نظریۂ ارتفاقات از شاہ ولی اللہ (دوسری قسط)

نوٹ: نظریۂ ارتفاقات کی شائع شدہ تمام قسطیں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

ارتفاقات ثانی - Second Stage of Socio-Economic Development

شاہ ولی اللہ کے نزدیک سیکنڈ ڈویلپمنٹ اور فرسٹ ڈویلپمنٹ کے درمیان کوئی خط امتیاز نہیں ہے بلکہ عین ممکن ہے کہ کسی کیس سٹڈی میں دونوں مراحل کے اجزاء موجود ہوں۔ اصل میں ہوتا یہ ہے کہ جب انسان کھانے، پینے اور رہنے جیسے بنیادی مسائل حل کر لیتا ہے تو ہی وہ آگے بڑھ سکتا ہے۔ اور آگے بڑھتے ہوۓ اسکے رویوں اور اخلاقی قدروں میں پچیدگی آنا شروع ہو جاتی ہے۔ مناسب اداروں اور قوانین کی تشکیل کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ شاہ صاحب اس ڈویلپمنٹ کو پانچ شعبوں میں تقسیم کرتے ہیں اور ہر شعبہ کو "حکمتہ" wisdom کا نام دیتے ہیں۔ آئیے ان پانچ حکمتوں کا جائزہ لیتے ہیں۔

1-الحکمتہ المعاشیۃ

کھانے، پینے، رہنے، پہننے کے طور طریقے اور آداب، گفتگو کی اخلاقیات وغیرہ کا شعبہ

2-الحکمتہ المنزلیہ

بنیادی خانگی زندگی کا شعبہ جس میں شادی، بچوں کی پرورش و تربیت، رشتوں کا وجود اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا حقوق و فرائض کا شعور، مل جل کے رہنے کے آداب اور انتظامات یعنی manners and management

3-الحکمتہ الاکتسابیہ

روزی روٹی کمانے کا شعبہ earning of livelihood. اس حکمت کے تحت مختلف پیشوں (لوہار، کسان، مستری، بڑھئی وغیرہ) کا ظہور ہوتا ہے، صلاحیتوں skills اور نالج کا کمرشل استعمال ہوتا ہے۔

4-الحکمتہ التعاملیہ

باہمی معاشی معاملات کا شعبہ جیسے خریدوفروخت، کرایہ اور گروی کے تصورات، ادھار اور قرضہ وغیرہ کی ٹرانزیکشنز، مورٹگیج اور وقف وغیرہ کی ایکٹیویٹیز اس شعبہ کا حصہ ہیں۔

5-الحکمتہ التعاونیہ

معاشی تعاون اور اعتبار کے پہلو اس شعبہ میں پروان چڑھتے ہیں ۔۔۔ جیسے شراکت داری partnership, کاروباری اکائی کا قیام commercial enterprise, مختار ناموں کے ذریعے کام کرنا power of attorney, اور لیزنگ وغیرہ

محنت کی تقسیم Division of Labor

اوپر مذکورہ شعبہ جات میں پہلے دو سوشیالوجی سے متلعق ہیں اور باقی تین کا تعلق معاشیات سے بنتا ہے۔ اب اسی اسٹیج سے متعلق محنت کی تقسیم division of labor کے متعلق شاہ ولی اللہ اس طرح وضاحت کرتے ہیں کہ ایک اکیلا انسان تمام کام خود نہیں کرسکتا اگر وہ ایسا کرنے کی کوشش کرے گا تو ارتفاقات کے پہلے مرحلے سے آگے نہیں جا پاۓ گا ۔۔۔ آگے بڑھنے کے لیۓ کام یا محنت کو آپس میں باہم تقسیم کرنا پڑھے گا۔ شاہ صاحب مثال دیتے ہیں کہ جیسے کاشت کاری کے شعبے میں ایک بندہ جانوروں کو سدھاۓ گا، ایک لوہار ہل بناۓ گا تو ایک بڑھئی اس ہل کو لکڑی کے شہتیر پر فکس کرے گا اور یوں ڈویژن آف لیبر سےخوراک کی سپلائی کا ایک نظام وجود میں آۓ گا۔ اسی وجہ سے شاہ صاحب کے نزدیک ارتفاقات ثانی میں زراعت، گلہ بانی، ترکھان ،لوہار، جولاہے، کسان اور مچھیرے جیسے متنوع پیشے وجود میں آۓ ۔۔۔ اور ان سے آگے تجارت اور آبادی کی باہمی ایکٹیویٹیز سے پیدا ہونے والے مسائل سے نمٹنے والی انتظامیہ کی ضرورت محسوس ہوئی۔
شاہ ولی اللہ کہتے ہیں کہ کسی شخص میں کام کرنے کا تخصص specialization دو فیکٹرز کی بناء پر پیدا ہوتا ہے۔ایک تو اسکی قابلیت مثلا جسمانی طور پر مضبوط شخص بہتر جنگجو بن سکتا ہے ۔۔۔۔ ایک ذہین شخص بہتر ریاضی دان بن سکتا ہے اور دوسرا اسکو حاصل مواقع incidental advantages ۔۔۔۔۔ جیسے سمندر کے قریب رہنے والا شخص بہتر مچھیرا بن سکتا ہے اور لوہار کا بیٹا یا ہمسایہ بہتر لوہار بننے کے زيادہ مواقع رکھتا ہے۔
بہتر معاشی و سماجی نظام کے لیۓ ڈویژن آف لیبر اور سپیشلائزیشن بہت ضروری ہے۔ اسکے لیۓ وہ فرض کفایہ کی بھی پروویژن استعمال کرتے ہیں کہ معاشرے میں کرنے والے ضروری امور تمام افراد کے کرنے کے لیۓ نہیں ہوتے بلکہ ہر کام کے لیۓ ضرورت کے لحاظ افراد یا فرد کو نامزد assign کیا جاۓ۔ تبھی معاشرہ آگے کی سمت بڑھ سکتا ہے۔
شاہ ولی اللہ تجویز کرتے ہیں کہ فرد کو سوچ سمجھ کے قابلیت اور صلاحیت کے مطابق اپنا کام چننا چاہیے۔ اس سلسلے اسکو خاندانی روایات کو جھٹک دینا چاہیے۔ وہ انتظامیہ کو بھی کہتے ہیں کہ انکا کام اس بات پر بھی توجہ اور کنٹرول رکھنا ہے کہ لوگ کہیں ایسے شعبہ جات تو اختیار نہیں کر رہے جس میں غیر ضروری اجتماع pooling فائدے کی بجاۓ نقصان دینا شروع کر دے۔

موقع لاگت کیا ہونا چاہیے یعنی Opportunity Cost

اپنی کتاب حجتہ البالغہ میں اپرچیونٹی کوسٹ کو وہ اس انداز میں بیان کرتے ہیں کہ اگر افراد کی "ایک کثیر تعداد" غیرضروری پروڈکٹس (انکے نزدیک لگژریز) ہی کی پیداوار میں مصروف ہو جاۓ تو سوسائٹی کے دوسرے ضروری شعبے نظر انداز ہو جائيں گے جیسے کے زراعت و تجارت۔ سوسائٹی (شہر) کی پبلک انتظامیہ اگر فنڈز کا ایک بہت بڑا حصہ مخصوص آسائیشوں کے پروجیکٹس پہ ہی لگا دے گی تو سوسائٹی کی مجموعی فلاح welfare of the city میں اتنی ہی کمی واقع ہوتی جاۓ گی۔ انکی یہ بات کم و بیش وہی ہے جو آجکل پروجیکٹ منیجمنٹ اور فنانسنگ میں پروجیکٹ سلیکشن اور وسائل کے مناسب استعمال یعنی allocation of scarce resources کی مد میں سکھائی جاتی ہے۔
استعمالِ زر - Use of Money
پچھلی قسط میں ہم نے سمجھا تھا کہ اگلے مرحلے کے لیۓ محنت کو تقسیم کرنا پڑھے گا یعنی ڈویژن آف لیبر تو یہاں پر میڈيم آف ایکسچینج یعنی کرنسی کا تصور ابھرے گا کیونکہ ہمیں تقسیم ہوئی محنتوں کو آپس میں کسی ذریعے سے تبادلے کی ضرورت پڑے گی اور اس تبادلے کو کرنسی سے quantify کیا جاۓ گا۔ شاہ ولی اللہ کہتے ہیں کہ کرنسی کی جنس ایسی ہونی چاہیے جو پائيدار durable بھی ہو اور باہمی ٹرانزیکشنز میں عوام میں قابل قبول بھی ہو۔ اپنی کتاب البدور میں کہتے ہیں کہ کرنسی کی جنس ایسی نہ ہو کہ اسکی اپنی کوئی بنیادی افادیت ہو ۔۔۔۔ مثلا اناج کو بطور کرنسی رکھنا عقلمندی نہیں کیونکہ اناج کی بنیادی افادیت اور ضرورت دراصل کچھ اور ہے۔ انکے نزدیک سونا اور چاندی بطور کرنسی سب سے زیادہ قابل عمل ہیں کیونکہ ان دھاتوں کو وزن کے لحاظ سے تقسیم در تقسیم کیا جا سکتا ہے نیز انکو زیورات کی شکل میں زیبائش کے نقطہ نظر سے بطور بچت بھی رکھا جا سکتا ہے۔ اس وجہ سے وہ گولڈ اور سلور کے ليئے فطری زر money by nature کی اصطلاح بھی استعمال کرتے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس تصور کے خلاف ہیں کہ کرنسی کی جنس ایسی ہونی چاہیے جسکا اپنا استعمال نہ ہونے کے برابر ہو (جیسے کاغذی نوٹ)

باہمی معاشی تعاون

باہمی معاشی تعاون میں شاہ ولی اللہ بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔ اسکے لیۓ وہ نیکی اور آخرت کی جوابدہی کے احساس کے ساتھ یہ ذمہ داری فلاحی مقاصد کے لیۓ مختلف معاشی ویلفئیر انسٹیٹیوشنز جیسے صدقہ charity، وصیت will اور وقف trusts پرزور دیتے ہیں۔ انکے نزدیک ان اداروں نے پہلی مرتبہ دور نبوی (صلی اللہ علیہ وسلم) میں ایک معاشی فلاحی سرگرمی کا کردار ادا کیا تھا۔
دوسری طرف وہ ان تمام معاشی سرگرمیوں کے خلاف ہیں جو استحصال اور باہمی تعاون کے فلاحی مقصد کو زد پہنچاتی ہیں۔ مثلا جوا،سود، رشوت، کوئی ایسا معاہدہ جو uncertainty اور دھوکے پر مبنی ہو۔ وہ کہتے ہیں ایسی تمام سرگرمیاں اگر بہت معمولی پیمانے پر بھی ہو رہی ہوں گی تو پھر بھی کثیر عوام انکی طرف راغب ہو گی little of them، attracts a lot of them ...... اس لحاظ سے کیونکہ شریعت ان سرگرمیوں کی کوئی حد، کم یا زیادہ متعین کرنے کا کوئی پیمانہ نہیں دیتی لہذا ایسی منفی اور استحصالی معاشی سرگرمیاں سرے سے ہی ممنوع ہیں۔

ربا-Interest

شاہ صاحب قرض پر اصل رقم سے زائد ليے جانے کو ربا الحقیقی کہتے ہیں اور اسکو شریعت کی رو سے بھی اور معاشی لحاظ سے ممنوع قرار دیتے ہیں۔ انکی راۓ میں سود سے ہونے والا نقصان معیشت کی جڑوں تک پہنچتا ہے ۔۔۔ جیسے زراعت اور صنعت زندگی کی بنیادی ضرورتوں کی پیداوار کا کام کرتے ہیں تو اگر سود کا چلن ہو گا تو لوگ پیداواری اور منفعت بخش کام کرنے کی بجاۓ بیٹھے بٹھاۓ پیسے سے پیسہ بنانے کو ترجیح دیں گے اور آخر کار صنعت و زراعت کی بنیادی پیداواری اہمیت دم توڑ دے گی جو کہ نوع انسانی کی بنیادی ضرورت ہے کیونکہ کوئی بھی معشیت ضرورتوں کے تحت ہی آگے کو سفر کرتی ہے۔
شاہ صاحب بارٹر ٹریڈ میں بھی مقدار، جنس اور ٹائم پیریڈ کی اونچ نیچ اور نامساویت کو بھی ربا میں شمار کرتے ہیں اور اسکے لیۓ ربا الفضل (زیادہ لینے کا سود / quantity factor) اور رباالنسئیہ (ادھار کا سود / time & quantity factor) کی اصطلاح استعمال کرتےہیں۔ ربا الفضل سے مراد وہ زیادتی اور اضافہ ہے جو ہم جنس چیزوں کے دست بدست مبادلہ کرنے سے حاصل ہو۔ مثلاً ایک کلو اچھی کوالٹی کی گندم کے بدلے میں اگر دو کلو ہلکی کوالٹی کی گندم لی جائے تو یہ شاہ صاحب کے نزدیک سود ہے۔ اسی طرح ایک تولہ چاندی کے عوض میں دو تولہ چاندی ربا ہے۔ اسکو ہم interest in similitude barter بھی کہہ سکتے ہیں۔ لیکن اگر ایکسچینج ہونے والی دونوں جنس ایک جیسی نہ ہوں تو کسی بھی مقدار یا وقت کے لحاظ انکا تبادلہ درست ہو گا جیسا کہ روایتی بارٹر سسٹم میں ہوتاہے۔
شاہ صاحب اسکا نقصان بیان کرنے کے لیۓ یہ دلیل دیتے ہیں کہ اس طرح لوگ شدت سے مادی آسائشوں excessive pursuit of luxurious living and materialistic attitudes کی طرف راغب ہوں گے۔ اور اچھی کوالٹی کی جنس کے حصول کی رغبت و لالچ میں اضافہ ہوتا جائیگا اور اس غیر پیداواری طریقے کی ایک chain چل پڑے گی۔ (ربا الفضل کے معاملے میں انکی یہ دلیل کافی کمزور ہے کیونکہ اچھی کوالٹی کی ضرورت اپنی جگہ مسلم ہے)

الحکمتہ التعاونیہ

 اس شعبے میں شاہ ولی اللہ کارپوریشنز اور کمپنیز کا تصور اسطرح پیش کرتے ہیں کہ کسی اکانومی میں یکساں وسائل ہر ایک کے پاس نہیں ہو سکتے۔ جیسے کوئی ذہین ہو گا تو کوئی کند ذہن، کوئی پیسے والا ہو گا تو کوئی پیسے کا محتاج، کوئی نچلے درجے کے کام کرنا معیوب سمجھتا ہو گا تو کوئی ایسی محنت میں بھی عظمت خیال کرتا ہو گا۔ لہذا آگے بڑھنے کے لیۓ ہر ایک کو اپنے پاس مہیا وسائل (ذہنی، جسمانی، مالی، علمی وغیرہ) کا آپس میں اشتراک کرنا پڑے گا۔ جیسے ایک زمیندار زمین تو رکھتا ہو مگر اسکے پاس بیج ،بیل اور ہل خریدنے کے وسائل نہ ہوں ۔۔۔۔ جبکہ دوسری طرف کوئی ایسا بندہ ہو جسکے پاس بیلوں کی کئی جوڑیاں موجود ہوں اور تیسری طرف ایک ایسا مالدار ہوں جسکے پاس کئی من بیج خریدنے کی استطاعت ہو۔ تو وہ تین افراد مل کر ایک کمپنی (مضاربہ / مشارکہ / شراکت داری) بنا سکتے اور اس کمپنی کا مقصد ہو گا اناج پیدا کرنا۔ اسیطرح کچھ لوگ پیسہ تو رکھتے مگر کام کرنے سے ڈرتے ہیں یا انکی دیگر ضروریات انکے کام کرنے میں مانع ہوتیں سو وہ سلیپنگ پارٹنرز بننے کو ترجیح دیتے۔ اس طرح سے مختلف قسم کی شراکت داریاں اور معاہدات وجود میں آتے جنکی تفصیلات انکی کتاب حجتہ البالغہ میں موجود ہے۔

(200 مرتبہ دیکھا گیا)

عامر مغل

عامر مغل اکاؤنٹس اور فنانس کے شعبے سے منسلک ہیں۔ طبعاً وہ ایک متجسس شخصیت ہیں۔ اپنے شعبے سے الگ وہ علم دوست ہیں۔ مذہب، فلسفہ، سائنس، ٹیکنالوجی اور فنونِ لطیفہ سے شغف بھی رکھتے ہیں اور ان موضوعات پر گاہے بہ گاہے لکھتے بھی رہتے ہیں۔ ان کی تحریروں سے فیضیاب ہوتے رہیں۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

2 تبصرے

  1. sana faisal says:

    there should be a third episode as well ... keep it up

تبصرہ کریں