میں بچپن بیچ آیا ہوں

دور کسی مسجد کے ویرانے میں اک ویران حال دس بارہ سالہ بچہ موٹے موٹے آنسو لیکر دونوں ہاته آسمان کی طرف اٹهائے دل کا دکهڑا بیان کرتا رہا اور عالم شش و پنج میں اپنے پیدا کرنے والے سے شکوہ کرتا رہا! خدایا جس بچپن کو میرے شہر کے لوگ اک گمنام سی جنت کہتے ہیں۔ شرارتوں، نزاکتوں اور اٹهکیلیوں کے نام سے منسوب کرتے ہیں، جس بچپن کو لوگ گڈے اور گڈی کا کهیل سمجھ کر سہانے خوابوں کا سہانا شہر کہتے ہیں۔ اور دن بهر کی حماقتوں، معصوم اداوں اور نہ ختم ہونے والی اچهل کود کے نام سے تعبیر کرکے اس بچپن کے لوٹ آنے کی آرزو اور تمنا کرتے ہیں۔ خدایا ! میں اسی بچپن کی شرارتوں، نزاکتوں اور طرح طرح کی اداوں کے نام سے ہی نا واقف ہوں۔ میں تو دن بهر ان راہ چلتی بسوں کے پچهلے ڈالے پے کهڑے ہوکر ”چلو چلو“ کے نعرے لگاتا ہوں اور ہر آنے جانے والے مسافر کی تیز نگاہوں کا سامنا کرتا ہوں، میں تو گهر کا چولہا جلائے خاطر کسی جاگیردار کی جاگیر میں ہل چلاتا ہوں یا اینٹوں کے بهٹوں میں کام کرکے بڑی سستی اجرت پے شہر کے لوگوں کے کام آتا ہوں۔ خدایا ! میں تو کہیں کندهے پہ بوریاں اٹهائے ہوئے غلاظت بهرے ڈهیروں پر کهڑے ہو کر روزی کا سامان کرتا ہوں یا ہوٹل کے کسی کرے کے پاس بیٹھ کر چکناهٹ سے بهرے برتن دهوتا ہوں اور امیر شہر کے لیے کهانے کی میز پر صافی لگاتا ہوں۔ میں تو بچپن کی اچهل کود کو بهول کر شہر یاراں کی ان گلی کوچوں کا سب سے سستا ملازم ہوں.پهر نہ جانے کیوں یہ لوگ اس مشقت بهرے بچپن کو یاد کرتے ہیں اور اسکی یاد میں آنسو بہاتے ہیں ؟؟؟

یہ بھی پڑھیں:   راستے روکنے کا کفر

وہ دس بارہ سالہ بچہ خدا سے محو شکوہ رہا۔ خدایا !اگر بچپن انہی شرارتوں نزاکتوں اور معصوم اداوں کا نام ہے، غفلت بهری زندگی اور لاپرواہی کا نام ہے یا اچهل کود اور خوابوں کے شہر کی شرمندہ تعبیر ہے تو پهر میں اپنا بچپن کہیں محلے کی ہر دکان پر اور بازار میں لگے ہر سٹال پر یا امیر شہر کے ہاتهوں سستے داموں بیچ آیا ہوں۔

ایٹمی وسائل اور معدنی ذخائر سے مالا مال اسلامی جمہوریہ پاکستان کے پهیلے طول و عرض میں تقریبا اٹهارہ سال سے کم عمر 4 کروڑ بچے روز اپنا مرجهایا اور سہما ہوا بچپن ارباب اختیار کے ہاتهوں ہاتھ بیچ دیتے ہیں۔ یہ دو وقت کے کهانے اور تن پے کپڑا پہننے کو زندگی کا مقصد سمجھ کر بچپن کی معصوم اداؤوں اور نزاکتوں کو بهول چکے ہیں۔ عمر کے جس حصے میں بچے سکول جاتے ہیں اور دنیا کے پیچ و خم سے نا آشنا رہتے ہیں یہ بچے کان کنی، چوڑی سازی، قالین بافی، چمڑا بنانے ، کوڑا کرکٹ اٹهانے اور آلات جراحی کی صنعت میں شامل ہوکر سستی اجرت پر ملکی معیشت کا پہییہ چلاتے ہیں اور پیٹ کی بهوک و پیاس بجهاتے ہیں۔ یہ بچے میلے کچیلے کپڑوں میں ملبوس کارخانوں، گاڑیوں کی ورکشاپوں اور الیکٹریشن کی دکانوں میں اوزار لیے کهڑے دکهائی دیتے ہیں اور آٹھ سے بارہ گهنٹے پنجوں کے بل بیٹھ کر مشقت بهرا ہر کام کر کے اپنے ناکردہ گناہوں کی سزا پاتے ہیں۔ اور بیشتر اوقات مستقبل کے یہ وارث اس معاشرے کی اخلاقی گراوٹ کا شکار ہوکر سمگلنگ کے دهندے میں زیادتی کا نشانہ بنتے ہیں۔

موجودہ دور حکومت میں پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے چائلڈ لیبر کے خاتمے کلئے ”زمنگ کور“ منصوبے کا آغاز ایک قابل تحسین اور ترقی کی راہ پر گامزن ایک انقلابی اقدام ہے جس کے لیے تاحال 447 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں پختونخوا حکومت چارسدہ روڈ پشاور پر ایک ہزار مزدور بچوں کی تعلیم اور رہایئش کے لیے پہلے ماڈل سکول کا افتتاح کر چکی ہے۔ اگر یہ منصوبہ ماضی کے کاغذی منصوبوں کی طرح کرپشن اور تاویلات کی نذر نہ ہوا تو یہ خیبر پختونخوا کے لیے واقعی تبدیلی کے معنی رکهتا ہے اور ماندہ صوبوں کے لیے ایک رول ماڈل بن سکتا ہے۔ وزیر اعلی پنجاب جناب شہباز شریف کی جانب سے اینٹوں کے بهٹوں پر کام کرنے والے مزدور بچوں کو سکول کی طرف راغب کرنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کافی خوش آیند ہیں لیکن حقیت کا لبادہ اوڑه کر اگر دیکها جائے تو یہ اقدامات آٹے میں نمک کے برابر بهی دکهائی نہیں دیتے۔

یہ بھی پڑھیں:   غلامی، لونڈیاں اور اسلام

قارئین اکرام اس تحریر سے حاصل مطالعہ محظ چائلڈ لیبر کے مسئلے کو اجاگر کرنا نہیں بلکہ ارباب اختیار سے زیادہ عوام الناس اور خصوصا یونیورسٹی کے نوجوان طبقے سے چند گزارشات گوش گزرا کرنے ہیں۔

1 ) اگر آپ صاحب استطاعت ہیں۔ مالی اعتبار سے بہتر ہیں تو خدارا اپنے اردگرد نظر دوڑائیے اپکی گلی محلے کے وہ بچے جو روز کسی مکینک کی ورکشاپ پر میلے کچیلے کپڑوں میں اوزار لیے کهڑے نظر آتے ہیں یا سبزی اور کریانے کی دکان پر بامشقت کام کرتے ہیں ان پر توجہ دیجیے اور اپنا پیسہ اردگرد کے پیشہ ور بهکاریوں پر خرچ کرنے اور لغویات میں ضائع کرنے کے بجائے ان پر خرچ کیجئے۔ زیادہ نہیں تو کم از کم ایک بچے کی ضرور بالضرور مالی معاونت کرکے اسے کتابیں اور یونیفارم دلوا کر مکتب کی راہ دکهائیے۔ شاید یہی آپکی بخشس کا سامان بن جائے۔

2 ) یونیورسٹی کے طلباء سماجی بنیادوں پر مختلف انواع کی سوسائٹیوں میں تفریح کے نام پر بیش بہا سرمایہ صرف کرتے ہیں اگر ان فضولیات پر قابو پا لیا جائے اور آپس کے دوستوں کی باہمی مشاورت سے بهی ایسے بچوں کی معاونت کی جاسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   عقائد اور پاکستانی ریاست کے حدودکار

3 ) عام طور پر لوگ مسجد کے منبر و محراب اور میناروں کی زیب و زینت پر خرچ کر کے ثواب دارین کی کمائی پر زیادہ زور دیتے ہیں۔ میرے نزدیک کسی بچے کے مستقبل کو سنوارنا اور اسے قلم کی طاقت سے روشناس کرنا میناروں کے زیب و آرائیش سے زیادہ ضروری ہے لہذا خاص الخاص اس پہلو کی طرف بهی اپنی توجہ مرکوز کیجئے گا۔

4 ) اگر آپ ایک متوسط طبقے سے تعلق رکهتے ہیں، اور ان مفلوک الحال بچوں کی مالی معاونت نہیں کرسکتے تو ان سے حسن سلوک کا آخری درجہ یہ ہے کہ انکی توہین مت کیجئے گا۔ ان سے عزت سے پیش آئیے۔ انہیں کمزور اور ناتواں سمجھ کر انہیں اپنے غم و غصے کا نشانہ مت بنائیے کیونکہ یہ شہر یاراں کے سب سے سستے ملازم ہیں۔

اپنے لیے تو سب ہی جیتے ہیں اس جہاں میں
ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا

مصنف کے بارے میں:


Hamza Naeemمحمد حمزہ نعیم نوجوان لکھاری ہیں اور میکینکل انجینئرنگ کے طالبِ علم ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اشاعت و بلاغت میں سرگرم ہیں۔ وہ کالم نگار بھی ہیں۔ ان کے کالم ڈیلی آزادی سوات میں اکثر شائع ہوتے ہیں۔

(174 مرتبہ دیکھا گیا)

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں