میں کچھ نہیں جانتا

جب سے شعور کی دہلیز میں قدم رکھا تب سے یہ سوچتے رہے کہ ہم سب سے ذہین، سب سے بہتر، برتر، سمجھ دار، عقلمند اور خدا جانے کیا کیا ہیں۔ یہ کوئی عجیب بات بھی نہیں تھی۔ ہر انسان کو خود پسندی کا پورا حق حاصل ہے۔ آپ کو بھی۔ مجھے بھی۔ چنانچہ ہم بھی مرتے کیا نہ کرتے، چل دیے دریا کی انہی رواں دواں لہروں کے ہمراہ اور جو بھی کوئی سامنے آتا اسے اپنی باتوں کی بد چلنی سے گھما پھرا کر اپنی عظمت کا قائل کر لیا کرتے۔

یہ بھی عجیب سلسلہ ہے ناں، کہ شعور جس وقت بنیادی نشو ونما سے گزر رہا ہوتا ہے تو آپ کو ہر چیز اپنی عینک اور اپنی ہی نظر کے مطابق رونما ہوتی نظر آتی ہے۔ آس پاس کے حالات، واقعات، مظاہر، دنیا اور کائنات کی آپ جس طرح توجیہہ و تشریح کرتے ہیں بس وہی اہم ترین توجیہہ اور تشریح ہوتی ہے۔ کیونکہ آپ ابھی تک نہ اس سے آگے سوچ سکے ہیں نہ سوچنا چاہتے ہیں۔ آپ کی انا کو ٹھیس پہنچتی ہے۔ آپ باقی ساری حقیقتیں نظر انداز کرتے چلے جاتے ہیں۔ ہٹ دھرم ہو جاتے ہیں۔ مزاج میں شدت پسندی دوڑ رہی ہوتی ہے۔ یہ کسی ایک جماعت، مذہب، مسلک یا فرقے کا مسئلہ نہیں ہے۔ یہ تو شعور کی ابتدائی نشوونما کی اظہاری تشکیل کا لازمی نتیجہ ہے۔ پھر اس طرح کی شعوری کیفیت فرد میں بھی ہوسکتی ہے، جماعت، قوم یا کسی خاص گروہ میں بھی۔

اس سے اگلے مقام پر آئیے۔

دو رستے ہیں۔

پہلی صورت تو یہ کہ آگے بڑھنے کی ساری راہیں بند کرلیجیے۔ آنے والی ہوا سے بچنے کے لیے کھڑکیاں اور کواڑ بھیڑ دیجیے۔ یہ فیصلے کا مقام ہے۔ آپ اپنی دنیا کی آخری اینٹ لگا کر ہمیشہ کے لیے اپنی موجودہ حالت میں رہنے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ اس مقام سے آگے آپ کے لیے کوئی مقام باقی نہیں ہے۔ امکان بھی باقی نہیں ہے۔ آپ آگے بڑھ ہی نہیں سکتے۔

دوسری صورت یہ ہے کہ ذہن کو کھلی راہ پر ایکسپوژر کے لیے چھوڑا جائے۔ جیسے کسی نئے ڈرائیور کو کھلی اور رواں سڑک پر گاڑی چلانے کو چھوڑا جائے۔ یہ امکانات کی دنیا ہے۔ بہت کچھ بن اور بگڑ سکتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جو لافانی ارتقائی منازل سے گزارتے ہوئے آپ کو امر کردیتا ہے۔ اس دنیا میں آپ کو ہر قدم پر یہ اقرار رہتا ہے کہ جو کچھ آپ جانتے ہیں اس میں احتمال کی ہر ہر لمحے پر گنجائش باقی ہے۔ آپ کی کوئی بھی رائے آخری نہیں ہوتی۔ علم کی، فکر کی، سیکھنے کی، پانے کی، بڑھنے کی، اٹھنے کی، ابھرنے کی ہزار راہیں ہیں۔ ہزار امکانات ہیں۔ اس دنیا کا ہر ہر ذرہ ایک مکمل کائنات ہے۔ ہر کائنات کی اوٹ میں پنہاں لامحدود داستانیں ہیں۔ یہاں صرف بڑھا جاسکتا ہے۔ صرف یہی راستہ ہے۔ اس میں واپسی کا کوئی رستہ نہیں۔ یہ ارتقا کی منزل ہے جس کی راہیں صرف ایک ہی جانب چلتی ہیں۔ ترقی کی جانب۔ ایک ہی رخ ہے۔ ارتفاع کا رخ۔  جو اس پر چل دیا وہ پھر لوٹ کر نہیں آیا۔

یہاں آتے آتے انسان اپنی بے بسی اور بے بساطی کا مکمل طور پر قائل ہو چکا ہوتا ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ وہ کچھ نہیں جان سکتا۔ اور یہی وہ سچ ہے جسے اگر حق الیقین میں پا لیا جائے تو علم کی ہر منزل کو حاصل کیا جاسکتا ہے۔ سقراط چالاک تھا۔ وہ بہت کچھ جانتا تھا۔ اور یہی وہ بات ہے جو ہر عظیم انسان جانتا ہے۔ کہ وہ کچھ نہیں جانتا۔ اور یہیں سے قدرت کے خزانے منکشف ہونا شروع ہوتے ہیں۔
ہے تو انتہائی عجیب۔
لیکن یہی حقیقت ہے۔
جب تک آپ یہ قبول نہ کرلیں کہ میں کچھ نہیں جانتا ، تب تک آپ کچھ نہیں جان سکتے۔

یہ بھی پڑھیں:   سائنس کی حتمیت

(187 مرتبہ دیکھا گیا)

مزمل شیخ بسمل

سلجھا ہوا سا فرد سمجھتے ہیں مجھ کو لوگ الجھا ہوا سا مجھ میں کوئی دوسرا بھی ہے

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

2 تبصرے

  1. Yaqub Assy says:

    ہمارے نوجوان فلسفی نے تیسرے (سب سے اہم راستے) کا ذکر نہیں کیا۔ ممکن ہے یہ ان کی خالص فلسفیانہ فکر کے معیارات پر پورا نہ اترتا ہو۔
    میں ایک جیتے جاگتے دیکھتے بھالتے بولتے چالتے معاشرے کا فرد ہوں، میں اس کے افراد اور معاشرتی اکائیوں کا انکار نہیں کر سکتا۔ جن افراد اور اداروں نے مجھے بولنا چالنا سوچنا سکھایا ہے میں ان سب ایک دم قطع تعلق کر کے اپنے معاشرتی سفر کا ذات کی تنہائی سے سفر کروں تو میں نے وہی کیا جو راستے، دروازے، کھڑکیاں بند کرنے والی بات ہے۔
    سقراط لاکھ سیانا، چالاک رہا ہو گا؛ مجھے اس سے انکار نہیں۔ تاہم میں اس حقیقت سے بھی آنکھیں بند نہیں کر سکتا ہ اس کا زمانہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے کچھ زیادہ عرصہ پہلے کا نہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ انبیائے کرام کا ظہور تاریکیوں کے ادوار میں ہوتا رہا ہے۔ ایسے میں جب اللہ کے بندوں کو رشد و ہدایت کی روشنی کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور آپ کے بعد خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اور اللہ کریم کی طرف سے ہدایت کی کامل و اکمل روشنی مل جانے کے بعد محض انسانی فلسفے سے یوں جڑے رہنا کہ آسمانی ہدایت بھی نظر انداز ہو جائے، بجائے خود ایک نادرست طرزِ عمل ہے۔
    اللہ کی کتاب سے راہنمائی حاصل کیجئے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ اور آپ کے طرزِ حیات سے روشنی لیجئے۔ اپنی عقل کو تو کیا اپنے جذبات تک کو اس آسمانی ہدایت پر ڈال دیجئے۔ پھر دیکھئے اللہ کریم کی طرف سے علم کے کیا کیا جہان کھلتے ہیں۔

    • مزمل شیخ بسمل says:

      آپ کے اس شاندار تبصرے پر دل کی گہرائیوں سے شکر گذار ہوں۔
      زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتا۔ تاہم میرے نزدیک یہ بات مسلم ہے کہ وحیِ الہی اپنی بنیاد میں دو فلسفیانہ گتھیوں کا حل پیش کرتی ہے۔ جس میں پہلی اخلاقیات کی گتھی ہے اور دوسری الہیات کی۔ میری پوری تحریر کا تعلق در حقیقت ان میں سے ایک سے بھی نہیں ہے۔ وحی الہی سائنسی علوم اور دیگر کسبی علوم کو اپنا مخاطب نہیں بناتی۔ یہ سب خود ہی نکالنے پڑتے ہیں۔ وہ غور کرنے کا کہتی ہے۔ فکر و تدبر کا کہتی ہے۔ دو حقیقتیں ہیں۔ ارضی اور ماورائی۔ الہامی کتب کلیات بتاتی ہیں۔ اور اسی کی محور پر کسبی علوم گھومتے رہتے ہیں۔ چنانچہ جس نے بھی علوم کے حصول کے لیے اخلاص کے ساتھ محنت کی وہ کامیاب رہا۔ جو دروازے بند کرکے بیٹھ گیا وہ بظاہر اگر وحی کا پیروکار بھی ہے تو ذلیل و خوار ہوگا۔ یہی وہ بنیاد ہے جہاں سے فنڈا مینٹلزم کا مسئلہ بھی پیدا ہوتا ہے۔
      الہامی کتابوں کا مسئلہ بھی یہی ہے۔ یہ مطلق حقیقت کو بیان کرتی ہیں۔ اور ہم "اضافی تشریح" کو مطلق العین کے معانی پہنا کر اس پر مصر ہوتے ہیں۔
      بہر حال یہ ایک بڑا تفصیل طلب مضمون کا متقاضی موضوع ہے۔ اور مضمون ہی لکھنے کا ارادہ بن گیا ہے آپ کے تبصرے کے بعد۔
      بے حد شکریہ۔ نظرِ شفقت فرماتے رہیے۔
      آداب۔

تبصرہ کریں