نماز میں بھگدڑ

صورت حال اس وقت بڑی عجیب ہو جاتی ہے جب جمعہ کے بعد نمازی ایک دوسرے پر بازی لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔
کچھ افراد اپنے کام کاج کی وجہ سے یا گھر پر سنتیں ادا کرنے کی نیت سے فرض نماز کے فوراً بعد مسجد سے باہر نکلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ عین اسی وقت بہت سے نمازی یکدم کھڑے ہو کر سنتیں ادا کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
اس سے دونوں مشکل کا شکار ہو جاتے ہیں۔ گھر جانے والے راستہ نہ ملنے کی وجہ سے بلاک ہو کر خاصی ٹینشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اور اگر وہ نمازیوں کی گردنیں پھلانگیں تو ان کی نماز ڈسٹرب ہو جاتی ہے۔
یہ بڑی اہم نوعیت کا مسئلہ ہے۔ نماز کے بعد جلدی نکلنے والے افراد اکثر اوقات اگلی صف کے ثواب سے محروم رہتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر آگے پھنس گئے تو پھر کتنی بھی ایمرجنسی ہو ، نکلنے کا راستہ نہیں ملے گا۔
کچھ افراد نے اس کا یہ حل نکالا ہے کہ فرض کے فوراً بعد اذکار یا دعا وغیرہ کے لیے بھی نہیں رکتے اور فوراً اٹھ کر باہر نکلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس سے بھی نماز کی یکسوئی متاثر ہوتی ہے۔ ہر وقت باہر نکلنے کی فکر ہی سوار رہتی ہے۔ اور نماز کے بعد مسنون اذکار کے لیے بھی چند لمحے رکنا ناممکن ہو جاتا ہے۔
بیٹھے رہنے والے جانے والوں پر یہ الزام بھی لگاتے ہیں کہ ان کو باہر نکلنے کی جلدی ہے۔ اور شیطان ان کو مسجد میں بیٹھنے نہیں دیتا۔ ایسا ہوتا بھی ہے۔ لیکن اس کے باوجود بہت سے مسافر ، بیمار یا ضروری کام والے افراد ایسے ہوتے ہیں جن کو جانا ضروری ہوتا ہے وہ مشکل میں پھنس جاتے ہیں۔ اور وہ اس مشکل سے بچنے کے لیے اگلی صف میں جانے سے ہی کتراتے رہتے ہیں۔ یہ جوتے چوری ہونے سے بھی بڑا ایشو ہے۔
اس مسئلے کا انتہائی آسان حل یہ ہے کہ جو لوگ مسجد میں رک کر ہی بقیہ نماز پوری کرنا چاہتے ہیں وہ چند منٹ انتظار کی زحمت اٹھا لیں۔ وہ وقت مسنون اذکار میں گزار لیں۔ فوراً کھڑے ہو کر نماز شروع نہ کریں بلکہ جانے والوں کو سکون سے باہر نکلنے کا موقع فراہم کریں۔ اس کام میں زیادہ سے زیادہ پانچ منٹ لگیں گے۔ اور بعد میں وہ بھی اطمینان سے نماز ادا کر لیں۔ ان کے اس عمل سے سب لوگ اگلی صف میں جائیں گے۔ اور نماز کے بعد کم از کم مسنون اذکار اور دعائیں وغیرہ بھی پڑھ کر سکون سے باہر نکلیں گے۔ اور بیٹھنے والوں کی نماز بھی ڈسٹرب نہیں ہو گی۔

یہ بھی پڑھیں:   طوطا اور مینا

(54 مرتبہ دیکھا گیا)

یاسر غنی

یاسر غنی

یاسر غنی صاحب سائنس کے شعبے نباتیات میں ماسٹرز ہیں۔ فی الحال ایک کالج کے پرنسپل ہیں اشاعت و بلاغت میں سر گرم ہونے کے ساتھ مطالعے کو اپنا مشغلہ رکھتے ہیں۔ اور لوکل اخبارات میں "نشانِ منزل" کے عنوان سے کالم بھی لکھتے رہتے ہیں۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

2 تبصرے

  1. ایک اہم اور قابل غور موضوع ۔۔!! لیکن کئی افراد جلدی نکلنے کی کوشش میں نمازیاں کے آگے سے گزر جانے میں بھی گریز نہیں کرتے ۔۔۔!! آپ کی بات سے بلکل متفق ہوں ۔۔۔!! وہ کچھ دیر انتظار کر لیں ۔۔۔

  2. بہت شکریہ شہزادہ عامر صاحب۔ ہمیں اس کو سنجیدہ لینا ہو گا۔

تبصرہ کریں