نومولود بچے اور ناف کی حفاظت

پیدائش کے لے کر 28 دن تک کی عمر کے بچوں کو نومولود کہا جاتا ہے۔ پاکستان میں نومولود بچوں کی موت کا تناسب ابھی تک بہت زیادہ ہے۔ یعنی ہر 1000 زندہ پیدا ہونے والے نومولود میں سے 55 موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس طرح ہر سال پاکستان میں 202,000  بچے 28 دن کی عمر پوری ہونے سے پہلے موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔

ان نومولود بچوں کی اموات کے کافی اسباب ہیں جنہیں روکا جاسکتا ہے یا جن کا علاج کیا جاسکتا ہے، جس میں انفیکشن، زچگی کے دوران پچیدگیاں، قبل از وقت پیدائش کے وقت کی پیچیدگیاں وغیرہ شامل ہیں۔

یہ تحریر بھی پڑھیں    icon-hand-o-left    خواتین کے لیے متوازن غذا

انفیکشن میں نمونیا ۔ اسہال (دست) ، سیپسز (Sepsis) یعنی خون کا انفیکشن، گردن توڑ بخار، ناف کا انفیکشن۔ ٹیٹنس (Tetanus) یعنی جھٹکوں کی بیماری وغیرہ۔

ناف کا انفیکشن

بچے کی پیدائش کے بعد بچے کی ناف انفیکشن کے جسم میں داخل ہونے کا سب سے آسان ذریعہ ہوتی ہے۔ انفیکشن ناف سے جسم میں داخل ہوکر سیپسز کا باعث بنتا ہے اور آخر کار بچے کی موت کا سبب بن جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   دودھ پلانے میں ماں کے مسائل

پیدائش کے بعد ناف کی حفاظت کے لیے کیا لگایا جائے؟

معاشرے کا جائزہ لیا جائے تو دیکھا گیا ہے کہ مختلف علاقوں میں ناف پر کچھ لگانے کی مختلف رسوم ہیں لوگ ناف کو جلدی ٹھیک کرنے کے لیے سرمہ، تیل، گھی، یہاں تک کہ گوبر تک لگاتے ہیں یہ تمام چیزیں ناف کے لیے انتہائی نقصان دہ ہیں اور اس سے بجائے فائدے کے انفیکشن ہونے کے چانسز زیادہ ہوتے ہیں۔

پڑھے لکھے لوگ ڈیٹول اور سپرٹ بھی لگاتے ہیں۔

کلورہیگزیڈین - Chlorhexidine ( ناف مرہم) کا تعارف اور اہمیت

٭ یہ ایک جراثیم کش دوا ہے۔

٭ یہ مرہم ناف کے استعمال کے لیے ہے اور ناف کے کٹنے کے فوراً بعد ناف اور اس کی آس پاس کی جگہ پر لگائی جاتی ہے۔

٭ اس کا استعمال ڈیٹول یا اسپرٹ کے مقابلے میں زیادہ عرصے تک (24-48 گھنٹے)  تک جراثیم سے بچنے میں مدد دیتا ہے۔

٭ دن میں ایک مرتبہ استعمال کرنا ہوتا ہے سات دن یا پھر ناف کے گرنے تک (جو بھی پہلے ہو جائے)۔

٭ اس کے استعمال کے کوئی بھی قابلِ ذکر ضمنی اثرات (Side Effects) نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   خواتین کے لیے متوازن غذا

٭ یہ استعمال میں آسان ہے۔

٭ اس کے استعمال سے دوسری روایتی ناف پر لگانے والی چیزوں کے استعمال سے بچا جاسکتا ہے۔

کلورہیگزیڈین ( ناف مرہم) کے استعمال کا طریقہ کار

٭ مرہم لگانے سے پہلے اپنے ہاتھ بہت اچھی طرح دھولیں۔

ہاتھ دھونے کا طریقہ ان تصاویر سے سیکھیں۔

ہاتھ دھونے کا طریقہ

٭ مرہم میں سوراخ کرنے کے لیے دھکن کے الٹی طرف کا حصہ استعمال کریں۔

٭ مرہم لگانے سے پہلے یقین کرلیں کہ بچہ پوری طرح گرم ہے اور ناف کے علاوہ پورا جسم کپڑے سے ڈھانپا ہوا ہے۔

٭ ناف پر مرہم ڈالیں اور شہادت کی انگلی سے اسے ناف سے ملحقہ پیٹ کے حصوں پر پھیلا دیں۔

٭ مرہم کو خشک ہونے میں دو سے تین منٹ لگتے ہیں اسے باریک کپڑے سے ڈھانپ دیں۔

کلورہیگزیڈین ( ناف مرہم) کے فوائد

٭ یہ انفیکشن سے بچاتی ہے اور انفیکشن شروع ہونے سے پہلے کام شروع کرتی ہے۔

٭ استعمال میں آسان ہے کوئی طبی کارکن یا گھر کے افراد بشمول ماں لگا سکتی ہے شرط صرف یہ ہے کہ ہاتھ اچھی طرح دھو لیے جائیں۔

٭ اسے رکھنے کے لیے کسی خاص چیز فرج وغیرہ کی ضرورت نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   دنیا میں آکے خلد کے مہمان بٹ گئے

٭ یہ محفوظ دوا ہے اور ترقی یافتہ ممالک میں ناف کی کی حفاظت کے لیے چالیس سال سے استعمال کی جارہی ہے۔

٭ یہ بچوں کو موت سے بچاتی ہے۔

کلورہیگزیڈین ( ناف مرہم) کہاں دستیاب ہے؟

یہ مرہم صرف سرکاری ہسپتالوں اور لیڈی ہیلتھ ورکر کے پاس دستیاب ہے اور مفت فراہم کی جاتی ہے۔

یاد رکھیں

زچگی ہمیشہ کسی زچگی کی ماہر سے کروائیں۔ دائی سے نہ کروائیں۔ زچگی جس جگہ پر ہو وہ صاف ہونی چاہیے جو زچگی کروائے وہ اور اس کے ہاتھ صاف ہوں۔ زچگی کے دوران جو اوزار استعمال ہوں صاف ہوں ناف کاٹنے کے لیے نیا بلیڈ استعمال کیا جائے اور دھاگے کے بچائے صاف ستھرا کارڈ کلیمپ استعمال کریں جو کسی بھی میڈیکل اسٹور پر انتہائی سستا دستیاب ہوتا ہے

(205 مرتبہ دیکھا گیا)

ڈاکٹر سید عطاء المصطفی

ڈاکٹر سید عطاء المصطفی

ڈاکٹر سید عطاء المصطفی ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں۔ سندھ ضلع سانگھڑ میں رہائش پذیر ہیں اور بیسک ہیلتھ ہونٹ کے انچارج کے طور پر تعینات ہیں۔ وہ ڈاکٹر ہونے کے ساتھ ادب دوست انسان ہیں اور فارغ اوقات میں شعر و شاعری پر بھی کرتے ہیں۔ اردو سرائے پر ان کی طب کے حوالے سے تحریریں شائع کی جاتی ہیں جو کہ طب اور صحت کے زمرے میں کلک کرکے پڑھی جاسکتی ہیں۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں