نماز کی ادائیگی اور ہماری ترجیحات

میرا سوال ہے کہ
موجودہ دور میں زندگی انتہائی تیز تر اور بےحد مصروف ہے، عالم یہ ہے کہ بہت سی مصروفیات ایسی ہوتی ہیں جنہیں ہم کسی صورت چھوڑ نہیں سکتے، آج کا انسان روزگار / کاروبار اور دیگر معاملات میں اسقدر الجھ گیا ہے کہ پانچ وقت کی نماز کی پابندی کرنا ایک عظیم اکثریت کے لیے کم و بیش ناممکن کے قریب ہے، یعنی ہمیں ہفتے یا مہینے میں ایک بار نماز کا حکم نہیں دیا گیا، بلکہ روز پڑھنی ہے اور دن میں پانچ بار
پڑھنی ہے،
میں ایک مخلص مسلمان ہوں اور چاہتا ہوں کہ پانچ وقت کی نماز پابندی سے ادا کروں، لیکن میری تمام تر کوشش کے باوجود پانچ وقت کی نماز کی ادائیگی ایک مستقل مسئلہ ہے، جو شاید صرف میرا ہی نہیں، ہر مسلمان کا مسئلہ ہے،
میرا آپ سے سوال ہے کہ 24 گھنٹے کی مصروف زندگی میں پانچ وقت کی نماز کا اہتمام کیسے کیا جائے؟

ایک بھائی

جواب:

!برادر محترم

آپکی بات بالکل ٹھیک ہے کہ پانچ وقت کی نماز کا اہتمام موجودہ مصروف زندگی میں کم و بیش ناممکن نہیں تو انتہائی مشکل ضرور نظر آتا ہے، تاہم اگر ہم غور کریں تو اسکی وجہ بہت سادہ ہے، ہم اسکی اصل وجہ کو سمجھنے کے بعد با آسانی یہ تجزیہ کرسکتے ہیں کہ پانچ وقت کی نماز کی ادائیگی آج کیوں ایک مسئلہ بنی ہوئی ہے۔

دیکھیے انسان ایک بامقصد وجود ہے، یعنی انسان کو اسکے بنانے والے نے 'مقصد کا شعور' دے کر دنیا میں بھیجا ہے ہمارے اور دیگر مخلوقات کے مابین جہاں اور بہت سی باتوں میں تفریق و تفاوت ہے، وہیں یہ بھی ایک بہت بڑی حقیقت ہے کہ مقصدیت کا شعور جیسا انسان کو ودیعت کیاگیا ہے ویسا کسی مخلوق میں نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ دنیا کا ہر انسان کسی نا کسی آئیڈیل کو اپنا مقصد حیات بنائے ہوئے ہے، اور اسی کی بنیاد پر اپنی زندگی کی ترجیحات طے کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   خوبصورت کردار اور عمل

ہم اگر اپنے ارد گرد دیکھیں اور خود اپنی زات پر بھی غور کریں تو معلوم ہوگا کہ ہم میں سے ہرشخص کسی نا کسی مقصد کے لیے مسلسل سرگرداں و کوشاں ہے۔
اگر وہ ایک کاروباری شخصیت ہے تو اسکے پیش نظر اپنے کاروبار کو کامیاب اور منافع بخش بنانا ایک مقصد ہے جسکے لیے وہ دن رات دوڑ دھوپ میں مصروف ہے۔

اگر کہیں ملازمت کرتا ہے تو اسی اعتبار سے ملازمت میں ترقی و کامیابی کے خواب دن رات دیکھ رہا ہے اور مسلسل اسی کے سپنے سجائے شب و روز محنت میں جُتا ہوا ہے۔

اگر ایک طالب علم ہے تو اچھے مستقبل کے خواب و سراب کے حصول میں راتوں کی نیندیں حرام کیے ہوئے ہے۔

انہی مقاصد و آئیڈیلز کی بنیاد پر وہ اپنی زندگی کی ترجیحات متعین کرتا ہے۔
کیا چیز اول اہمیت کی ہے اور کیا ثانوی درجے کی ، کیا تیسرے درجے کی اور کیا چیز ہے جو بلکل کسی بھی اہمیت کی حامل نہیں، یہ سب اسی مقصدِ حیات کی بنیاد پر طے کرتا ہے۔
بعینہِ معاملہ ایک صاحبِ ایمان مسلمان کا بھی ہے۔
اہلِ ایمان کے نزدیک دنیا کی ہرکامیابی اور ضرورت سے بڑھ کر اہمیت اللہ کی رضا اور آخرت کی کامیابی کی ہے، یعنی ایسا نہیں ہے کہ وہ کاروبار/ملازمت اور تعلیم کے میدان میں کوئی محنت و کوشش نہیں کرتے، ضرور کرتے ہیں، لیکن انکی نظر میں ہردوسری چیز اللہ کی رضا اور آخرت کی کامیابی کے نزدیک ہیچ اور چھوٹی ہوجاتی ہے۔
وہ بھی عام لوگوں کی طرح دنیا میں کسبِ معاش اور دیگر سرگرمیوں میں لگتے ہیں، محنت و کوشش بھی کرتے ہیں۔ لیکن یہ سب چونکہ انکی ضرورت ہے، مقصد نہیں۔۔، اس لیے اللہ اور اسکے رسول (ﷺ) کے حکم اور رضا کے آگے کسی ضرورت و تقاضے کو مقدم نہیں کرتے، انکی زندگی کی تمام تر جیحات اسی 'مقصدِ حیات' ۔۔۔ یعنی اللہ کی رضا اور آخرت کی کامیابی کے اردگرد گھومتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   طوطا اور مینا

جب ایمان سرِ راہ ہوتا ہے تو معمولاتِ زندگی دین و ایمان کے تابع ہوتے ہیں، اور جب ایمان کی کوئی اہمیت خدانخواستہ کسی کےنزدیک کچھ نہ ہو تو پھر معمولاتِ زندگی خواہشات و لذات کے تابع ہوجاتے ہیں، اب انسان ایک نفس پرست جانور ہے، جسے جہاں خواہش ہوگی وہیں دوڑے گا، جو من کی چاہت ہوگی وہی کریگا۔
جبکہ اہلِ ایمان کو اللہ نے ایمان کی روشنی دے کراحسانِ عظیم فرمایا ہے، انہیں نفس کے اندھے جانور بنانے کے بجائے خالقِ کائنات کا بندہ بنایا ہے، در در کی غلامی اور ٹھوکروں سے نکال کر ایک اللہ کی بندگی و غلامی میں دیا ہے، دنیا کی تنگیوں سے نکال کر آخرت کی وسعتوں سے روشناس کرایا ہے۔
اس حقیقت سے آشنائی کے بعد، اب زندگی وہ نہیں رہتی جیسے ایمان سے پہلے تھی، اب زندگی کا ہرنقشہ اور معمولات ایمان کے تابع ہوجاتے ہیں۔

اس بنیادی بات کو قلب و زہن میں راسخ کرلینے کے بعد اب آتے ہیں، مصروف زندگی اور پانچ وقت کی نماز کی پابندی کی بات پر۔ دیکھیے اللہ کے رسول (ﷺ) نے نماز کو دین کا ستون بتایا ہے، اور کوئی بھی عمارت بغیر ستونوں کے زمین پر کھڑی نہیں رہ سکتی، یہی معاملہ نماز کا بھی ہے، نماز کے اہتمام میں کوتاہی کا مطلب دین کی عمارت میں کمزوری۔ اور ترکِ نماز کے معنی دین کی ساری عمارت کو دھڑام سے گرادینے کے مترادف ہے۔ نماز کی ادائیگی پرجہاں بے شمار فضائل احادیث میں وارد ہیں، وہیں بہت سی وعیدیں بھی ترکِ نماز پر اہلِ ایمان کو بتائی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   علمِ عَروض سبق ۴

اس اعتبار سے اوّل تو ہمیں اپنی زندگی کے مقاصد کا تعین کرنا ہے، جب مقصد اللہ کی رضا و آخرت کی کامیابی بن جائے گا تو اپنے آپ تمام معمولاتِ زندگی نماز اور اللہ کی رضا ہی کے اردگرد گھومنے لگیں گے۔

مصروفیت ہر ایک کے آگے آڑے آتی ہے، ہمارے آگے بھی آئے گی، ۔مصروفیت ترک نہیں کرنی، بس مؤخر کردینی ہے، اللہ کے حکم کو اوپر کرلیجے، اپنے تقاضوں کو نیچے۔

اب ہمیں چوبیس گھنٹے کی مصروف زندگی میں پانچ وقت کی نماز نہیں ادا کرنی، بلکہ، پنج وقتہ
نمازی زندگی میں چوبیس گھنٹے کا کام کرنا ہے۔

(58 مرتبہ دیکھا گیا)

سید اسرار احمد

سید اسرار احمد ایک متحمل اور بردبار شخصیت کے مالک ہیں۔ ان کی تحریروں میں علمی اور فکری بالیدگی نمایاں ہوتی ہے۔ ان سے جڑے رہیں۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں