نظریۂ ارتفاقات از شاہ ولی اللہ (پہلی قسط)

نوٹ: نظریۂ ارتفاقات کی شائع شدہ تمام قسطیں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

ایک مرتبہ ایک تحریر سے پالا پڑھا جو سیاسیات اور سماجیات میں شاہ صاحب کے کام سے متعلق اشارتا لکھی گئی تھی۔ پوسٹ پڑھ کے شاہ ولی اللہ (رح) کے اس میدان کو سمجھنے کے لیۓ سرچ کی تو افسوس ہوا کہ ایک تو اردو میں مواد نہ ہونے کے برابر ہے اور جو کچھ میسر ہے زبان غیر میں ہے۔ میرے خیال میں انکی سوشیو-اکنامک تھیوری (al-irtifaqat) یقینا پڑھنے کے قابل ہے جو کہ کم و بیش 250 سال پہلے پیش کی گئی۔ ابھی اس پر مزید بات کرنے سے پہلے کچھ نقاط بیان ہو جائیں جو شاہ ولی اللہ "ریاست" کے بارے میں رکھتے ہیں۔

شاہ ولی اللہ کا ریاست کے بارے میں سیاسی نظریہ

  1. زمین اللہ کی ملکیت ہے اور کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ کسی کی ملکیت میں مداخلت یا اس پر قبضہ کرے۔
  2. تمام انسان برابر ہیں۔ لہذا کسی انسان کو (کسی بھی پہلو ) یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی دوسرے انسان کا مالک یا حکمران بنے۔
  3. ریاست کا سربراہ صرف ریاست کا منتظم manager ہے۔ اور بطور منتظم اسکو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ریاست کے خزانہ treasury سے صرف اتنا معاوضہ لے سکے جس سے وہ اپنے اخراجات ایک عام شہری کی طرح پورے کر سکے۔
  4. یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی بنیادی ضروریات خوراک، لباس، رہنے کو گھر وغیرہ اور اسی طرح دوسری بنیادی سہولیات مہیا کرے۔
  5. ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ یہ بنیادی ضروریات اور سہولیات بلا تفریق مذہب، نسل، ذات پات وغیرہ سب شہریوں کو مہیا کرے۔
  6. قانون و انصاف کا نفاذ سب کے لیۓ برابر ہو گا اور قائم کیا جاۓ گا۔ ہر شہری کے بنیادی حقوق جان، مال اور عزت کا تحفظ اور اسیطرح دوسرے شہری حقوق کا تحفظ دینا ریاست کی ذمہ داری ہے۔
  7. ریاست میں موجود ہر ذات، گروہ، قبیلہ کی زبان اور تہذیب و تمدن کو (ایک جیسا) پروموٹ کرنا ہو گا۔
  8. ہر ریاست ایک آزاد اکائی ہے۔ وہ اپنے اندرونی اور بیرونی معاملات میں مکمل طور پر آزاد ہے۔ اور ہر ریاستی اکائی کو اتنا طاقتور ہونا چاہیے کہ وہ کسی قسم کی جارحیت کا دفاع کر سکے۔
یہ بھی پڑھیں:   نظریۂ ارتفاقات از شاہ ولی اللہ (تیسری قسط)

الارتفاقات شاہ ولی اللہ (رح) کی معاشیات اور سماجیات میں ایک اہم علمی کاوش ہے۔ 250 سال قبل (یہ کم و بیش وہ زمانہ ہے جب یورپ میں آدم سمتھ اور آندرے شائی ڈینئيس جیسے لوگ کلاسیکل اکنامکس کی پیدائش میں اپنا کردار ادا کر رہے تھے اور ہم خوبصورت مقبرے بنانے میں مصروف تھے) پیش کی جانے والے اس نظریے سے دینی مدارس اور معاشیات پڑھانے والے تعلیمی ادارے بھی برصغیر میں ہونے والے اس بنیادی کام سے بہت حد تک بے خبرہیں جو یقینا افسوسناک ہے۔

شاہ ولی اللہ کا نظریۂ ارتفاقات - Socio-Economic Theory

ویسے تو ارتفاقات کا مفہوم یہ ہے کہ زندگی میں بہتری اور آسائش اختیار کرنے کے مختلف طریقے اور ذرائع کا استعمال کیسے ہو لیکن شاہ ولی اللہ نے اس اصطلاح کو اپنی سوشیو اکنامک تھیوری میں ایک مخصوص سینس میں استعمال کیا جس میں وہ ارتفاقات کے چار مراحل stages کا ذکر کرتے ہیں. ارتفاقات میں پہلا مرحلہ ایک سادہ معاشی جدوجہد سے شروع ہوتا ہے جو کہ آخری مرحلہ میں پہنچ کر عالمی سطح پر ایک مستحکم پولیٹکل آردڑ کو برقرار رکھنے، سماجی و معاشی استحکام کی خاطر عالمی امن کے پرچار ،خواہشات اور اقدامات تک جاتا ہے۔ آئیے ارتفاقات کے پہلے مرحلے کا کچھ ذکر ہو جاۓ۔

الارتفاقات الاوّل - First Stage of Socio-Economic Development

پہلا مرحلہ حیوانی طرز زندگی animal living پر مشتمل ہے جسکو شاہ ولی اللہ "الارتفاقات البھیمی" کا نام دیتے ہیں۔ اس مرحلے میں انسان نے اپنی فکر کو الفاظ دینے کا آغاز کیا۔ اس بولنا چاہا، گفتگو کرنا چاہی ۔۔۔۔ اس نے سیکھا کہ اس کے ليے کیا کھانا پہتر ہے ۔۔۔۔ کیسے کھانا بہتر ہے ۔۔۔ کونسی غذا زود ہضم ہو سکتی ہے ۔۔۔۔ نباتات کو اگانا، کاشت کاری کے بنیادی تصورات (Cultivation, Irrigation, Harvesting)، خوراک کا محفوظ preserve کرنا ۔۔۔۔۔ کھانا پکانا، اسیطرح کن جانوروں سے دودھ، چکنائی، گوشت اور کھالیں حاصل کی جا سکتی ہیں ۔۔۔۔ کونسے جانور بطور مویشی پالے جا سکتے ہیں۔ پانی کے ریسورسز کی اہمیت کو سمجھنا اور پانی کو سٹور کرنے کے طریقے وضع کرنا ۔۔۔ یہ سب کچھ ارتفاقات کے پہلے مرحلے کے آغاز میں ہو رہا تھا۔
اس مرحلے میں انسان نے جانا کہ اسکو ایک مسکن shelter کی بھی کتنی ضرورت ہے جو اسکو گرمی، سردی اور بارش سے محفوظ رکھے۔ جسم ڈھانپنے کے لیۓ لباس کی ضرورت نے کھالوں اور درختوں کے ریشوں کیطرف توجہ دلائی ۔۔۔۔ اسی سماجی و معاشی مرحلے میں اسکو ایک declared بیوی / شوہر کی ضرورت کا بھی احساس ہوا جو نہ صرف اسکی جنسی ضرورت پورا کرے بلکہ ایک ساتھی life Partner کا خلا بھی پورا کرے۔ اوریوں اولاد پیدا ہونے کی صورت میں ایک سماجی یونٹ آغاز ہوا۔
اب انسان چھوٹی موٹی ضروریات زندگی کی چیزیں بنانا crafting کرنا بھی ساتھ ساتھ سیکھ رہا تھا۔ یہاں سے انسان کو ضرورت پڑی اپنی صلاحیتوں، پروڈکٹس اور علم کا ایک دوسرے سے اشتراک knowledge share کیا جاۓ اور ایک محدود تعاون کے ابتدائی پیمانے primitive exchanges وجود میں آۓ۔
یہ ایک ابتدائی انسانی سماج تھا۔ آگے جا کر جسمانی اور ذہنی طاقتور لوگ نمایاں ہوۓ جو کہ اس معاشرے کو Lead کر سکتے تھے۔ یہ لوگ کبھی ریسورسز پر قبضہ کر کے لیڈر بن جاتے ۔۔۔ کبھی ریسورسز کے بہترین استعمال سے لیڈر بن جاتے تو کبھی دونوں وجوہات کی بنا پر نمایاں رہتے۔ مزید معاشرہ میں تنوع آیا تو followers کے نام پر عام آدمی کی کلاس بھی سامنے آ گئی۔
شاہ ولی اللہ کے نزدیک یہ معاشی و سماجی طرز زندگی کی ایک سادہ اور ابتدائی اسٹیج تھی۔ جسکا مقصد بنیادی حیوانی ضروریات کھانے، پینے، رہنے سے ہٹ کے اور کچھ نہیں تھا۔ مارکیٹس اور محنت کی تقسیم division of labor جیسے تصور ابھی ناپید تھے۔ یہ وہ اسٹیج تھی جس نے آگے چل کر دوسری اسٹیج کی بناء ڈالی یعنی pre-requisite for the second stage of socio-ecہnomic development جسکے بارے میں ہم انشااللہ اگلی قسط میں پڑھیں گے ۔۔۔۔ جاری ہے۔

(481 مرتبہ دیکھا گیا)

عامر مغل

عامر مغل اکاؤنٹس اور فنانس کے شعبے سے منسلک ہیں۔ طبعاً وہ ایک متجسس شخصیت ہیں۔ اپنے شعبے سے الگ وہ علم دوست ہیں۔ مذہب، فلسفہ، سائنس، ٹیکنالوجی اور فنونِ لطیفہ سے شغف بھی رکھتے ہیں اور ان موضوعات پر گاہے بہ گاہے لکھتے بھی رہتے ہیں۔ ان کی تحریروں سے فیضیاب ہوتے رہیں۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں