والدین اور اولاد میں فرق

پرانے وقتوں کی بات ہے کہ ایک لڑکا اپنے باپ کے کا ساتھ کسی لمبے سفر پر روانہ ہوا۔ اس زمانے میں گاڑیوں اور سڑکوں کی جدید سہولت دستیاب نہ تھی۔ زیادہ تر سفر گھوڑوں اونٹوں پر یا پیدل ہی کیا جاتا تھا۔ سفر کے دوران ایک جگہ باپ بیمار ہوا اور مر گیا۔ بیٹے نے کچھ افراد کی مدد سے وہیں پر اپنے باپ کی نماز جنازہ ادا کی اور راستے کے قریب ہی دفن کر دیا۔ چند سالوں کے بعد بیٹے کا دوبارہ اسی راستے پر گزر ہوا۔ جب وہ اپنے باپ کی قبر کے قریب پہنچا تو پتہ چلا کہ قبر کی طرف جانے والا راستہ بند ہو چکا ہے۔ درمیان میں ایک دریا بہتا تھا۔ قبر پر جانے کے لیے ایک لمبا چکر کاٹنا پڑتا تھا۔ بیٹے کو آگے روانہ ہونا تھا لہذا اس نے دور سے ہی باپ کی قبر کا رخ کرکے اس کے لیے مغفرت کی دعا مانگی۔
دعا سے فارغ ہو کر ابھی وہ رخصت ہونے ہی والا تھا کہ ایک بوڑھے آدمی کا وہاں سے گزر ہوا۔ اس نے نوجوان سے پوچھا کہ تم یہاں کھڑے ہو کر کیوں دعا مانگ رہے ہو؟ نوجوان نے بتایا کہ اس دریا کے پار سامنے میرے باپ کی قبر ہے۔ میں اس کی قبر پر چانا چاہتا تھا لیکن قریب کا راستہ بند ہو جانے کی وجہ سے وہاں نہیں جا سکا۔ اس لیے یہیں کھڑے ہو کر ہی اپنے باپ کے لیے دعا کی ہے۔ بوڑھے آدمی نے کہا کہ وہ تمہارا باپ تھا اس لیے تم تھوڑا لمبا سفر کرکے اس کی قبر پر نہیں جا سکے۔ لیکن خدا کی قسم اگر اس کی جگہ تم مر جاتے اور تمہارا باپ یہاں آتا تو چاہے کتنا ہی لمبا چکر کیوں نہ کاٹنا پڑتا وہ ضرور تمہاری قبر پر جاتا۔

یہ بھی پڑھیں:   دعا سیریز 4: (مختصر درود و سلام)

یہ محض ایک قصہ نہیں بلکہ اس میں دو نسلوں کے تعلق کا راز پوشیدہ ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اولاد کی نسبت ہمیشہ والدین اپنی اولاد سے زیادہ محبت کرتے ہیں۔ ان کی محبت میں خلوص، بے لوثی اور والہانہ پن ہوتا ہے۔ وہ اپنی اولاد کی ذمہ داریاں، بوجھ اور ان کی ڈیمانڈز خوشی خوشی پوری کرتے ہیں۔ اپنی خواہشات کو قربان کرکے اولاد کی خوشی خریدتے ہیں۔ اپنا سکون برباد کرکے اولاد کو سکھی رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اپنی پوری زندگی اولاد کی خواہشات کی تکمیل میں گزار دیتے ہیں۔ اور اگر ان کی زندگی میں ان کی اولاد میں سے کوئی وفات پا جائے تو اس کا صدمہ ان کے لیے بڑا ہی بھاری ہوتا ہے۔

جبکہ اولاد کی محبت والدین کے ہم پلہ نہیں ہو سکتی۔ یہ شاید فطری بھی ہے کہ اوپر سے نیچے کی نسل کی طرف محبت کی شدت زیادہ ہوتی ہے۔ اولاد کتنی بھی فرمانبردار اور خیال رکھنے والی کیوں نہ ہو، محبت کی وہ مقدار والدین کو کبھی دے ہی نہیں سکتی جو والدین نے بچپن میں انہیں دی تھی۔ اولاد کی محبت میں احترام اور عقیدت اور والدین کی خیر خواہی کا جذبہ تو بدرجہ اتم موجود ہو سکتا ہے۔ لیکن وہ والہانہ پن کبھی پیدا نہیں ہو سکتا جو ایک باپ یا ماں کا اپنے بیٹی یا بیٹے کے لیے ہوتا ہے۔ اسی لیے اولاد والدین کی موت کی صورت میں جدائی کو آسانی سے برداشت کر لیتی ہے یا شاید کسی حد تک ذہنی طور پر اس کے لیے تیار بھی ہوتی ہے۔ اولاد اگر چاہے بھی تو والدین کا وہ خیال نہیں رکھ سکتی جیسا خیال والدین بچپن میں رکھتے ہیں۔ وہ برداشت اور محبت بھرا برتاؤ اور ہر اوٹ پٹانگ سوال اور ضد کے سامنے شفقت بھرا سلوک صرف والدین ہی کا خاصہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کراچی آپریشن - ایک تاثر

اللہ تعالیٰ نے اسی فطری فرق کی بدولت ہی والدین کو حقوق العباد میں سب سے بلند مقام پر فائز کیا ہے۔ اور اپنے حقوق کے ساتھ ہی والدین سے حسن سلوک کا حکم دیا ہے۔ یقینا اولاد وہ اپنائیت جو اسے والدین کی طرف سے ملی تھی اسے ہر گز لوٹا نہیں سکتی۔ اسی لیے اللہ نے یہ بھی سکھایا ہے کہ والدین کے سامنے ادب سے سر جھکائے رکھو، ان کے سامنے اُف تک نہ کرو۔ اور یہ دعا کرتے رہو کہ اے اللہ ان پر اسی طرح رحم کرنا جیسا انہوں نے مجھ پر بچپن میں کیا تھا۔ اللہ کے رسول ﷺ نے ایک بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے تاریخی الفاظ فرمائے کہ تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے۔ اور یہ بھی فرمایا کہ جنت ماؤں کے قدموں تلے ہے۔
یعنی اولاد کو چاہیے کہ وہ نہ صرف والدین کی بھرپور فرمانبرداری کرے بلکہ یہ احساس بھی رکھے کہ میری یہ ساری خدمت اور کوشش نہایت حقیر ہے۔ اور والدین کا حق تو ادا نہیں ہو سکتا۔ اس لیے اس کی کمی پوری کرنے کے لیے دعا کا سہارا لے کہ اے پروردگار میں جب ناتواں اور محتاج تھا اس وقت تو سنے مجھے والدین جیسی قیمتی نعمت دی۔ یہ ممکن نہیں کہ میں ان سے ویسا برتاؤ کروں لہٰذا تو ان پر ایسا ہی رحم فرما جیسا وہ مجھ پر بچپن میں کیا کرتے تھے۔ اولاد کی فرمانبرداری ، اطاعت ، خدمت اور ادب میں یہ احساس اور دعا شامل ہو تب ہی والدین کی الفت و محبت کا کچھ حق ادا ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   نماز میں بھگدڑ

(98 مرتبہ دیکھا گیا)

یاسر غنی

یاسر غنی

یاسر غنی صاحب سائنس کے شعبے نباتیات میں ماسٹرز ہیں۔ فی الحال ایک کالج کے پرنسپل ہیں اشاعت و بلاغت میں سر گرم ہونے کے ساتھ مطالعے کو اپنا مشغلہ رکھتے ہیں۔ اور لوکل اخبارات میں "نشانِ منزل" کے عنوان سے کالم بھی لکھتے رہتے ہیں۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں