ٹھگ بھائیوں سے گزارش

عطاء الحق قاسمی نے ایک کالم چوروں کی فضیلت پر لکھا ہے۔ اس میں انہوں نے ان پرانے چوروں کی کمی کا شدت سے احساس کیا جو نہایت چپکے سے گھر والوں کو نقصان پہنچائے بغیر حتیٰ کہ ان کی نیند بھی خراب کیے بغیر اپنی ضرورت کا سامان چرا لیتے تھے۔ ان کے بقول موجود مار دھاڑ کے کلچر سے وہ پرانے چور لوگوں کو نہایت شدت سے یاد آنے لگے ہیں۔

زیر نظر تحریر بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اکثر آپ نے سنا ہو گا کہ سڑک کنارے کوئی راہگیر رات کے اندھیرے میں پریشان کھڑا ہے۔ گزرنے والے نے انسانی ہمدردی کے تحت لفٹ دی۔ اور راہگیر نے اسے ساتھیوں سمیت لوٹ لیا۔ یا پھر کوئی آپ کے پاس آیا اور اپنی ایسی کہانی بیان کی کہ آپ کو ترس آ گیا لیکن بدلے میں آپ لٹ گئے۔

ایسا ہی ایک واقعہ عالم کی عرب کی سب سے بڑی اسلامی تحریک اخوان المسلمون کے بانی حسن البنا شہید کے ساتھ پیش آیا۔ وہ ایک مقدمے کی پیروی کے سلسلے میں ایک دوسرے شہر جا رہے تھے۔ رات کا سفر کرتے ہوئے ایک ویران جگہ سے گزر رہے تھے کہ ایک کار کے پاس ایک پریشان حال شخص کھڑا نظر آیا۔ آپ نے ڈرائیور کو کہا کہ گاڑی روک دو۔ ڈرائیور نے جواب دیا کہ یہ نہایت خطرناک علاقہ ہے۔ یہ ضرور لوٹنے کی کوئی چال ہو گی۔ لیکن انہوں نے ڈرائیور سے یہ کہا کہ ہو سکتا ہے کہ کسی کو ہماری ضرورت ہو لہٰذا گاڑی روک دو۔ گاڑی رکنے پر آپ خود اتر کر اس شخص کے پاس گئے۔ پتہ چلا کہ اس کی کار کا ٹائر پنکچر ہو چکا ہے۔ آپ نے خود ساتھ ہو کر ٹائر تبدیل کروایا۔ اس شخص نے شکریہ ادا کیا اور حسن البنا وہاں سے روانہ ہو گئے۔ صبح عدالت میں پیش ہوئے تو دیکھا کہ جج وہی شخص تھا جس کی رات کو انہوں نے مدد کی تھی۔ جج نے بھی ان کو پہچان لیا اور ان پر قائم جھوٹا مقدمہ فوراً خارج کر دیا۔
لیکن ہر کہانی کا انجام ایسا نہیں ہوتا۔ جرائم کی ایسی وارداتوں میں عورتوں کو بھی شامل کر لیا گیا ہے۔ اور نہایت ہی چالاکی سے ہدف کو پھانس لیا جاتا ہے۔ نیکی اور ہمدردی کے جذبات ابھار کر کی جانے والی وارداتوں کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ لوگوں کا مظلوموں ، ضرورت مندوں اور بے بسوں پر سے اعتماد اٹھ گیا ہے۔ اب مدد کرنے والا سو بار سوچتا ہے کہ کہیں اس کے پیچھے کوئی چال ہی نہ ہو۔ اور وہ مدد کرنے کے شوق میں الٹا پھنس ہی نہ جائے۔

یہ بھی پڑھیں:   کن فیکون اور تخلیقِ عالم

شہروں میں لوگ خصوصا بہت محتاط ہو گئے ہیں جہاں لوگ زیادہ تر ایک دوسرے کو جانتے نہیں ہوتے۔ راتوں کو سفر کرتے ہوئے کوئی دوسرے کے لیے نہیں رکتا چاہے کوئی کسی بھی مشکل میں پھنس جائے۔ اس بداعتمادی کی سب سے بڑی وجہ نیکی کے روپ میں وارداتیں ہیں۔ اسی احساس کو پیش نظر رکھتے ہوئے میری ملک بھر کے ٹھگ بھائیوں، چوروں اور ڈکیتوں سے گزارش ہے کہ اپنی وارداتوں کے لیے دوسروں کے نیکی کے جذبے کا سہارا نہ لیں۔ آپ کے اس عمل سے نیکی مر جائے گی۔ لوگ ضرورت مندوں کی مدد کرنا چھوڑ رہے ہیں اور مزید اس سے دور ہو جائیں گے۔ آپ لوگوں کو ایک گناہ تو جرم کرنے کا ملتا ہے لیکن نیکی کی آڑ میں گناہ اور نیکی سے اعتماد کا اٹھ جانا اس سے بڑا گناہ اور معاشرے کے لیے نہایت خطرناک ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   احیائے امت - ماضی ، حال اور مستقبل

لہٰذا کھل کر سامنے آئیں۔ یا تو نہایت چھپ کر چوری کریں۔ یا پھر ڈنکے کی چوٹ پر واردات کریں۔ اب قانون کے اندر جان ہوئی تو آپ کو پکڑ لے گا۔ بچنا ہوا تو بچ جائیں گے۔ اور آخرت کے اندر تو آپ اس کے سوا نہیں بچ سکتے کہ سچے دل سے توبہ کرکے اس قباحت سے باز آ جائیں۔

(68 مرتبہ دیکھا گیا)

یاسر غنی

یاسر غنی

یاسر غنی صاحب سائنس کے شعبے نباتیات میں ماسٹرز ہیں۔ فی الحال ایک کالج کے پرنسپل ہیں اشاعت و بلاغت میں سر گرم ہونے کے ساتھ مطالعے کو اپنا مشغلہ رکھتے ہیں۔ اور لوکل اخبارات میں "نشانِ منزل" کے عنوان سے کالم بھی لکھتے رہتے ہیں۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں