وحشی اسے کہو جسے وحشت غزل سے ہے:: بشیر بدر

غزل
(بشیر بدر)

وحشی اسے کہو جسے وحشت غزل سے ہے
انساں کی لازوال محبت، غزل سے ہے


ہم اپنی ساری چاہتیں قربان کر چکے
اب کیا بتائیں، کتنی محبت غزل سے ہے


لفظوں کے میل جول سے کیا قربتیں بڑھیں
لہجوں میں نرم نرم شرافت، غزل سے ہے


اظہار کے نئے نئے اسلوب دے دیے
تحریر و گفتگو میں نفاست غزل سے ہے


یہ سادگی، یہ نغمگی، دل کی زبان میں
وابستہ فکر و فن کی زیارت غزل سے ہے


شعروں میں صوفیوں کی طریقت کا نور ہے
اردو زباں میں اتنی طہارت غزل سے ہے


اللہ نے نواز دیا ہے تو خوش رہو
تم کیا سمجھ رہے ہو، یہ شہرت غزل سے ہے

(21 مرتبہ دیکھا گیا)

مزمل شیخ بسمل

سلجھا ہوا سا فرد سمجھتے ہیں مجھ کو لوگ الجھا ہوا سا مجھ میں کوئی دوسرا بھی ہے

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

1 تبصرہ

  1. ندیم مراد says:

    بہترین غزل

تبصرہ کریں