میرا پیغام محبت ہے

 

وہ اک شائستہ اور مہذب خاتون تھی، ذہانت اس کے بشرہ سے اور افسردگی اس کے چہرہ سے عیاں تھی، وہ اپنا حال سنا رہی تھی، اس کے سینے میں درد ہوتا ہے جو عقب تک چلا جاتا ہے، دردِ سر کے بھی دورے پڑتے ہیں۔ یہ شکایات گزشتہ دو سال سے تھیں اس وقت سے جب سے اس کے میاں  کا انتقال ہوا تھا، اس کے میاں کو بھی عارضۂ دل ، فراز شکر اور بلند فشارِ خون کی تکلیف تھی، اس کے ذہن میں یہ خیال بیٹھ گیا تھا کہ وہ بھی تو کہیں انہی بیماریوں میں مبتلا نہیں ہو گئی۔ ظاہر ہے اس کی وجہ سے وہ سخت متردد تھی۔

وہ اپنی رودادِ غم سنا رہی تھی مگر اس کے باوجود مجھے یہ شبہ ہو رہا تھا کہ وہ کچھ چھپا رہی ہے، میں نے اس کے کوائف پر نظر ڈالی اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ اس کا حدودِ اربعہ کیا ہے۔ وہ لاہور کے ایک متمول علاقے میں رہتی تھی، بظاہر خوش حال معلوم ہوتی تھی لیکن اس کے لباس اور چہرہ مہرہ سے یہ پتہ نہیں چلتا تھا کہ اس کا تعلق کس قوم یا نسل سے ہے۔اس نے اپنا پورا نام نہیں لکھوایا تھا ، صرف گوت کا نام دیا تھا، جس سے اس کے مذہب، قوم یا زبان کا پتہ نہیں چلتا تھا۔ غالباً وہ یہ سمجھتی تھی کہ ان کے اظہار سے مزید پیچیدگیاں واقع ہوں گی۔زبان وہ ایسی بول رہی تھی جو برعظیم پاک و ہند میں  عام طور پر بولی جاتی ہے اور اس لحاظ سے یہ زبان سیکولر یا آفاقی ہے کہ اس کے بولنے والے کے مذہب ، قوم ، نسل اور لسان کا سراغ نہیں ملتا، میں نے اس کے پرانے کاغذات اور دستاویزات دیکھنا شروع کیں جن سے یہ معلوم ہوا کہ وہ ایک غیر مسلم اقلیتی فرقہ سے تعلق رکھتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   گرمی دانے اور گھریلو ٹوٹکے

میں یہ معلوم کر کے حیرت و افسوس میں غرق ہو گیا کہ وہ مجھ سے اپنا مذہب کیوں چھپانا چاہتی ہے، کیا اسے یہ یقین نہیں کہ میں علاج معالجہ کے ضمن میں مذہب کی بنا پر کوئی تعصب نہیں برتوں گا۔ اگر واقعی یہی بات ہے تو اس بات کو ماننے کو ابھی میرا دل راضی نہیں ہوتا۔حالانکہ کچھ عرصہ قبل سندھ کی اک مشہور و مقتدر شخصیت نے بھی اپنی تقریر میں یہ ذکر کیا تھا کہ شفا خانوں میں بھی لوگ اب نسلی و لسانی فرقوں میں تقسیم ہو چکے ہیں۔اگر ہم انسانیت کی ان اسفل حدوں سے گزر کر حیوانیت کی سرحدوں تک پہنچ گئے ہیں کہ یہ شریفانہ خدمات بھی بغیر کسی لاگ و لگاؤ کے نہ دے سکیں تو ہمارے لیے زمین کی پیٹھ سے اس کا پیٹ ہی بہتر ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   جا یار! سگرٹ پکڑ لے

نفرت کی آگ وہ ہولناک تباہی لاتی ہے کہ ہر شے کو خس و خاشاک کی طرح جلا کر خاک کردیتی ہے، نفرت سے جسم کی کیمیا تبدیل ہو جاتی ہے۔ہارمون کی افزائش میں فرق پڑ جاتا ہے اور ایسا شخص خود اپنی ہی پیدا کردہ آگ میں  جل کر بھسم ہو جاتا ہے۔ جذبۂ نفرت اگر ایک مرتبہ پیدا ہو جائے تو وہ صرف غیر اقوام ہی کے خلاف نہیں رہتا بلکہ ہمیشہ باقی رہتا ہے اور اپنے نئے نئے ہدف تلاش کرتا رہتا ہے۔ نفرت نہ صرف غیر اقوام کے خلاف اپنا کاری وار کرتی ہے بلکہ وہ خاندانوں میں بھی تفرقے ڈال دیتی ہے اور خون کی ندیاں بہاتی ہے۔اس کا علاج صرف یہی ہے کہ آدمی نفرت کو اپنے اعمال و افعال اور ذہن و دل سے خارج کردے کہ ان میں صرف محبت ہو تا کہ کہا جا سکے :

یہ بھی پڑھیں:   احساس کمتری

شدہ ست سینہ، ظہوریؔ، پُر از محبّتِ یار
برائے کینۂ اغیار در دلم جا نیست

(ظہوری میرا سینہ دوست کی محبت سے بھرا ہوا ہے

دوسروں کے کینے کے لیے میرے دل میں قطعاً کوئی جگہ نہیں ہے۔)

 

حکیم فاروق سومرو

(163 مرتبہ دیکھا گیا)

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں