میں ابنِ آدم ہوں اور یہ میری فطرت

میز پہ دھری وہ چیز پہلے تو مجھے مبہوت سی دکھائی دی پر اگلی ہی ساعت میں جب اس سے آشنائی ہوئی تو میں نے اس کے خونی رنگ سے خوف کھانا چھوڑ دیا۔

خیالوں کی روانیوں سے واپس آکر جب میں نے دھیان کا مرکز اس کی ساخت پہ ڈالنا شروع کیا تو پہلے پہل وہ مجھے کوئی دیوہیکل سی چیز لگی کہ جس کے حجم کو کم کردیا گیا ہو۔
عموما مجھے ”سیب“ میں اتنی دلچسپی نہ ہوئی تھی اور نہ ہی کبھی میں نے اس کی ساخت کا اندازہ لگانے کی کوشش کی مگر آج بات اور تھی۔ آج للچاہٹ کے ذرات سیدھے دل سے پمپ ہوکر آنکھوں کے پٹھوں کو راحت بخش رہے تھے اور سیب کی خوش نما تصویر دیدوں کو خیرہ کرتی جارہی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:   درد ختم کرنے والی دوائیں اور ان کے اثرات

گمان کی دنیا ہی ایسی ہے کہ اس میں آپ کچھ بھی گمان کر بیٹھتے ہیں۔ چنانچہ میں بھی گمان کر بیٹھا کہ قدرت اس روپ میں مجھے ادراک کروا رہی ہے کہ میں واقعی ”ابنِ آدم“ ہوں۔ مگر پھر گمان ہی خیالات کے ایک دو زینوں سے نیچے اتر کر مجھے بتانے لگا کہ ”یہ سیب والی کہانی تو فرنگیوں کی ایجاد کردہ ہے“ وگرنہ ہمیں تو معلوم ہے کہ وہ گندم کا ایک خوب رُو دانہ تھا جو جنت میں لہلہایا کرتا تھا اور جس کے چہرے پر تبسم تیرتا رہتا تھا۔

خیر معاملہ رفع دفع کرکے بات یہی قابل قبول بنی کہ شیطان نے آج مجھے بھی ورغلا لیا ہے۔ میں ایک قدم آگے بڑھا تو ضمیر جاگا کہ یہ سیب کھانا خیانت ہوگی حالانکہ میرے استاد نے کہہ رکھا تھا کہ میں گھر سے کوئی بھی چیز کھا سکتا ہوں۔
میں آگے بڑھا، سیب پکڑا مگر پھر واپس رکھ دیا کہ میرے لیے حیران کن باتوں میں سے ایک بات یہ بھی تھی کہ آج ضمیر جاگ رہا تھا۔
آخری دیدار کے بعد میں الٹے قدم لوٹ پڑا، ابھی دو ہی قدم واپس لوٹا کہ کوئی ضمیر کو اندر ہی اندر ملامت کرنے لگا کہ ”تو ہوتا کون ہے خواہش کو دبانے والا؟“
وہ جو بھی تھا بازی لے گیا اور اس نے بازی لے ہی جانی تھی کہ بھلا قلب بھی کبھی گداز سے بھرا ہے۔؟

یہ بھی پڑھیں:   نیار خلجانی

میں نے انہی جذبات کے ساتھ پلٹ کر سیب کو دیکھا جو ایک عاشق کو وصل کی امید لگ جانے پر اسے اپنے حصار میں لے لیتے ہیں۔ مجھے لگا جیسے سیب پہ لگا اعتماد کا ٹیگ مجھے عام دعوت دے رہا ہو کہ ”آ میرے جسم کو کرید“
میں لپکا، ٹیگ کو ناخن چبھویا اور ذائقے کے لمس کو پہلے ہی خیال میں لاکر دانتوں سے سیب کو ایک کڑاکے دار کاٹ دی تو احساس ہوا کہ سیب کا ذائقہ تو پیچھے ہی کہیں ضمیر کے ساتھ ہی مر کھپ چکا تھا۔۔۔

یہ بھی پڑھیں:   کریدتے ہو جو اب راکھ جستجو کیا ہے؟

تحریر: الف سراج

(209 مرتبہ دیکھا گیا)

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں