وقت کا طلسم اور عبادات

انسان جس دائرے یا بھنور میں ہمہ وقت گھوم رہا ہے وہ وقت ہے۔ زمین پر گزرنے والا ہر لمحہ نظامِ شمسی کے عظیم الشان نظم میں جکڑا ہوا ہے۔ یہ انسان کے اطراف پھیلا ہوا اور اس کی زندگی میں انتہائی درجے کی سرائیت رکھنے والاسب سے پراسرار اور غیر مرئی عنصرہے جس پر انسان کا ذرّہ برابر بھی اختیار نہیں۔ انسان کی زندگی کےتمام اعمال اسی گزرتے وقت کے تئیں انجام پذیر ہوتے ہیں۔ انسان نہ وقت کو آگے کرسکتا ہے اور نہ پیچھے بلکہ وقت ہی اس کو اپنے ساتھ دھکیلتا چلتا ہے۔

کیا کبھی آپ نے سوچا کہ یہ وقت کیا ہے اورکیوں آتا ہے؟
میرے خیال میں عموماً ایسا کوئی نہیں سوچتا۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ہم نے اس کو لاشعوری طور پر ایک فطری اور لازمی وقوعہ کی حیثیت سے قبول کرلیا ہے۔ ہم اپنے تمام معاملات اسی وقت کے پیرائےمیں پروتے رہتے ہیں اور اسطرح ہمارے تمام افعال لاشعوری طور پر وقت کے متعیّن بہاؤ کو ایک فطری حقیقت کے طور پر قبول کرتے ہوئے انجام پذیر ہوتے ہیں۔ بغیر جانے کہ وقت کیا ہے اور کیوں آتا ہے۔

یہ تحریر بھی پڑھیں  icon-hand-o-left  انسان اور نظریۂ حیات

سائنس تو کسی ایسی قوّت کو فی الوقت نہیں مانتی جو اس نظام کو کنٹرول کررہی ہو بلکہ زیادہ سے زیادہ یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ کشش ثقل اور زمین کی گردش کی وجہ سے دن رات بنتے ہیں۔ لیکن بات وہیں پر آجاتی ہےکہ وقت پر انسان کا اختیار کتنا ہے؟ جو کہ بظاہر صِفر ہے۔ یہ بات واضح رہے کہ آج تک کسی سائنسداں یا سائنسی گروپ نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ وہ وقت کو کنٹرول کرسکتے ہیں یا اس کو ٹہرا سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   چائے کے کپ سے موبائل فون چارج

اب آئیے دنیا کے چیدہ مذاہب کی طرف جو ایک خدا کومانتے ہیں، ان تمام مذاہب میں کسی نہ کسی طرح کا عبادات کا نظام الاوقات تو ہے لیکن اسلام واحد ہے جس میں عمومی عبادات زیادہ تعداد میں اورسختی کے ساتھ وقت ساتھ منسلک ہیں۔ جیسے نماز جو ہر دن کم از کم پانچ دفعہ معیّن اوقات میں ادا کرنی ہوتی ہے۔ عبادات کا یہ ایک مربوط نظام ہے جو طویل عرصے سے جاری ہے۔ صبح صادق سے رات تک روزآنہ پانچ مختلف اوقات میں نماز تقریباً ڈیڑھ ہزار سال سے ادا ہورہی ہیں۔ فرض عبادات کے علاوہ نوافل کے اوقات بھی سورج کے مقام اور اترنے اور چڑھنے سے منسلک ہیں۔ چوبیس گھنٹوں میں تہجّد کو ملا کر چھ نمازوں کا گزرتے وقت کے اندر انعقاد بظاہر معمول کی بات ہے کیونکہ ہم اسکے عادی ہیں لیکن درحقیقت اس نظم میں کسی بھی ایمان کے لیئے خطرے کا عنصر بھی بہت زیادہ ہے۔ گردش ِ لیل و نہار میں ذرا سی لغزش مسلمان کے ایمان کا امتحان بن جاتی۔

یہ بھی پڑھیں:   مدیر با الجبر

اسلامی عبادات کا اس باریکی سے متعیّن اوقات میں لازم کرنادراصل خالق کی زبردست قدرت کا اظہارہے کہ ڈیڑھ ہزار سال میں ایک بھی نماز کا وقت آگے پیچھے نہیں ہوا۔ اگر دن رات کی یہ گردش آج بھی تبدیل ہوتی ہے تو نہ جانے کتنے مسلمان اپنا ایمان کھو دیں، لیکن یہی تو اللہ کی قدرت ہے خواہ آپ اسے کشش ِثقل، نظام شمسی یا فطری قوّتوں کا پرتو کہیں۔ بات وہیں پر آتی ہے کہ وقت کے بہاؤ میں اتنے قریب قریب اور ہمہ وقت منظم طریقے پر عبادات کا مسلسل ادا ہونا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ خالق نے عبادات کو سورج اور چاند کی منزلوں پر موقوف اسی لیئے کیا ہے کہ رواں وقت اُس زبردست اور لامحدود ہستی کی گرفت میں ہے جس میں تبدیلی کوئی نہیں کرسکتا۔

یہ بھی پڑھیں:   راستے روکنے کا کفر

یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ نے رات اور دن کے آنے جانے کو اپنی نشانی قرار دیا ہے۔

اب ایک حدیث ِ قدسی کا ذکر دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا :
اللہ تعالیٰ نے کچھ اس طرح فرمایا:
”انسان مجھ کو بُرا کہتاہے جب وہ وقت کوکوستا ہے کیونکہ میں وقت ہوں اور میرے قبضہ قدرت میں ہی دن اور رات کا تبدیل کرنا ہے۔“
لیکن ان گزارشات کو پڑھنے کے بعد بھی کیا آپ واقعی جان سکے کہ وقت کیا ہے؟
ہر شام اندھیرا کیوں ہوتا ہے؟
صبح روشن کیوں ہو جاتی ہے؟
یہ اندھیرے اور روشنی کا نظام ہم پر کیوں طاری ہوتا ہے؟
کیا ہم اس نظام سے نکل سکتے ہیں؟
ذرا غور کیجئے !

(90 مرتبہ دیکھا گیا)

مجیب الحق حقی

مجیب الحق حقی

جناب مجیب الحق حقّی پی آئی اے کے سابقہ آفیسر ہیں۔ اسلام، جدید سائنس اور الحاد کے موضوع پر ان کی کتاب ”The Divine Whispers“ حال ہی میں انگریزی زبان میں شائع ہوئی ہے جس کا اردو ورژن بھی طباعت کے مراحل میں ہے۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں