مجھے پہچانو ، میں ہوں کون ؟

ارے دیوانو ، مجھے پہچانو ... کہاں سے آیا ؟ میں ہوں کون ؟
.
آپ نے کہیں جواب میں یہ تو نہیں کہہ دیا کہ میں ہوں ڈون ؟
.
اگر آپ نے یہی سوچا تو جناب آپ بات سمجھے نہیں ... ہم تو یہ پوچھ رہے ہیں کہ "میں" ہوں کون ؟ .. جب میں یہ کہتا ہوں کہ 'میں' نے یہ کیا ، 'میں' یہ سمجھتا ہوں یا 'میں' بچپن میں یہ کیا کرتا تھا وغیرہ تو سوال یہ ہے کہ یہ 'میں' کون ہے ؟ اس 'میں' کی حقیقت کیا ہے ؟ .. کیا اس 'میں' سے مراد میرا جسمانی وجود ہے ؟ اگر ایسا ہے تو کیا ہو جو کل خدانخواستہ میرا ایکسیڈنٹ ہو جائے اور نتیجہ میں ٹانگ، آنکھ یا کوئی اور جسمانی عضو ضائع ہو جائے ؟ سوال یہ ہے کہ کیا پھر بھی 'میں' موجود رہوں گا ؟ جواب ہے کہ جی ہاں 'میں' پھر بھی ہوں گا. جو کام 'میں' آج کرتا ہوں اس کی ذمہ داری لیتا ہوں اور جو کام اپنے سالوں پہلے کئے تھے ، ان کے بارے میں بھی یہی دعویٰ رکھتا ہوں کہ وہ 'میں' نے کیا تھا. یعنی نہ تو وقت گزرنے سے 'میں' کا خاتمہ ہوتا ہے اور نہ ہی میرے جسمانی اعضاء کے ہونے نہ ہونے سے یہ 'میں' متاثر ہوتی ہے. تو جناب 'میں' ہے کون؟ یہ میرا جسم تو قطعی نہیں ہوسکتی ، یہ 'میں' تو کوئی نادیدہ وجود ہے جو اس جسم کے ذریعے اپنا اظہار کر رہی ہے. اقبال اسے کچھ یوں بیان کرتے ہیں
.
اگر نہ ہو تجھے الجھن تو کھول کر کہہ دوں ؟
وجودِ حضرتِ انساں... نہ روح ہے نہ بدن
.
'میں' کم کھاتا ہوں .. یا 'میں' زیادہ سوتا ہوں .. یا 'میں' کم علم ہوں .. یا 'میں' سچ بولتا ہوں. یہ تمام اوصاف یا عادات اس 'میں' سے منسلک ضرور ہیں مگر یہ ازخود 'میں' کیسے ہوسکتی ہیں ؟ ان اوصاف و عادات میں تبدیلی یا کمی بیشی ممکن ہے مگر یہ 'میں' تو وجود کا استعارہ ہے جو جوں کا توں موجود رہتا ہے.
.
مولانا روم اپنے ایک فارسی کلام میں کہتے ہیں کہ میرے اندر بھی ایک فرعون چھپا بیٹھا ہے جو خدائی کا دعویٰ کرنا چاہتا ہے. وہ کہتا ہے کہ 'میں' ہوں .. بس 'میں' ہی حاکم ہوں .. 'میں' ہی قادر ہوں ، 'میں' ہی عالم ہوں. یہ 'میں' بڑی غضب کی شے ہے ، یہ اپنا تسلط چاہتی ہے. شائد اسی لئے پچھلی عید قربان پر ایک فطین انسان بکرے کا ذبیحہ دیکھ کر کہنے لگا کہ کاش ہم اپنی اس انا کو بھی آج ذبح کرسکتے جو ہر وقت ' میں .. میں' کرتی ہے. یہ 'میں' ہی ہے جو انسان کی اصل ہے
.
سارا عالم 'ھو' کا ہے
جھگڑا 'میں' اور 'تو' کا ہے
.
بعض کے نزدیک یہ 'میں' کوئی الگ حقیقت نہیں بلکہ اسی جسم کے کیمیائی اجزاء کی ترتیب کا نتیجہ ہے. سوال یہ ہے کہ کیا محض اجزاء کی کیمیائی ترکیب سے ایک عاقل ، ذہین اور باشعور وجود کا بن جانا ممکن ہے ؟ اگر کوئی کہتا ہے کہ ہاں ممکن ہے تو ایسا کیوں نہیں ہوتا کہ ہم مردہ انسانی اجزاء کو آپس میں جوڑ کر ایک جیتا جاگتا عاقل وجود کھڑا کر دیں ؟ ہمارا معاملہ تو یہ ہے کہ باوجود تمام تر علمی دریافتوں کے، ہم ایک باشعور وجود تو درکنار محض زندگی پیدا کردینے سے بھی قاصر ہیں. یہ ایک بدیہی حقیقت ہے کہ انسان نے خود بیشمار تخلیقات کی ہیں ، جن میں بہت سی تخلیقات ذہین بھی ہیں جیسے کمپیوٹر یا روبوٹ وغیرہ. مگر ان تمام ذہین تخلیقات میں جو قدر مشترک ہے وہ یہ ہے کہ کسی تخلیق کو ذہین بنانے کے لئے اس میں ذہانت باہر سے ڈالنی پڑتی ہے. دوسرے لفظوں میں ذہانت کی اپنی جداگانہ حیثیت ہے اور یہ صرف اجزاء کی ترتیب سے ازخود حاصل نہیں ہوسکتی. کمپیوٹر کی مثال لیجنے ، آپ اس کے بیرونی اور اندرونی اجزاء کو جوڑ کر اسے میکانکی حرکت میں تو لاسکتے ہیں مگر اس میں ذہانت ڈالنے کے لئے آپ کو لازمی ایک جدا سافٹ وئیر کو انسٹال کرنے کی ضرورت ہو گی. محض ہارڈ وئیر کو ترتیب دے لینے سے یا اس میں برقی توانائی کے بہاؤ سے آپ 'ذہانت' نہیں پیدا کرسکتے. انسانی جسم کی ترتیب کا بھی یہی معاملہ ہے ، آپ حد سے حد جسمانی و کیمیائی اجزاء کو ہارڈ وئیرکی طرح یکجا کرسکتے ہیں مگر اس میں ذہانت پیدا کرنے کے لئے لازم ہے کہ نفس (سول) نام کا سافٹ وئیر منطبق کیا جاۓ. یہی واحد صورت ہے کہ 'میں' کا ظہور ہوسکے. وگرنہ بے جان مادہ کے ڈھیر سے انسانی شعور برآمد ہونا ناممکن ہے.
.
اب جب یہ حقیقت سمجھ آگئی کہ یہ 'میں' ہمارے اس مادی وجود سے ماورا ہے اور یہ اجسام صرف اس کے اظہار کا ایک ذریعہ ہیں تو لامحالہ یہ بھی ثابت ہوگیا کہ اس مادی وجود یا جسم انسانی کے زندہ ہونے نہ ہونے سے اس 'میں' کی بقا مشروط نہیں ہے. اسکی ایک مثال دیکھئے، اگر آپ ٹی وی پر اس وقت اپنا پسندیدہ چینل ملاحظہ کر رہے ہوں اور اچانک آپکا ٹی وی بند ہو جاتا ہے. آپ اٹھ کر اسکا جائزہ لیتے ہیں تو آپ پر منکشف ہوتا ہے کہ اس ٹی وی سیٹ میں تو کوئی سخت تکنیکی خرابی پیدا ہو گئی ہے. اب سوال یہ ہے کہ آپ کے اس ٹی وی سیٹ کے خراب ہو جانے کا کیا یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ آپ کا پسندیدہ چنیل بھی بند ہو گیا ہے ؟ اسکا وجود ختم ہوگیا ہے؟ جواب ہے کہ ہرگز نہیں. وہ تو اس وقت بھی آپ کے کمرے می برقی لہروں کی صورت میں موجود ہے مگر اب آپ کے پاس اس ٹی وی سیٹ کی صورت میں کوئی آلہ ایسا موجود نہیں رہا جو ان لہروں کو قابو کر کے اس کا ایک تصویری خاکہ آپ کو دکھا سکے. اگر آپ بازار سے نیا ٹی وی لے آئیں گے تو یہ چنیل پھر پوری آب و تاب سے نظر آنے لگے گا. ہمارے اس جسمانی وجود کی مثال بھی ایک ایسے ہی ٹی وی سیٹ کی مانند ہے جس سے ہماری روح یا ہماری شخصیت کا اظہار ہوتا ہے. کل جب ہمارا یہ خاکی وجود بیکار ہو جائے گا تو اس سے ہرگز یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ ہمارا حقیقی روحانی وجود بھی ختم ہو گیا ہے. کل جب ہمیں ہمارا رب دوبارہ ایک جسم عطا کرے گا تو پھر اس شخصیت کا ویسے ہی شعوری اظہار ہوگا جیسا اس وقت ہے. اسی کو علامہ جذب کی کیفیت میں کچھ یوں کہتے ہیں
.
تیری جو ابتدا نہیں
میری بھی انتہا نہیں
.
کچھ کے نزدیک یہ کائنات اور اس میں موجود ہ ہر شے بس سراب ہے ایک خواب ہے. جس طرح خواب میں ابھرتے نقوش اور تصاویر سچ نہیں ہوا کرتی ، ان کا کوئی وجود نہیں ہوتا اسی طرح ہماری 'میں' سمیت ہر نظر آنے والی شے دھوکہ ہے. ایک پرانی ہندو میتھالوجی میں یہاں تک کہا جاتا ہے کہ یہ ساری کائنات بسمیت اس 'میں' کے ، بھگوان کا خواب ہے. بھگوان خواب دیکھ رہے ہیں جس میں ہم تصویری خیالی خاکے ہیں ، جس دن بھگوان بیدار ہوگئے اس دن یہ خواب بھی عدم ہوجائے گا. جیسے کبھی تھا ہی نہیں.
.
مگر کیا فی الواقع اس ساری کائنات کی نفی ممکن ہے؟ ... 'میں' اپنے ارد گرد موجود اشیاء کا انکار کر سکتا ہوں، 'میں' حالات و واقعات کو دھوکہ مان سکتا ہوں، 'میں' شاید آپ کے وجود کو بھی یہ کہہ کر جھٹلا سکتا ہوں کہ کیا معلوم آپ سب میرے خواب کا ایک حصہ ہوں ؟ ... مگر 'میں' اس بات کا منکر ہرگز نہیں ہوسکتا کہ 'میں' ہوں ... 'میں' سوچتا ہوں، 'میں' شعور رکھتا ہوں ، 'میں' چیزوں کا ادراک کرتا ہوں ، 'میں' اپنی رائے دے رہا ہوں .. لہٰذا 'میں' ہوں ..'میں' اپنا انکار کسی صورت نہیں کرسکتا ، کیونکہ اگر انکار کرتا ہوں تو مجھے بتانا ہوگا کہ یہ کون ہے جو انکار کر رہا ہے ؟ یہ 'میں' ہی تو ہوں جو اس انکار یا اقرار کی ذمہ داری لے رہا ہے. میرے لئے سب سے زیادہ براہ راست ، قریبی اور یقینی تجربہ اسی 'میں' کا ہے.
.
دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو
عجب چیز ہے لذت آشنائی
.
یہ 'میں' اپنے اندر لامحدود امکانات اور ایک عظیم دنیا رکھتی ہے. اسی رعایت سے کچھ عارفین نے انسان کو 'عالم صغیر' کی اصطلاح دی اور کچھ نے انسان کو 'عالم کبیر' گردانا. دوسرے الفاظ میں یا تو 'میں' اس عظیم کائنات کا عکس ہے یا یہ کائنات اس 'میں' کا اظہار ہے. شاید اسی لئے ایک حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ الله زمین و آسمان میں نہیں سماتے مگر انسان کے دل میں سما جاتے ہیں.
.
زمین و آسمان کہاں تیری وسعت کو پاسکیں ؟
ایک میرا دل ہے جہاں تو سما سکے
.
اسی 'میں' کو محققین کبھی روح، کبھی نفس، کبھی انا، کبھی شعور کہہ کر پکارتے ہیں. مگر سچ یہ ہے کہ کوئی بھی اصطلاح اس 'میں' کا حتمی تعین پیش کرنے سے عاجز ہے. علامہ اقبال اس 'میں' کو خودی کے لفظ سے منسوب کرتے ہیں. آپ کا سارا کلام اسرار خودی کا ہی بیان معلوم ہوتا ہے. آپ نے یہ فلسفہ خودی کہاں سے اخذ کیا ؟ کس فلسفی یا فلسفہ کو اپنا کر اسے بیان کیا؟ یہ وہ سوال تھا جو آپ کی بائیو گرافی لکھنے والے ایک محقق نے آپ سے دریافت کیا. علامہ نے جواب دیا کہ کل صبح تشریف لے آئیں ، میں آپ کو ڈکٹیٹ کلروا دوں گا. یہ محقق اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مارے خوشی مجھے ساری رات نیند نہ آئی کہ شاعر مشرق ، مفکر زمانہ مجھے یہ راز بتائیں گے. صباح ہوتے ہی وہ اقبال کے گھر جاپہنچے. علامہ نے اشارے سے ان سے درخواست کی کہ اپر والے کتاب کے شیلف سے قران مجید نکال کر لےآئیں. یہ محقق کہتے ہیں کہ میری توقعات اور خوشی پر اچانک اوس پڑ گئی. میں نے سمجھا تھا کہ علامہ کہیں گے کہ نطشے کی کتاب نکال لاؤ ، پروفیسر وائٹ ہیڈ یا برگساں کا کوئی ریسرچ پیپر نکلوائیں گے. مگر اب جو قران مجید نکالنے کو کہا تو امید پر پانی پھر گیا. علامہ نے کہہ کر سورہ الحشر کی ١٩ آیت نکلوائی ، کہ یہاں سے انہیں اس خودی یعنی 'میں' کا فلسفہ حاصل ہوا.
.
"اور ان لوگوں جیسے نہ ہونا جنہوں نے خدا کو بھلا دیا تو خدا نے انہیں ایسا کردیا کہ خود اپنے تئیں بھول گئے۔ یہ بدکردار لوگ ہیں"
.
خلاصہ یہ کہ جب انسان اپنے رب کو بھلا دیتا ہے تو اس کا ربانی اثر یہ نکلتا ہے کہ وہ انسان اپنی 'میں' سے بھی غافل ہو جاتا ہے. اسی حقیقت کو ملتے جلتے پیرائے میں ایک حدیث میں بیان کیا گیا ہے. گو کے یہ حدیث ضعیف بلکہ کچھ کے نزدیک موضوع ہے مگر متن درست ہونے کی بنیاد پر اسے کئی مفسرین اور علماء نے پیش کیا ہے
.
''جس نے اپنی ذات کو پہچانا اس نے یقیناً اپنے ربّ کو پہچانا۔''
.
یہ اور بات کہ تصوف کے مباحث میں فنا فی الوجود ، وحدت الوجود اور بقا باللہ جیسے دقیق موضوعات موجود ہیں ، جہاں اسس 'میں' کی فنا کو بقا کی کنجی سمجھا جاتا ہے
.
یہاں ہونا.. نہ ہونا ہے
اور نہ ہونا، عین ہونا ہے
.
یہ اپنے اپ میں ایک جدا تحقیق ہے اور شائد اس کا عامیانہ بیان ممکن بھی نہیں. چنانچہ درج ذیل اشعار پر کلام کا خاتمہ کرتا ہوں. جس میں ایک سالک اپنی حیرت و بیچارگی احوال بیان کر رہا ہے.
.
مکانی ہوں ؟ کہ آزاد مکاں ہوں ؟
جہاں میں ہوں ؟ کہ خود سارا جہاں ہوں ؟
.
'وہ' اپنی لامکانی میں رہیں مست ..
مجھے اتنا بتا دیں. 'میں' کہاں ہوں ؟
.
امید ہے اب آپ میرے سوال کو سمجھ گئے ہوں گے ؟ .. ارے وہی سوال ، 'میں' ہوں کون ؟

یہ بھی پڑھیں:   اسلام میں اشیا اور امور کی حلت و حرمت کے اصول

(439 مرتبہ دیکھا گیا)

عظیم الرحمن عثمانی

عظیم الرحمان عثمانی اپنے مزاج کے حوالے سے اپنی مثال آپ ہیں۔ بڑے بڑے موضوعات کو دو جمع دو چار کرکے سمجھانے میں مہارت رکھتے ہیں۔ ان کی تحریروں سے فیضیاب ہوتے رہیں۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

2 تبصرے

  1. Muhammad Ali says:

    ما شاللہ اچھی تحریر ہے۔ لیکن کیا انسان کی روح ہی انسان کی "میں نہیں ہے؟"

    • عظیم الرحمن عثمانی says:

      شکریہ محمد علی بھائی. اس کا جواب اتنا سادہ نہیں. یہ معاملہ متشابھات میں داخل ہے یر مختلف محقیقین اس میں مختلف رائے رکھتے ہیں. امام ابن القیم کی مشہور زمانہ تصنیف 'کتاب الروح' کا مطالعہ کیجیئے تو معلوم ہوگا کہ اکابر کے درمیان بھی یہ اختلاف رہا ہے کہ کیا روح اور نفس ایک ہی حقیقت کے دو نام ہیں یا ان کی اصل جداگانہ ہے ؟ 🙂 .. علامہ اقبال کا شعرمیں تحریر میں لکھ ہی چکا ہوں

      اگر نہ ہو تجھے الجھن تو کھول کر کہہ دوں ؟
      وجود حضرت انسان .. نہ روح ہے نہ بدن

  2. sheraz.arya says:

    عظیم بھائی دل خود کر دیا بخدا ۔۔۔۔ آپ کے ہاتھ چومنے کو دل کرتا ہے۔

تبصرہ کریں