نظریۂ ارتفاقات از شاہ ولی اللہ (چوتھی قسط)

نوٹ: نظریۂ ارتفاقات کی شائع شدہ تمام قسطیں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

ارتفاقات رابع - Fourth Stage of Socio-Economic Development

سابقہ بیان کردہ مراحل میں ہم نے دیکھا کہ ایک سادہ سا انسان باہمی تعاون کی محرکانہ ضرورت کے تحت آپس میں ضم ہوتا ہوا ایک گاؤں، قبیلہ اور پھر ایک باضابطہ ریاست میں تبدیل ہوتا گيا۔ اب چوتھے مرحلے پر اسکا کردار عالمی نوعیت کا بن جاتا ہے۔ حکومتوں کی حکومت جسکے لیۓ وہ ”خلافتہ الخلفاء“ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ آئيے ذرا یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس مرحلے پر جانے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے۔
جب ارتفاق تیسری سطح پر پہنچ جاتا ہے، ریاستیں اور انکے امام (حکمران) وجود میں آ کر فعال ہو جاتے ہیں تو ان ریاستوں کے مابین مفادات کے حصول کی جنگ شروع ہو جاتی ہے۔ یہ مفادات لالچ، دشمنی ، وسائل، دفاع، انتقامات اور دیگرمحرکات کے تحت جنم لیتے ہیں اور پھر انکو پورا کرنے کے لیۓ جنگجوؤں کی بھرتی کی جاتی ہے، فوجیں بنائی جاتی ہیں اور ریاستوں کے مابین باہمی چپقلشوں اور جنگوں کا ایک سلسلہ جاری ہو جاتا ہے۔ ان جنگوں اور چپقلشوں کی وجہ سے آگے بڑھتا ہوا نظام زندگی رک جاتا ہے۔ زندگیاں برباد ہونا شروع ہو جاتی ہیں اور ہر قسم کے ارتفاقات تباہ ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
یہاں پہ ایک ایسے عالمی مرکزی ادارے کی ضرورت پڑتی ہے جو عالمی سطح پر ریاستوں کے مابین معاملات کو دیکھے اور عالمی معاشرے کے تحفظ و بڑھوتری کی خاطر فیصلہ ساز ہونے کا کردار ادا کرے۔ شاہ ولی اللہ ایسے عالمی ادارے کو ”خلافتہ الخلفاء“ کا نام دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ خلافتہ الخلفاء مادی وسائل کے لحاظ سے بھی اتنا طاقتور ہو کہ کوئی ریاست یا گروہ اس کے خلاف جنگ کرنے اور شکست دینے کی امید نہ رکھے۔ جب تک یہ عالمی نظام حکمرانی وجود میں نہیں آۓ گا اور اپنا کردار ادا نہیں کرے گا تب تک دنیا کے لوگ مکمل امن سے زندگی نہیں گزار سکیں گے۔
شاہ ولی اللہ خلافتہ الخلفاء کو کوئی خاص معاشی سرگرمی کا کردار نہیں دیتے ماسواۓ اپنے فرائض کی ادائیگی جن میں سر فہرست عالمی امن و انصاف کی فراہمی اور استحصال کا خاتمہ ہے۔ ان فرائض کی ادائیگی کے لیۓ ضروری مادی وسائل کا حصول ہی خلافتہ الخلفاء کی معاشی سرگرمی گنی جا سکتی ہے۔ اس کے لیۓ مجرم اور باغی ریاستوں یا گروہوں کو معاشی سزائیں بھی دی جا سکتی ہیں۔ مگر محض فنڈ کولیکشن کرنا ان سزاؤں کا مقصد نہیں ہو گا بلکہ اس کا مقصد ساتھ ان کی اصلاح کے ساتھ انکو عالمی دھارے میں لانا ہے۔

الارتفاقات : ایک فطری سماجی عمل A Natural Process of Development

شاہ ولی اللہ ارتفاقات کو آگے بڑھنے کا ایک فطری عمل کہتے ہیں۔ اس ارتقائی عمل میں مسخ الفطرت اور بری عادات کے مالک لوگ اور نظام ہی رکاوٹ کا کام کرتے ہیں۔ نبوت کے ادارہ کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ لوگوں کی ارتفاقات کے عمل کی تکمیل میں مدد کی جا سکے اورmeans and methods کی اصلاحات کی جا سکیں۔ شاہ صاحب کے نزدیک دو یونٹ یعنی گھر اور ریاست اسلامی شریعہ کے عوامل کا مرکز ہیں اور نبی عربی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک مخصوص ٹاسک ارتفاقات ثانی کی اصلاحات کر کے اسے ثالث کیطرف آگے بڑھانا تھا اور اللہ کے دین کا ابلاغ عالمی سطح پر کرتے ہوۓ ارتفاقات رایع تک پہنچنا ہے۔ اس لحاظ سے انکی سوشیو اکنامک تھیوری میں خدا کی خوشنودی و رضا کا عنصربھی ساتھ ساتھ لازم کی حثیت رکھتا ہے۔ وہ اسکو ” اقترابت “ کا نام دیتے ہیں یعنی وہ مراحل اور طریقہ کار جنکی مدد سے تزکیہ اور روحانی بالیدگی میں آگے بڑھا جاتا ہے اور خدا کی قربت حاصل کی جاتی ہے۔
یہ ذہن نشیں رہے کہ شاہ ولی اللہ کے بیان کردہ بہت سارے معاشی عوامل جیسے ڈویژن آف لیبر، ٹریڈ ایکسچینچ، مارکیٹس، زکوۃ اور سود پہلے سے بھی اسلامی شریعہ کے مباحث میں شامل رہے ہیں۔ شاہ صاحب کی خصوصیت یہ ہے کہ انہوں نے اس سارے سماجی و معاشی عمل کو ارتفاقات کی اصطلاح میں ارتقائی مراحل میں بیان کیا ہے۔ ارتقاء کے پہلے مرحلے میں زرعی معشیت agrarian economy تھی اگر چہ آجکل کی جدید تعلیم میں اس agrarian economy کا تصور کچھ مختلف ہے۔ اس کے بعد اگلے مرحلے میں کرنسی، ٹیکنالوجی، پروڈکشن پروسیسز اور باہمی تعاون کی وجہ سے سماجی و معاشی ادارے وجود میں آتے ہیں اور اس کے بعد یہ ارتقاء نیشنل اکانومی وسوسائٹی سے ہوتا ہوا انٹرنیشنل اکانومی و سوسائٹی تک جاتا ہے۔ ہم یہ کہنے میں یقینا حق بجانب ہیں کہ موجودہ دور میں اقوام متحدہ و یورپین یونین جیسے اداروں سے یہ ارتقاء خلافتہ الخلفاء کی جانب بڑھ رہا ہے۔ سوچنا یہ ہے اس فطری تہزیبی ارتقاء میں ہم کہاں پہ کھڑے ہیں اور ہمارا کیا کنٹری بیوشن ہے یہ ایک سوال ہے جو ہر پڑھنے اور سوچنے والا اپنے آپ سے کرے اور اسکا جواب تلاش کرے۔ اصل خلافتہ الخلفاء کے حقدار وہی ہیں جو ان عالمی ذمہ داریوں کے ادا کرنے کے اوصاف کے حامل ہیں۔ کیونکہ امن انصاف کی فراہمی اور استحصال کے خاتمے میں ہی ہے۔
نوٹ:
مذکورہ بالا مضمون علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، انڈیا کے عبدال‏‏عظیم اصلاحی صاحب کے ایک تحقیقی مقالے کا ترجمہ و تخلیص ہے۔ یہ مقالہ جامعہ میونخ Munich University Library جرمنی کی لائبریری کے آرکائیوز میں سے لیا گیا ہے۔

(148 مرتبہ دیکھا گیا)

عامر مغل

عامر مغل اکاؤنٹس اور فنانس کے شعبے سے منسلک ہیں۔ طبعاً وہ ایک متجسس شخصیت ہیں۔ اپنے شعبے سے الگ وہ علم دوست ہیں۔ مذہب، فلسفہ، سائنس، ٹیکنالوجی اور فنونِ لطیفہ سے شغف بھی رکھتے ہیں اور ان موضوعات پر گاہے بہ گاہے لکھتے بھی رہتے ہیں۔ ان کی تحریروں سے فیضیاب ہوتے رہیں۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں