی گوھر نقوی

(139 مرتبہ دیکھا گیا)

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں