نظریۂ ارتفاقات از شاہ ولی اللہ (تیسری قسط)

نوٹ: نظریۂ ارتفاقات کی شائع شدہ تمام قسطیں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

ارتفاقات ثالث - Third Stage of Socio-Economic Development

ارتفاقات کا دوسرا مرحلہ مکمل ہونے کا مطلب ہے ایک سادہ سا معاشرہ ایک ریاست مدن City State میں تبدیل ہو چکا ہوتا ہے۔ شاہ صاحب کے نزدیک ریاست مدن فصیلوں، عمارات اور منڈیوں سے نہیں بنتی بلکہ یہ ایک ایسی سوسائٹی ہوتی ہے جہاں لوگوں کے مختلف گروہ باہمی تعاون، تعلقات اور مفادات کے تحت آپس میں تعامل interaction کرتے ہیں۔ ان باہمی تعاملات کو socio-economic relationships زندہ و قائم رکھنے کی کوششوں سے ارتفاقات کا تیسرا مرحلہ وجود میں آتا ہے۔ شاہ ولی اللہ کہتے ہیں کہ اسٹیٹ یا ریاست ایک یونٹ یا جسم کی طرح کام کرتی ہے اور اس لحاظ سے ایک جسم کی طرح اندرونی و بیرونی بیماریوں کا شکار ہونے کا خطرہ بھی اپنے اندر رکھتا ہے۔ ان بیماریوں سے نمٹنے کے لیے اس جسم کو ایک فزیشن کی ضرورت رہتی ہے جسکا کام ریاست کو صحت مند حالت میں رکھنا ہوتا ہے۔ یہاں پہ ان کے نزدیک ریاست کو ایک لیڈر کی ضرورت ہوتی ہے جس کو وہ امام کا نام دیتے ہیں۔ یہ امامت ایک ایسا ادارہ ہوتا ہے جو مجموعی طور پر ریاست کے مفادات، سالمیت اور آزادی کا تحفظ کرتا ہے۔ شاہ صاحب ریاستی امور کو پانچ بڑے اداروں میں تقسیم کرتے ہیں۔

  1. عدلیہ یا القضاء judiciary

    جب بخل، حسد، تحقیر،لالچ اور انتقام جیسے جذبات و افعال حقوق کی ادائیگی میں داخل ہوتے ہیں تو عوام میں اختلافات، جھگڑے اور تنازعات جنم لیتے ہیں۔ عدلیہ ایک ایسا شعبہ ہے جو پیدا ہونے والے تنازعات و اختلافات کے منصافانہ حل کی اتھارٹی رکھتا ہیں۔

  2. انتظامیہ یا الشریعہ executive

    جب بگڑے ہوۓ لوگ ایسے افعال سر انجام دیتے ہیں جن سے معاشرے کو لوگوں میں نقصانات کے تحفظات پیدا ہوے ہیں اور سوسائٹی میں انارکی پھیلنے کا خدشہ ہوتا ہے تو ایک کیسے مضبوط ادارے کا قیام ضروری ہو جاتا ہے جو ایسے لوگوں کے خلاف تادیبی کاروائی عمل میں لا سکے۔

  3. عسکریہ (پولیس اور فوج) یا الجہاد police and military force

    جب بگڑے ہوئے لوگ پرتشدد کاروائیوں پر اتر آئیں جس سے عوام کے جانی و مالی امن میں نقص پیدا ہونا شروع ہو جائے جیسے، قتل، ڈکیتی اور بغاوت وغیرہ تو یہ ادارہ ایسے پرتشدد اشخاص یا لوگوں کے خلاف کام کرتا ہے تا کہ ریاست میں لاء اینڈ آردڑ کا مسئلہ نہ پیدا ہو۔ یہ ادارہ بنیادی طور پر جنگجوؤں پر مشتمل ہوتا ہے۔

  4. فلاح عوامیہ یا التولی والنقابہ welfare and public works

    ریاست کو بہترین حالت میں رکھنے کے لیئے یہ ادارہ نہایت اہم ہے۔ اس ادارے کے ذمے ان امور کا سرانجام دینا ہوتا ہے جو عموما کسی اکیلے فرد کے لیۓ‌ ادا کرنا مشکل ہوتا ہے۔ مثلا ریاست کی سرحدوں کی حفاظت، عوام کے لیۓ پینے کے ليے صاف پانی کی فراہمی، مارکیٹس، پل، نہریں، بند وغیرہ کی تعمیرات و انتظامات، لاوارث و یتیم بچوں کی تعلیم و تربیت اور شادیوں کا انتظام، عوامی جائیدادوں کی حفاظت کی ذمہ داری، ضرورتمندوں کے لیۓ وظائف کا انتظام، وراثتوں کی تقسیم، ریاست کی آمدن اور خرچ کے حسابات budgeting کرنا وغیرہ۔

  5. مذہبیہ یا الموعظہ والتزکیہ religious and moral business

    اس ادارے کا کام بگڑے ہوئے لوگوں میں نیکی کی قوت پیدا کرنا ہوتا ہے اور ان میں سے منفی جذبات و خواہشات کو کنٹرول کرنے کی صلاحبت کو پروان چڑھانا ہوتا ہے تا کہ وہ ایک مثبت شہری کا کردار ادا کر سکیں۔ شاہ صاحب کے نزدیک یہ کام ریاست میں باقائدہ ایک ادارے کی صورت میں ہونا ضروری ہے۔

پبلک فنانس - Public Finance

اکثر معاشرے ارتفاقات کی اس تیسری سطح پرآ کر لڑکھڑا جاتے ہیں۔ شاہ ولی اللہ کے نزدیک (اس زمانے کے لحاظ سے) اسکی دو وجوہات ہیں۔ ایک تو جب لوگ بیت المال public treasury پرناجائز بوجھ بننا شروع ہو جاتے ہیں جیسے ہر کوئی بغیر محنت کے کمانا چاہتا ہے اور دوسرا جب اس مقصد یا کسی اور مقصد کے لیئے تاجروں، کسانوں اور ہنرمندوں پر ٹیکسز کا ناجائز بوجھ ڈالا جاتا ہے جو ان کے اندر مایوسی کو جنم دیتا ہے اور نتیجتاً نافرمانی اور بغاوت کے جذبات نمودار ہوتے ہیں۔ شاہ ولی اللہ اوپر مختصرا بیان کیے گیے پانچوں اداروں کے اوپر کافی تفصیل سے بات کرتے ہیں اور ایک کامیاب ”امام“ کی ضروری خصوصیات کو بھی بیان کرتے ہیں۔ شاہ ولی اللہ ریاستی بجٹ finance bill کے متعلق کچھ اصول بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ارتفاقات کی تیسری اور چوتھی اسٹیج کی کامیابی کے لیے پبلک فنانس کا بہترین طور پر فعال ہونا بہت ضروری ہے۔ شاہ صاحب کے نزدیک بیت المال سے فارغ البال لوگوں کو وسیع پیمانے پر جو وظائف جاری کیے گیے اس نے مغل سلطنت کے زوال میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ حجتہ اللہ البالغہ میں فرماتے ہیں کہ ٹیکس کی شرح اور وصولی کا نظام مبنی بر انصاف ہونا ضروری ہے۔ جہاں ٹیکس کولیکشن اتنی ضروری تو ہے ہی جس سے ریاست کے معاملات آسانی اور تسلی سے چل سکیں وہاں یہ بھی ضروری ہے کہ یہ عوام کے لیے کبھی بھی یہ اتنا بوجھ نہ بن پائیں کے انکا زندگی گزارنا مشکل ہو جائے۔
شاہ صاحب واضح طور پر کہتے ہیں کہ ٹیکس ریاست میں موجود ہر فرد اور ہر شے پر لاگو نہیں ہو سکتا۔ اس زمانے کے لحاظ سے یہ ٹیکس زرعی رقبے رکھنے والے جاگیرداروں، مال مویشی رکھنے والے لوگ جو بریڈنگ کے ذری‏عے اپنے مال میں اضافہ کرتے رہتے ہیں اور سوداگروں پر لگنا ضروری سمجھتے ہیں۔ اگر اس کے باوجود مزید رقم کی ضرورت پڑتی ہے تو پھر تب ہی جسمانی مشقت کر کے روزی روٹی کمانے والے افراد کی طرف دیکھا جائے۔ دلچسپی کی بات یہ ہے کہ شاہ صاحب ٹیکس، خراج، عشر، فے اور مال غنیمت کو تو ریاست کی آمدن میں شمار کرتے ہیں مگر زکوۃ کو ریاست کی آمدن میں شمار نہیں کرتے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ زکوۃ حکم ریاست سے نہیں بلکہ حکم خداوندی سے مقرر کی گئی ہے اوراس کے مخصوص heads of expenditure بھی مقرر ہیں۔ دوسری ممکنہ وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ مغل ایمپائر کے دور میں ریاستی سطح پر زکوۃ کولیکشن کا کوئی نظام موجود نہیں تھا اور لوگ ذاتی سطح پر اس کو ادا اور تقسیم کیا کرتے تھے تو شاہ صاحب نے اس سوشل روایت کے تحت قصداً اس کا تذکرہ ریاستی امور میں نہ کیا ہو۔ زکوۃ کے باب میں شاہ ولی اللہ اسکا تذکرہ علیحدہ سے کرتے ہوئے اسکے مختلف مسائل شریعہ زیر بحث لاتے ہیں جس میں وہ واضح کرتے ہیں کہ اس کا مقصد حکم خداوندی پورا کرتے ہوئے اللہ کی خوشنودی حاصل کرنا ہے۔ اس میں وہ یہ رائے بھی دیتے ہیں کہ زکوۃ کی ایڈمنسٹریشن ریاستی سطح پر امام کی صوابدید پربھی ممکن ہے اس لحاظ سے وہ زکوۃ کو ایک separate portfolio میں شمار کرتے ہیں۔
ریاست کے اخراجات کی مد میں تو شاہ ولی اللہ نے اوپر شعبہ جات واضح کر دیے۔ اب ان شعبہ جات کو فنڈز کی ایلوکیشن کس طرح ہو گی اسکے لیئے وہ ”الاہم فالاہم“ کا اصول بیان کرتے ہیں یعنی most important and the next important۔
کفار سے جنگ و جدل کے نتیجے میں حاصل ہونے والی زمین کے حصول یا قبضہ کرنے کی بابت بھی انکا موقف منفرد ہے۔ وہ اسکا فیصلہ امام پر چھوڑتے ہیں کہ وہ صورتحال کے مطابق کیا فیصلہ کرتا ہے۔ اپنی کتاب ازالتہ الخفاء میں لکھتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دور میں فارس کے لوگوں سے جنگ کے نتیجے میں بطور مال غنیمت ان کی زمینیں نہیں چھینی گئی تھیں بلکہ فارس کے لوگوں کا قبضہ برقرار رہنے دیا گیا تھا۔ کیونکہ وہ اراضی کسانوں (non-warriors) کی تھیں نہ کہ لڑنے والے سپاہیوں کی، جنہوں نے بغیر کسی لڑائی کے نئی ریاست کی اطاعت تسلیم کر لی تھی۔ شاہ صاحب کسی بھی ایسے شخص کو اراضی الاٹ کرنے کے خلاف تھے جسکا الاٹ کرنا سوسائٹی کے مجموعی مفاد پر اثر انداز ہوتا ہو۔

(169 مرتبہ دیکھا گیا)

یہ بھی پڑھیں:   نظریۂ ارتفاقات از شاہ ولی اللہ (دوسری قسط)

عامر مغل

عامر مغل اکاؤنٹس اور فنانس کے شعبے سے منسلک ہیں۔ طبعاً وہ ایک متجسس شخصیت ہیں۔ اپنے شعبے سے الگ وہ علم دوست ہیں۔ مذہب، فلسفہ، سائنس، ٹیکنالوجی اور فنونِ لطیفہ سے شغف بھی رکھتے ہیں اور ان موضوعات پر گاہے بہ گاہے لکھتے بھی رہتے ہیں۔ ان کی تحریروں سے فیضیاب ہوتے رہیں۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں