نسبت کا فرق

ایک جگہ پولیس کا ناکہ لگا ہوا تھا۔ ہرآنے جانے والے شخص کی جامہ تلاشی لی جارہی تھی۔ معلوم ہوا یہ شاہراہ عام نہیں ہے، اور سیکیورٹی وجوہات کی وجہ سے ہرہمہ شُمہ کو وہاں سے گزرنے کی اجازت نہیں ہے۔ اتنے میں ایک مسافر بس کا وہاں سے گزر ہوا، پولیس اہلکاروں نے بس کو اشارے سے روک لیا۔ تمام مسافروں کو بس سے اتار کر ان کی تلاشی لی گئی۔ انہی مسافروں میں سے کچھ لوگ فوج سے تعلق رکھتے تھے، وہ چونکہ سول لباس میں تھے اس لیے پولیس اہلکار انہیں پہچان نہیں سکے۔

جونہی ایک پولیس اہلکار نے ایک فوجی کی جامہ تلاشی لینا چاہی، مذکورہ فوجی نے اپنا آئی ڈی کارڈ دکھایا اور بتایا کہ اس کا تعلق آرمی سے ہے۔ کارڈ دیکھتے ہی پولیس والے کےبڑھے ہوئے ہاتھ پیچھے ہٹ گئے اور اس نے تلاشی لینے کی بجائےاس فوجی کو سلوٹ کیا اور پوچھا آپ کے ساتھ اس بس میں سوار اور کتنے لوگ ہیں ؟

فوجی نے بتایا کہ اس کے ساتھ فلاں فلاں رینک کے تین فوجی مزید ہیں اور ایک عدد چپراسی بھی ہے جو اُن کے ساتھ شریک سفر ہے۔ چنانچہ مذکورہ فوجی کی نشاندہی پر چپراسی سمیت باقی کے چار افراد کو بھی عام مجمعے سے الگ کرلیا گیا۔ اور بلا روک ٹوک جانے دیا گیا۔

ان پانچ اشخاص کے ساتھ یہ خصوصی معاملہ کیوں کیا گیا؟ اسکی وجہ سادہ طور پر ”نسبت کا فرق“  ہے۔ مسافر تو اور بھی بہت تھے لیکن ان کے ساتھ ایسی کوئی نسبت نہیں تھی جس کے سبب انہیں کوئی خصوصی پروٹوکول سے نوازا جاتا۔ اس لیے انہیں روک لیا گیا اور فوجی اہلکاروں کو جانے دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:   علم میراث - پہلا سبق

نسبت ہی کے فرق کی وجہ سے ایک چپراسی لیول کے شخص کے ساتھ بھی صرف فوج سے تعلق ہونے کی بنیاد پر عام لوگوں سے الگ معاملہ کیاگیا۔

نسبت اور تعلق کے فرق کی مثالیں جابجا دیکھی جاسکتی ہیں۔ آپ گندم یا چاول کی بوری خریدتے ہیں اس میں اناج کے ساتھ چھوٹے چھوٹے کنکر بھی تول میں شامل ہوکر بوری کا حصہ بن جاتے ہیں۔ اپنی حقیقت میں اگرچہ وہ تو کنکر ہیں لیکن چونکہ بوری کا حصہ ہیں اس لیے اناج میں شامل سمجھے جاتے ہیں۔ اور خاک ہونے کے باوجود اپنی ”نسبت کی وجہ سے“ اناج ہی کے مول بِک جاتے ہیں۔

اسی طرح جب گیہوں کو پیسنے کا کام کیا جاتا ہے تو اُس کےساتھ ساتھ گھُن بھی پِس کر اصل اناج کا حصہ بن جاتا ہے۔

دنیا میں پتھر تو بہت سے ہیں۔ پتھرتو وہ بھی ہے جو بیت اللہ میں نسب ہے اور پتھر وہ بھی ہے جو بیت الخلاء میں نسب ہے۔ لیکن بیت الخلاء کے پتھر سے لوگ دامن بچا کر اور سمیٹ کر چلتے ہیں۔ جبکہ بیت اللہ کے پتھر پر اپنی جبیں رکھ کر خُدا کے حضور سجدہ ریز ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   جدید تہذیب، اسلام اور لباس

حالانکہ دونوں اپنی خلقت کے اعتبار سے ”پتھر“ ہی ہیں۔ لیکن ایک پتھر پر مراسمِ عبودیت ادا کیے جاتے ہیں اور دوسرے سے کراہت کی جاتی ہے۔ اس کی وجہ بھی سادہ طور پرنسبت کا فرق ہے جس کے سبب ایک پتھر کو دوسرے کے مقابلے میں یہ مقامِ تقدس ملا۔

نسبتوں کی اس بھیڑ میں ایک نسبت ایسی بھی ہے جسے ہم ”دعوتِ دین کی نسبت“ کہتے ہیں۔ لوگ تو اور بھی بہت سے ہیں، نسبتیں بھی سینکڑوں ہیں جن پر وہ نازاں ہوتے ہیں۔ اور ان نسبتوں کے سبب خصوصی پروٹوکول سے نوازے جاتے ہیں۔

لیکن ایک ایسا دن بھی آنےوالا ہےجب دنیا کی تمام نسبتیں بےوقعت و بےحیثیت گردانی جائیں گی۔ عظمت و بڑائی کے سارے مینار جس دن ڈھا دیے جائیں گے۔ لکھے ہوئے طومار لپیٹ کررکھ دئیے جائیں گے۔ دنیا میں عزت و بڑائی کے منصب پر بیٹھنے والے اس دن کیڑے مکوڑوں سے بھی زیادہ حقیر سمجھے جائیں گے۔ نفسا نفسی کے عالَم میں جبکہ کوئی نسبت کوئی تعلق کسی کام نہیں آئے گا۔ خوف کے مارے کلیجے منہ کو آرہے ہوں گے۔

ایسے عالم میں جب ایک منادی پکارے گا، ”کہاں ہیں وہ لوگ جو دنیا میں صرف دین کی نسبت سے پِسے گئے، اور تکلیف دئیے گئے؟  کہاں ہیں وہ لوگ جنہیں دعوتِ دین کی وجہ سے طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا گیا؟ ان پر عرصۂ حیات تنگ کیاگیا، ان کی عزتیں اچھالی گئیں؟ آج زمین کی بادشاہی انہی کے نام ہے۔“

یہ بھی پڑھیں:   لفظوں کا گورکھ دھندا

ایک مجمع چھٹے گا، کہرام مچ جائے گا کہ یہ کون ہیں؟َ لوگ انگشت بدانداں محوِ حیرت ہوں گے، مجمعے میں سے ایک ایک کرکے لوگ الگ ہونا شروع ہونگے۔

معلوم ہوگا اللہ کے دین کے کام کرنے والوں میں جہاں جلیل القدر انبیاء و پیغمبر مجمعے سے الگ کیے جارہے ہوں گے۔ جہاں صحابہ و صدیقین کی قطاریں بن رہی ہونگی، وہیں صرف اس اعلیٰ اور اونچے کام (یعنی دعوتِ دین ) سے نسبت ہونے کی وجہ سے ہم جیسے چپراسی بھی اپنی تمام تر بے حیثیتی اور بےوقعتی کے باوجود صرف نسبت کی وجہ سے اس مجمعے کا حصہ بن جائیں گے۔

ہم خاک سے بھی زیادہ بےحیثیت و بےوقعت لوگ پیغمبروں کے کام سے معمولی نسبت ہونے کی وجہ سے کنکر ہوکر بھی اناج کے مول بِک جائیں گے!

یہ دنیا ایک دن ۔۔۔ بلکہ بہت جلد ختم ہونے والی ہے۔۔۔۔ دیر تک باقی رہنے والے کاموں میں لگنے والوں کو نویدہو کہ وقت قریب آلگا ہے۔ بہت قریب!

(90 مرتبہ دیکھا گیا)

سید اسرار احمد

سید اسرار احمد ایک متحمل اور بردبار شخصیت کے مالک ہیں۔ ان کی تحریروں میں علمی اور فکری بالیدگی نمایاں ہوتی ہے۔ ان سے جڑے رہیں۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں