ننگا مصافحہ

"آپ کو سمجھنا اور برداشت کرنا میرے فرائض منصبی میں شامل ایک غیر منصبی فرض ہے۔"

کلاس میٹ کو یہ جملہ میں بطور سلام کے پیش کرتا تھا۔ وہ اس جملے سے اتنا سرگشتہ نہ ہوتا جتنا میرے مصافحہ کے لیے بڑھے ہوئے "ننگے" ہاتھ کو دیکھ کر آپے میں نہ رہتا۔

ماضی کے وقوعوں، کثیفوں اور لطیفوں میں سے یاد رہ جانے والا یہ واقعہ اب سے ٹھیک پندرہ سال قبل کا ہے۔

وہ صاحب میرے ہم درس، ہم مکتب اور ہم نشست تھے۔ کافی شریف النفس اور کافی سے کچھ زیادہ درشت مزاج تھے۔ مادر علمی کی طلبہ کے لیے مرتب تبلیغی ترتیب کے تحت ہفتہ واری چوبیس گھنٹوں کی جماعتوں میں بالالتزام شرکت فرمایا کرتے۔ جماعت میں ان کا تعامل اور ہر ہما و شما و کہ و مہ سے بدخوئی دیکھ کر اساتذہ نے ان کو اصلاح احوال کے لیے بیعت ہونے کا مشورہ دیا۔

یہ بھی پڑھیں:   تین اشعار پر تعمیری تنقید - شاد مردانوی

حضرتِ والا بننے کی راہ پر گامزن ہونے کے ٹھیک سترھویں دن ان صاحب نے درسگاہ میں میرا مصافحہ کے لیے بڑھا ہوا ہاتھ نظر انداز کرکے زبانی مسالمہ پر اکتفاء فرمایا۔ یہی سمجھا کہ کسی بات پر لمحاتی اشتعال اور وقتی ابال ہوگا۔

سراسیمگی نے تب جڑیں مضبوط کی جب اگلی اور تگلی بار انہوں نے ہاتھ تو ملایا لیکن اپنے ہاتھ کے گرد کاندھے کا رومال لپیٹ کر۔۔

بڑی دماغی تگ و دو اور لسانی کدو کاوش کے بعد ہم پر یہ عقدہ ایماں گسل کھلا کہ موصوف کو پیر جی نے امرد پرستی کے سد ذرائع کے طور پر بے ریش لڑکوں کے ننگے مصافحے سے منع فرمایا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   علمِ عَروض سبق ۷

اس الجھاؤ کی سلجھن کھوجتے ہمیں زندگی میں پہلی بار امرد پرستی کا لفظ سننے کو ملا اور پہلی بار اس معنی سے آشنا ہوئے۔ جو نہ بیعت ہونے سے قبل ہمارے ہم نشست کے علم میں تھے اور نہ ہی خود ہمارے علم میں۔

ہمیں تو گویا ان کی چڑ ہاتھ لگ گئی۔ پورا دن درسگاہ میں کبھی ان کے ہاتھ سے اپنا ننگا ہاتھ مَس کرتے تو کبھی پاؤں۔

نتیجہ یہ رہا کہ کچھ عرصے بعد باوثوق ذرائع سے علم ہوا کہ حضرت ذہنی پریشانی کے سبب کم خوابی اور سلس البول کا شکار ہوگئے۔

حاصل یہ رہا کہ جاری بحث کا منصفانہ جائزہ اس پہلو کے اقرار کی طرف لے جاتا ہے کہ بزورِ وفورِ شہوت ہر گولائی، مخروطی اور لمبائی میں شہوانیت ثابت کرنا بھی دین کی خدمت اور حیا کے لوازمات میں سے نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   مرد کی حساسیت

اور جہاں فطرت اپنے معمول کے مطابق شہوت دیکھتی ہے وہاں عریانیت کا انکار بھی مردانگی اور معاشرے کی اساسی اقدار کی کھلی خلاف ورزی ہے۔۔

(638 مرتبہ دیکھا گیا)

شاد مردانوی

جنابِ شاد کے لیے اگر یہ کہا جائے کہ وہ چلتی پھرتی لغت ہیں تو شاید غلط نہ ہوگا۔ ان کی اردو در اصل اردو نہیں بلکہ معرب و مفرس کسی ماورائے اردو شئے کی تارید کہی جاسکتی ہے۔ علم دوست ہونے کے ساتھ ساتھ منکسر المزاج بھی ہیں اور مطالعے کو اوڑھنا بچھونا رکھتے ہیں۔ ان کی ہنر کاری ان کی تحریروں سے عیاں ہے۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

3 تبصرے

  1. Tariq Siraj says:

    کمال ھے اس کی جگہ میں ھوتا تو قمیض اتار کر گلے ملتا ......

  2. محمد نعمان بخاری says:

    شاد بھائی جب بھی لکھتے ہو بس کمال کرتے ہو.

تبصرہ کریں