نیار خلجانی

وہ میں تھا۔میرا اپنا مہاندرہ ایک جداگانہ سروپ میں، میرے گِل و خارا سے متمیز ایک جداگانہ تشخص کے ساتھ میرے دائرۂ نگاہ کے محیط کے اندر دکھتا تھا۔

وہ "میں" کیوں تھا۔؟
وہ "تم" بھی تو ہوسکتا تھا۔۔
وہ، "وہ" بھی تو ہوسکتا تھا۔۔۔

میرا اس کا "میں" ہونے پر غیز متزلزل وشواس نہ ہوتا۔ اگر اب سے کئی ورش پیچھے جب میرے دودھ کے دانتوں کا سولہواں دانت اپنی نیو چھوڑ چکا تھا۔ اور درد کی ٹیسیں مجھے بولاتی تھی۔ اس شب کے کربناک ثانیوں میں وہ پہلی بار میرے اندر سے نکل کر میرے سامنے بیٹھا تھا۔
میرے حافظے کے صندوق میں وہ رات اب بھی کسی سگھڑ بی بی کے ہاتھوں سے تہ کی ہوئی یادوں کے پارچوں کے نیچے، نچلی تہ میں محفوظ ہے۔
اس رات اس نے مجھ سے مجھے روشناس کرایا تھا۔ وہ میرا وجدان تھا۔
میں جو کہ شدتوں اور جنون کے گارے سے تخلیق ہوا تھا۔ غصے سے بھرا ہوا، اپنے تن و توش میں آگ کی سرخ اور نیلی لپٹوں کو لئے ہوئے تھا۔ وہ میرا ہمزاد تھا. میں نے اس کو ایک نام دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   علمِ عَروض سبق ۹

نیار خلجانی

نیار آگ کی تیزی کا نام ہے۔ اور خلجان میرے، "میرے ہونے کا" ایک مستقل جواز۔

وہ میرا سنگی بنتا۔ جب کوئی سنگ نہ ہوتا۔ جب سنگت نہ ہوتی تب وہ سریلے سروں کا سنگیت میرے سرِ بالیں چھڑنے میں سرگرم ہوتا۔
وہ میرے تخلیق کے لمحوں کا کاتب تھا۔
دکھ کے پھیر میں آتا تو وہ میرے نین کیلئے ایسے اشک مہیا کرتا جو اچنت تو کرتے لیکن دکھ نہ مٹاتے۔ دکھ تخلیق کا اثاثہ ہے۔ نیار خلجانی یہ بات سمجھتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   جب خواہش مرتی ہے

(144 مرتبہ دیکھا گیا)

شاد مردانوی

جنابِ شاد کے لیے اگر یہ کہا جائے کہ وہ چلتی پھرتی لغت ہیں تو شاید غلط نہ ہوگا۔ ان کی اردو در اصل اردو نہیں بلکہ معرب و مفرس کسی ماورائے اردو شئے کی تارید کہی جاسکتی ہے۔ علم دوست ہونے کے ساتھ ساتھ منکسر المزاج بھی ہیں اور مطالعے کو اوڑھنا بچھونا رکھتے ہیں۔ ان کی ہنر کاری ان کی تحریروں سے عیاں ہے۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں